عتیقیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

Attica (یونانی: Αττική, AttikḗAttikḗ یا AttikīAttikī́; قدیم یونانی: [atːikɛː] یا جدید: [atiˈci]) ایک تاریخی علاقہ ہے جو یونان کے دارالحکومت ایتھنز کو گھیرے ہوئے ہے۔ موجودہ انتظامی علاقہ تاریخی علاقہ کی نسبت زیادہ وسیع ہے اور اس میں سارونی Saronic جزائر, Cythera کائتھیرا، اورپیلوپونیشیہ Peloponnesian کی بلدیہ طروئزینہ بھی شامل  ہے ۔عتیقہ کی تاریخ مضبوطی کے ساتھ اتھینیہ شہر کے ساتھ منسلک ہے، جو کلاسیکی مدت سے قدیم دنیا کے اہم شہروں میں سے ایک تھا۔

جغرافیہ[ترمیم]

 Laurium، ’’لاریوم‘‘ بندرگاہ
جھیل میراتھن

عتیقہ بحرِ ایجہ میں پیوست ایک سہ رُخی جزیرہ نما ہے۔ شمال میں کیتھارون پہاڑیوں نے اس کو Boeotia بوتیہ علاحدہ کر رکھا ہے۔ مغرب میں سمندر اور کرنتھی نہر ہے۔ . سارونی Saronic خلیج  اس کے جنوب ، اور Euboea یوبوا کے جزیرے اس کے شمالی اور مشرقی ساحل کی طرف ہیں ۔ 

 افلاطون، کے مطابق عتیقہ کی قدیم حدود اشطمس نے مقرر کیا تھا اور یہ کیتھارون Cithaeron اور Parnes پارنس تک پھیلی ہوئی تھیں۔

تاریخ[ترمیم]

قدیم تاریخ[ترمیم]

(آبی دیوتا ’’پوسایدان‘‘ Poseidon  کا ’’ کیپ سونیان‘‘ میں مندر

یونانی تاریک دور میں جب ڈوریان حملہ سے آکائیان باشندے بے گھر ہوئےتو انہوں نے، آیونیوں کو ان کی سرزمین سے نکال باہر کیا، در نتیجہ آیونی باشندوں کو عتیقہ میں پناہ لینی پڑی۔[1]

Vravrona ’’فرافرون‘‘ کے کھنڈرات

میسانی دور میں عتیقہ کے باشندے خود مختار زرعی معاشرہ میں رہتے تھے۔ جن مقامات سے ان کے قبل از تاریخ کھنڈر برآمد ہوئے ہیں ان میںمیراتھن، رافینیہ Rafina، نیاماکری، براوران، تھاریکوس، اگیاسکوسماس، منیدی، مارکوپولو، اسپاطا، افیدنا اور اتھینیہ شامل ہیں۔[2]

قلعے[ترمیم]

 Rhamnous ’’رامنوش‘‘ کا نظارہ

کلاسیکی دور میں, ایتھنز کو شمال سے الیوتھرا کے قلعہ کے ذریعہ مضبوط کیا گیا تھاجو اچھی حالت محفوظ  ہے۔ دوسرے قلعوں میں اوئینو، دیسیلیا اور افیندائی شامل ہیں۔ لاریم پر کان کنی کی جگہوں کی حفاظت کے لئے، رامنوش، تھوریکاس، سونیان، انافیسوس، پیرائس اور ایلوسیس کے مقامات پر فصیل بندی کی گئی تھی۔[2]

عبادت گاہیں[ترمیم]

Spata ’’اسپاطہ‘‘ کا فضاء سے نظارہ

اگرچہ آثار قدیمہ اور کھنڈر پورے عتیقہ میں پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ اہم الیوسیس Eleusis کے مقام پر برآمد ہوئے ہیں۔ میسانی دور کے شروع میں دیوی دیمیترا Demeter اور کورا Cora کی عبادت ایک عرصہ تک اس عتیقہ کے لوگوں کا مذہب رہی۔

قرون وسطی[ترمیم]

Eleusis۔ ’’الیوسیس‘‘ میں کھدائی کی جگہ

دورِقدامت سے نکلنے پر عتیقہ سلسلہ وار رومن، بازنطینی، وینس اور عثمانیہ اقتدار کے تحت آیا۔ 

1829ء کے بعد[ترمیم]

Saronida ’’سارونیدہ‘‘
Rafina ’’رافینہ‘‘ کا فضاء سے نظارہ
عتیقہ یونان میں خود مختار ریاست کا علاقی رہا ہے۔ 1834،میں ایتھنز کی بنیادِنو رکھی گئی اور اس کو یونان کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ درنتیجہ یونان کے مختلف حصوں سے آئے لوگوں نے عتیقہ کی نوآبادی کرنا شروع کردی۔ اس سلسلہ میں لوگوں کا ایک بڑا ریلہ اس وقت آیا جب  ترکی اور یونان نے معاہدہ لوسان کے تحت ریاعا کا تبادلہ کیا[3] 

آب و ہوا[ترمیم]

بحیرہ روم کی وجہ سے عتیقہ میں زیادہ تر خشک اور متعدل موسم رہتا ہے، اور بارشیں تھوڑی مدت کے لئے سردی کے موسم میں ہوتی ہیں۔ 

یورپی درجہ حرارت ریکارڈ[ترمیم]

عالمی موسمیات کی تنظیم کے مطابق یورپ میں ریکارڈ سب سے زیادہ درجہ حرارت48ڈگری سیلیس /118.4ڈگری فارنہائٹ ہے یہ الیوسیس اور طاطوئی کے مقام پر1977 میں ریکارڈ کیا گیا۔[4]

مزید دیکھیں[ترمیم]

  • اتیق یونان
  • عتیقیہ
  • عتیق سخن ور
  • اسکالیہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Pausanias VIII, 1
  2. ^ 2.0 2.1 "History"۔ Prefecture of Attica۔ Democritus University of Thrace۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 January 2013۔ 
  3. National Statistical Service of Greece (2002) (Greek میں)۔ National Statistical Service of Greece۔ صفحہ۔54۔ http://dlib.statistics.gr/Book/GRESYE_01_0002_00054.pdf۔ "The table includes the urban areas of Greece, officially defined by the National Statistical Service of Greece, powered by the Ministry of Finance of Greece. The municipality of Piraeus and its greater area belong to the Athens urban area or Greater Athens (Πολεοδομικό Συγκρότημα Αθηνών)." 
  4. Europe: Highest Temperature.

بیرونی روابط[ترمیم]