عبید اللہ خان اعظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبید اللہ خان اعظمی
رکن راجیہ سبھا
مدت منصب
1990–1996 ،1996–2002 ،2002–2008
معلومات شخصیت
پیدائش 11 مارچ 1949 (70 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام، اہل سنت
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
اولاد تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں[1]
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عبید اللہ خان اعظمی ایک بھارتی اہل سنت سیاست دان ہیں جن کا تعلق راشٹروادی کانگریس پارٹی سے ہے۔[3][4] وہ راجیہ سبھا، ایوان بالا بھارتی پارلیمان میں 1990ء تا 2008ء تک رکن رہے ہیں۔ اس کے بعد اترپردیش سے 1990–96 تک اور جھاڑکھنڈ سے 1996–2002 تک جنتا دل جماعت کی طرف سے رکن رہے ہیں۔ 1992–96 تک جنتا دل کے جنرل سیکرٹری اور بعد ازاں اعلیٰ نائب صدر رہے۔[1][5] از 2002 تا 2008 نمائندہ مدھیہ پردیش از انڈین نیشنل کانگریس جماعت[6][7][8][9]

سیاست[ترمیم]

عبید اللہ خان اعظمی پہلی بار خبروں میں اس وقت جب انھوں نے 1984ء میں ایک تقریر کرتے ہوئے انھوں نے یہ دھمکی دی تھی کہ کانگریس اور بھاجپائی رہنماؤں کو کلمہ پڑھوائیں گے اور ان کی شہرت کو پَر لگ گئے تھے ۔ ممبئی کی 5 ویں گلی کے مقرر کی حیثیت سے مانے جانے والے عبیداللہ خان اعظمی راتوں رات سارے ہندوستان میں مشہور ہو گئے۔ ان کے آڈیو کیسٹ دھوم سے بکنے لگے۔ اس شہرت ے نتیجے میں سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ نے مسلمان ووٹ کے حصول کے لیے انہیں راجیہ سبھا کا رکن بنوا دیا ۔ پھر مرکزی وزیر ریل لالو پرساد یادو کی وجہ سے وہ دوسری بار بہار سے راجیہ سبھا پہنچے، تیسری بار انہوں نے کانگریس کی طرف سے انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئے۔[10]

شاہ بانو مقدمہ[ترمیم]

عبید اللہ خان اعظمی بھارتی عدالت عظمیٰ کے شاہ بانو کیس متعلقہ فیصلے کے خلاف عوامی احتجاجوں میں تنقیدی تقریروں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ ان کی ان تقریروں کی آڈیو کیسٹ وسیع پیمانے پر فروخت اور تقسیم ہوئیں۔ وہ، اس وقت، ممبئی میں شاہ بانو مقدمہ مخالت میں سب سے آگے تھے۔ ممبئی پولیس نے مولانا کے خلاف مقدمہ درج کیا اور ممبئی میں اشتعال انگیز تقریروں کی وجہ سے شہر بدر کر دیا۔[11][12]

تین طلاق کا مقدمہ[ترمیم]

تین طلاق کے مقدمے کے دوران میں عبید اللہ خان اعظمی نے کہا کہ دستور ہند کے مطابق ملک میں ہر کسی کو اس کی مذہبی شناخت کے ساتھ رہنے کا پورا پورا حق دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی دستور کے مطابق کسی بھی ایسے مسئلہ میں جس میں ترمیم کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تو اس مذہب کے رہنماؤں اور سلیکشن کمیٹی سے مشورہ طلب کیا جانا چاہئے لیکن تین طلاق کا بل بغیر کسی کے صلاح ومشورہ کے براہ راست پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے بھیج دیا گیا۔[13]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت WebPage of Maulana Obaidullah Khan Azmi Former Member Of Parliament (RAJYA SABHA) Azmi Maulana Obaidullah Khan
  2. One more SP leader quits thehindu.com
  3. ^ ا ب Obaidullah Khan Azmi joins NCP www.thefirstmail.in
  4. "The First Mail | Azmi Maulana Obaidullah Khan Joins NCP"۔ thefirstmail.in۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-07-28۔
  5. Brief Bio-Data 1952–2003 http://rajyasabha.nic.in
  6. List of Former Members of Rajya Sabha (Term Wise) rajyasabha.nic.in
  7. "Madhya pradesh(Rajya Sabha) – Statement as on 23/07/2015 | DETAILS OF FUNDS RELEASED UNDER MPLADS"۔ mplads.nic.in۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-07-28۔
  8. General information relating to Parliamentary and other matters parliamentofindia.nic.in | Monday, جنوری 1, 2001
  9. Gaur, Mahendra۔ Indian Affairs Annual۔ صفحہ 53۔ آئی ایس بی این 9788178354347۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. http://www.urduwebnews.com/2007/04/19/لیڈری-کرنے-والے-علمائے-کرام-مسلمانو-ں-ک//
  11. "NOV.20, 1985: HUGE MUSLIM PROTEST & BANDH IN MUMBAI | Bhindi Bazar"۔ bhindibazaar.asia۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-07-28۔
  12. Akhbar e alam, Urdu weekly
  13. http://urdu.news18.com/news/west-india/maulana-obaidullah-khan-azmi-on-triple-talaq-230155.html