عتاب بن اسید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عتاب بن اسید آپ صحابی رسول قرشی ہیں، اموی ہیں۔

نام و نسب[ترمیم]

عَتّاب بن أَسِيد بن أبي العيص بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر وهو قريش بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان . کنیت أبو عبد الرحمن، اور کہا گیا :أبو محمد. تھی ان کی والدہ کا نسب یہ تھا: زينب بنت عمرو بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر وهو قريش بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان .

ولادت[ترمیم]

ان کی ولادت 612ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی اس وقت اسلام کی ابتدا تھی۔

اسلام[ترمیم]

فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور آپ کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیس سالہ عتاب بن اسید کومکہ کا والی مقرر فرمایا اور ان کا روزینہ ایک درہم قرار پایا ، معاذ بن جبل کومکہ والوں کے لئے اپنا نائب مقرر فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ لوگوں کو دین کی باتیں بتائیں اور قرآن سکھائیں ،

پہلا حج[ترمیم]

24 ذیقعدہ 8ھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم معہ صحابہ کرام مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، عتاب بن اسید سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام میں امیر ہوکر حج کیا،اس سال مسلمانوں نے بھی حج ادا کیا اور مشرکین نے بھی اپنے طریقہ پر حج کیا

عہد صدیقی[ترمیم]

صدیق اکبر نے اپنی خلافت میں مکہ کی امارت پر عتاب بن اسید مامور تھے،حضرت ابوبکر نے اپنے زمانہ میں پھر انہیں ان کے سابق عہدہ پر بحال کردیا۔ [1]

وفات[ترمیم]

بعض مؤرخین کے مطابق عمر فاروق کے آخر میں وفات پائی جبکہ واقدی کے مطابق صدیق اکبر کی وفات کے دن یعنی 642ء آپ کی مکہ مکرمہ میں وفات ہوئی،وہیں دفن ہوئے،کل پچیس سال عمر پائی،بڑے صالح متقی تھے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسدالغابہ:1/351
  2. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد3صفحہ32نعیمی کتب خانہ گجرات