عبید اللہ بن عباس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبید اللہ بن عباس
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 622  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 705 (82–83 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عباس بن عبد المطلب  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ لبابہ بنت حارث  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
بھائی فضل بن عباس عبد اللہ بن عباس قثم بن عباس

عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب ہاشمی قریشی

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام عبید اللہ ہے۔

آپ کی پیدائش 12 نبوی میں ہوئی۔

آپ اپنے بھائی حضرت عبد اللہ بن عباس سے ایک سال چھوٹے تھے۔

آپ کے والد کا نام عباس بن عبد المطلب ہے۔

آپ کی والدہ کا نام ام فضل لبابہ بنت حارث یے۔

آپ کی والدہ اسلام لانے والی دوسری خاتون ہے۔

آپ کے والد عباس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سگے چچا تھے۔ اس طرح آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔ آپ اُم المومنین میمونہ بنت حارث کے خواہر زاد بھائی تھے کیونکہ آپ کی والدہ اُم الفضل اور میمونہ بنت حارث حقیقی بہنیں تھیں۔[1]

آپ کی بیٹی لبابہ عباس بن علی کی زوجہ بنی۔

بچپن[ترمیم]

امام حاکم نے اپنی مستدرک میں لکھا ہے کہ

عباس بن عبد المطلب کو اپنی اولاد میں سے عبید اللہ سب سے زیادہ محبوب رکھتےتھے۔

محمد کو اپنے چچا حضرت عباس کے بچوں سے بہت محبت تھی۔

اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر نہایت شفقت فرماتے تھے۔

با رہا ایسا ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبد اللہ بن عباس عبید اللہ اور کثیر بن عباس کو بلایا اور ان سے فرمایا بچو! تم میں سے جو سب سے پہلے مجھے ہاتھ لگائے گا، میں اس کو فلاں چیز دوں گا۔

تینوں بھائی دوڑ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جاتے۔ کوئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سینہ مبارک سے چمٹ جاتا، کوئی پشت مبارک پر چڑھ جاتا۔

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کو سینہ سے لگاتے اور خوب پیار کرتے۔[1]

ابن اسحاق کا بیان ہے: بدر کے روز جب عباس بن عبد المطلب گرفتار ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اپنا فدیہ ادا کیجئے کیونکہ آپ مالدار ہیں۔ عباس کہنے لگے میرے پاس تو کوئی مال نہیں۔نبی کریم ﷺ نے (بذریعہ وحی) فرمایا وہ مال جو آپ نے ام فضل کے پاس رکھوایا، وہ کہاں ہے؟

فرمانے لگے اچھا میں اگر مر گیا تو اس مال میں سے فضل بن عباس کا اتنا، عبد اللہ بن عباس کا اتنا اور عبید اللہ بن عباس و قثم بن عباس کا اتنا اتنا حصہ ہے۔(حدیث) جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش بدر سے پہلے ہوئی ہے۔[2]

تعلیم و تربیت[ترمیم]

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال 11ھ کے بعد آپ نے اپنے والد عباس بن عبد المطلب اور والدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ا کے علم و فضل سے استفادہ کیا۔[1]

اولاد عباس بن عبد المطلب کی قدردانی[ترمیم]

عبد اللہ صفوان بن امیہ کا بیان ہے کہ ابن زبیر کے عہد حکومت میں میرا گزر مکہ کی ایک گلی سے ہوا تو میں نے ایک دروازے پر لوگوں کے ہجوم کو دیکھا، معلوم ہوا کہ یہ تمام لوگ عبد اللہ بن عباس سے تفسیر و حدیث اور فقہ حاصل کرنے کے لیے جمع ہیں۔ میں یہ منظر دیکھ کر آگے روانہ ہوا تو میں نے ایک وسیع مکان میں لوگوں کی آمد و رفت ملاحظہ کی، معلوم ہوا کہ یہ عبید اللہ بن عباس کا مکان ہے جہاں غرباء و مساکین کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے۔ میں یہ دونوں منظر دیکھ کر عبد اللہ بن زبیر کے پاس آیا اور کہا: یہ عجیب بات ہے کہ تو نے خلافت کا دعوی کیا ہوا ہے لیکن تیری کنجوسی پورے عرب میں ضرب المثل بن چکی ہے جبکہ عباس کے دو بیٹوں نے تیرے لیے فضیلت کا کوئی موقع باقی نہيں رکھا، ایک بھائی تفسیر و حدیث اور فقہ کا معلّم ہے اور ہزاروں طلاب اس سے صبح و شام مستفید ہو رہے ہيں جبکہ دوسرے بھائی کا دستر خوان ہر غریب و مسافر کے لیے بچھا ہوا ہے۔ یہ سن کر ابن زبیر سخت پریشان ہوا اور اس نے دونوں بھائيوں کو بلا کر خوب سرزنش کی اور کہا:آئندہ تمہارے دروازوں پر یہ لوگوں کا ہجوم نہ ہو۔ یہ طرفہ سن کر ابو طفیل عامر بن وائل کنانی نے چند اشعار کہے جن میں اس نے عباس کے دونوں بیٹوں کی تعریف کی اور ابن زبیر کا شکوہ کیا۔[3]

سخاوت[ترمیم]

جب آپ اور آپ کے بھائی عبد اللہ بن عباس مدینہ پاک آئے تو آپ کے بھائی آپ کے علم میں اضافہ کرتے اور آپ ان کی سخاوت میں وسعت دیتے۔

روایت ہے کہ آپ اپنے ایک سفر میں اپنےغلام کے ساتھ ایک بدو کے خیمے میں اترے تو بدو نے آپ کو دیکھ کر آپ کا اعزاز و اکرام کیا اور اس نے آپ کی شکل و صورت اور حسن دیکھ کر اپنی بیوی سے کہا، تو ہلاک ہو جائے تمہارے پاس ہمارے اس مہمان کے لیے کیا چیز ہے؟

اس نے کہا ہمارے پاس صرف یہ بکروٹی ہے، جس کے دودھ سے تمہاری بچی کی زندگی ہے، اس نے کہا اس کو ضرور ذبح کرنا ہے، اس نے کہا کیا تو اپنی بیٹی کو قتل کر دےگا، اس نے کہا خواہ ایسا ہی ہو، پس اس نے چھری اور بکری کو پکڑا اور اسے ذبح کرنے اور اس کی کھال اتارنے لگا اور وہ رجزیہ اشعار پڑھنے لگا،

"اے میری پڑوسن! چھوٹی بچی کو نہ جگانا، اگر تو اسے جگائے گی، تو وہ روئے گی اور میرے ہاتھ سے چھری چھین لے گی"۔

پھر اس نے کھانا تیار کرکے حضرت عبید اللہ اور ان کے غلام کے آگے رکھ دیا اور دونوں کو شام کا کھانا کھلا دیا۔

آپ نے بدو کی ساری گفتگو سن لی جو اس نے بکری کے بارے میں اپنی بیوی سے کی تھی اور جب آپ نے کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے غلام سے فرمایا تو ہلاک ہو جائے تیرے پاس کتنا مال ہے؟

اس نے کہا آپ کے خرچ سے پانچ سو دینار بچ گئے ہیں، آپ نے کہا یہ بدو کو دے دو، اس نے کہا سبحان اللہ، آپ اس کو پانچ سو دینار دیتے ہیں حالانکہ اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی ہے جس کی قیمت پانچ درہم کے برابر ہے

آپ نے فرمایا تو ہلاک ہو جائے قسم بخدا وہ ہم سے زیادہ سخی ہے اس لیے کہ ہم نے اسے اپنی ملکیت کا کچھ حصہ دیا ہے اور اس نے اپنی ساری ملکیتی پونجی ہمیں بخش دی ہے اور اس نے اپنی جان اور اپنے بچوں پر ہمیں ترجیح دی ہے۔ [4]

امارت حج[ترمیم]

حضرت علی بن ابی طالب نے اپنے دور خلافت میں عبید اللہ بن عباس کو 36ھ اور 37ھ میں امیر حج مقرر کیا۔ لوگوں نے ان دو سالوں میں آپ کی امارت میں حج ادا کیا۔

38ھ میں علی کی طرف سے امیر حج آپ تھے اور حضرت امیر معاویہ بن ابو سفیان کی طرف سے یزید بن سمرہ ال رہادی امیر حج مقررر تھے تو اختلاف ہو گیا پھر دونوں نے شیبہ بن عثمان پر صلح کر لی اور اس سال آپ نے لوگوں کے لیے حج کی تکبیر کہی۔

امارت یمن[ترمیم]

علی نے اپنے دور خلافت میں آپ کو یمن کا والی مقرر فرمایا۔

40 ھ میں امیر معاویہ والی شام نے بسر بن ارطاۃ کو حجاز اور یمن پر قبضہ کرنے کے لیے بھیجا۔

اس نے مکہ اور مدینہ پر بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کر لیا اور پھر یمن کی طرف بڑھا جہاں عبید اللہ حضرت علی کی طرف سے منصب امارت پر فائز تھے۔

ابو موسیٰ اشعری نے پوشیدہ طور پر آپ کو اطلاع دی کہ بسر بن ارطاۃ یمن کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس پر قبضہ کر کے لوگوں سے امیر معاویہ کی بیعت لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

جو لوگ بیعت کرنے میں پس و پیش کرتے ہیں وہ ان کو نہایت بے دردی سے قتل کر ڈالتا ہے۔

عبید اللہ کے پاس اتنی قوت نہیں تھی کہ وہ بسر بن ارطاۃ کا مقابلہ کر سکتے۔

انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ خود دربار خلافت میں جا کر مدد طالب کریں چنانچہ انھوں نے عبد اللہ بن المدان کو یمن میں اپنا نائب بنا کر عازم کوفہ ہوئے۔

ان کی غیر حاضری میں بسر نے یمن پر قبضہ کر لیا اور حضرت علی کے حامیوں کی ایک کثیر تعداد کو شہید کر ڈالا۔

حضرت عبید اللہ کے اہل و عیال یمن میں ہی مقیم تھے۔ شقی القلب بسر نے آپ کے دو کمسن بچوں کو ان کی والدہ کے سامنے شہید کر ڈالا۔ جب آپ کو اپنے بچوں کی شہادت کی خبر ملی تو انھیں سخت صدمہ پہنچا لیکن بڑے ضبط اور حوصلے سے کام لیا اور رضائے الہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔

حضرت علی کو بسر بن ارطاۃ کے مظالم کا علم ہوا تو انہوں نے اس کی سرکوبی کے لیے فوج جمع کرنا شروع کردی لیکن ابھی ان کی تیاریاں مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ابن ملجم کی زہر آلود تلوار نے آپ کو جان بحق پلا دیا (رمضان 40 ھ) اور اس کے ساتھ ہی نظام حکومت کی بساط الٹ گئی۔

امام حسن کی خلافت کی حمایت کی مگر بعد میں امیر معاویہ نے ایک ملین دینار کا لالچ دے کر اپنی طرف راغب کر لیا۔

اس سانحہ کے بعد عبید اللہ نے عزلت گزینی اختیار کر لی اور باقی زندگی خاموشی سے گزار دی۔[1]

بچوں کا قتل[ترمیم]

40 ھ میں بسر بن ابی ارطاۃ امیر معاویہ کی جانب سے شیعیان علیؓ کو بجبر مطیع بنانے کے لیے یمن آیا، اس وقت عبید اللہ حضرت علیؓ کی جانب سے دہان کے والی تھے، ان میں بسر کے مقابلہ کی طاقت نہ تھی، اس لیے وہ یمن سےہٹ گئے، ا ن کے اہل و عیال یہیں تھے، بسر نہایت ظالم تھا اوراس کے دل میں حضرت علیؓ کے حامیوں کی طرف سے اس قدر کینہ اور بغض بھرا ہوا تھا، کہ عبیداللہ کے دو کمسن بچوں کو ان کی ماں کے سامنے نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کردیا۔ [5]

وفات[ترمیم]

عبید اللہ کی وفات کے بارے میں مختلف روایت ماجود ہیں۔ البتہ حافظ ابن عبد البر نے وثوق کے ساتھ بیان کیا ہے کہ آپ کی وفات 58 ہجری میں ہوئی۔

آپ سے چند احادیث مروی ہیں جو آپ کے بیٹے عبد اللہ اور ابن سیرین نے روایت کی ہے۔[1]

فضل وکمال[ترمیم]

عبید اللہ جس خانوادۂ علم و عمل کے چشم و چراغ تھے، اس کے اعتبار سے انکا کوئی خاص علمی پایہ نہ تھا، آنحضرتﷺ کے عہد میں بہت کم سن تھے، اس لیے براہ راست آپ سے سماعِ حدیث کا موقع نہ ملاتا ہم حدیث کی کتابوں میں ان کی مرویات ملتی ہیں اورانہوں نے اپنے والد بزرگوار حضرت عباسؓ سے اوران سے عبد اللہ اورابن سیرین نے روایت کی ہے۔[6]

فیاضی[ترمیم]

حضرت عباسؓ کے تمام لڑکوں میں کوئی نہ کوئی نمایاں وصف اورکمال موجود تھاحضرت عبداللہ فضل وکمال میں یکتائے عصر تھے، فضل حسن وجمال میں یگانہ تھے، عبیداللہ فیاضی اوردریادلی میں بے نظیر تھے، ان کے دسترخوان کے لیے ایک اونٹ روزانہ ذبح ہوتا تھا دوسرے بھائی عبداللہ کو یہ فیاضی ناپسند تھی، انہوں نے روکنا چاہا، تو اس دن سے دو اونٹ ذبح ہونے لگے، جب یہ دونوں بھائی ایک ساتھ مدینہ میں ہوتے تو ایک طرف تشنگان علم کے لیے عبداللہ کے یہاں علم کا دریا بہتا، دوسری طرف بھوکوں کے لیے عبید اللہ کے یہاں صلائے عام ہوتی، ایک مرتبہ عبید اللہ کہیں جارہے تھے، غلام ساتھ تھے، چلتے چلتے شام ہوگئی ایک اعرابی کا گھر دکھائی دیا، غلام نے کہا اگر ہم لوگ رات بھر کے لیے اس گھر میں ٹھہر جاتے تو بہتر ہوتا، رات ہوچکی تھی، اس لیے عبید اللہ کو بھی یہ رائے پسند آئی اور خادم وآقا دونوں اعرابی کے گھر پہنچے۔

عبید اللہ نہایت وجیہ تھے، اعرابی دیکھ کر سمجھا کہ کوئی بڑا آدمی ہے، بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ اتارا اوربیوی سے جاکر کہا کہ ہمارے یہاں ایک معزز مہمان آیا ہے، کچھ کھانے پینے کا سامان ہے؟ بیوی نے جواب دیا کھانے کو تو کچھ نہیں ہے، صرف یہ ایک بکری ہے جس کے دودھ پر تمہاری لڑکی کی زندگی ہے، بدوی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ مہمان کو بھوکا رکھا جائے بیوی سے کہا کچھ بھی ہو بکری ذبح کرنا چاہیے، بیوی نے کہا کیا لڑکی کو مارڈالوگے، اعرابی نے کہا بہرحال بکری ذبح کرنا ضروری ہے؛ چنانچہ بکری ذبح کرکے رات کا کھانا کھلایا، عبیداللہ یہ تمام گفتگو سن رہے تھے، صبح کو اٹھ کر غلام سے پوچھا تمہارے پاس کچھ ہے، اس نے کہا پانسو اشرفیاں ہیں حکم دیا اعربی کو دیدو غلام نے کہا سبحان اللہ 5 درہم کی بکری کھلائی اورآپ پانسو دینار روپئے دیتے ہیں، بولے تیری عقل پر افسوس ہے خدا کی قسم ! وہ ہم سے کہیں زیادہ سر چشم اور دریا دل ہے ہم تو اپنی مملوکہ دولت سے بہت حقیر رقم اسے دے رہے ہیں، اوراس نے اپنے لخت جگر کو قربانی کرکے ہمیں بکری کھلائی۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ نبی کریم ﷺ کے عزیز و اقارب
  2. الاصابہ فی تمییز الصحابہ (اردو) جلد تین صفحہ 458
  3. مجالس المومنین قاضی نور اللہ شوشتری، ص316، ترجمہ محمد حسن جعفری، ط اکبر حسین جیوانی ٹرسٹ کراچی، بی تا
  4. البدایہ والنہایہ جلد ہشتم
  5. (اسد الغابہ:2/240)
  6. (تہذیب الکمال:251)
  7. (اسد الغابہ:3/241)