عثمان ہارونی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ عثمان ہارونی طریقت اور شریعت کے علوم میں امام العصر تھے اور اپنے وقت کے قطب الاقطاب مانے جاتے تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

نام عثمان کنیت ابو النور تھی آپ ہارون کے رہنے والے تھے یہ نیشا پور کا ایک گاؤں ہے جس کی وجہ سے آپ کے نام کے ساتھ ہارونی لکھا جاتا ہے۔

مرشد کی عنایات[ترمیم]

جس دن عثمان ہارونی کو خرقہ خلافت ملا تو آپ کے پیرومرشد شریف زندنی نے کلاہ چار ترکی بھی آپکے سر پر رکھا اور فرمایا کہ اس چار ترکی کلاہ سے مراد چار چیزوں کو ترک کردینا ہے:

  1. ۔ ترک دنیا۔
  2. ۔ ترک عقبیٰ۔ یعنی اللہ کی ذات کے سوا کوئی بھی مقصود نہ ہونا
  3. ۔ ترک کھانا پینا۔ اس سے مراد کم کھانا اور کم سونا ہے۔
  4. ۔ ترک خواہش نفس۔ یعنی جو کچھ نفس کہے اس کے خلاف کیا جائے۔[1]

آتش پرستوں کی بستی[ترمیم]

معین الدین چشتی سے روایت ہے کہ ایک دن عثمان ہارونی کے ہمراہ دوران سفر ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں آتش پرستوں کی بستی تھی وہاں ایک آتش کدہ تھا جس کی آگ کسی دن بھی سرد نہیں ہوئی تھی۔ عثمان ہارونی نے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ خدا کی پرستش کیوں نہیں کرتے جس نے اس آگ کو پیدا کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے مذہب میں آگ کو بڑا مانا گیا ہے۔ عثمان ہارونی نے فرمایا کیا تم اپنے ہاتھ پاؤں کو آگ میں ڈال سکتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ آگ کا کام جلانا ہے یہ کس کی مجال ہے کہ اس کے قریب بھی جائے۔ یہ بات سن کرعثمان ہارونی نے ایک بچہ جو ایک آتش پرست کی گود میں تھا لیا اور بچے سمیت آگ میں کود گئے اور چار گھنٹے کے بعد باہر آئے۔ نہ تو آپ کا خرقہ آگ سے جلا اور نہ ہی بچے پر آگ کا کوئی اثر ہوا۔ آپ کی یہ کرامت دیکھ کر تمام آتش پرست مسلمان ہو گئے اور آپ کے حلقہ ادارت میں شامل ہو گئے۔ آپ نے ان کے سردار کا نام عبد اللہ اور اس چھوٹے بچے کا نام ابراہیم رکھا۔[2] طریقت اور شریعت کے علوم میں امام العصر تھے انہیں خواجہ حاجی شریف زندنی سے خرقہ خلافت حاصل ہوا۔ جبکہ خواجہ مودود چشتی سے بھی فیضیاب ہوئے آپ کے چار خلفاء تھے

وصال[ترمیم]

آپ کا وصال 5 شوال 617ھ کو ہوا اس وقت انکی عمر 91 سال تھی[1] آخری وقت میں مکہ مکرمہ میں چلے گئے اور جنت المعلیٰ کے قریب دفن ہوئے۔ ان کی بارگاہ میں خواجہ معین الدین چشتی 32 سال رہے۔ 20 سال کی عمر میں آئے اور 52 سال کی عمر میں خلافت سے نوازے گئے۔ ان ایام میں اپنے مرشد نے جو ملفوظات فرمائے انہیں انیس الارواح کے نام سے تحریر کیا [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب خزینۃ الاصفیاءجلد دوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 57مکتبہ نبویہ لاہور
  2. خزینۃ الاصفیاءجلد دوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 59مکتبہ نبویہ لاہور
  3. بہار چشت ذکر خواجہ عثمان ہارونی