عثمان ہارونی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عثمان ہارونی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1132  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 دسمبر 1220 (87–88 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت المعلیٰ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ خواجہ شریف زندنی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص خواجہ معین الدین چشتی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلسفی،  وصوفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

خواجہ عثمان ہارونی طریقت اور شریعت کے علوم میں امام العصر تھے اور اپنے وقت کے قطب الاقطاب مانے جاتے تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

نام عثمان کنیت ابو النور تھی۔لقب: شیخ الاسلام۔سلسلہ نسب:آپ کاسلسلہ نسب گیارہویں پشت میں مولا علی شیر خدا تک پہنچتا ہے۔[1]آپ ہارون کے رہنے والے تھے یہ نیشا پور کا ایک گاؤں ہے جس کی وجہ سے آپ کے نام کے ساتھ ہارونی لکھا جاتا ہے۔

تاریخِ ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت باسعادت اکثر مؤرخین کےنزدیک 536ھ،1141ء کو قصبہ ’’ہارون یاہرون‘‘ خراسان میں ہوئی۔[2]

تحصیلِ علم[ترمیم]

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے نیشاپور تشریف لے گئے۔ وہاں مشاہیر علما ءو فضلاء کی سرپرستی میں علوم و فنون حاصل کیے۔ آپ کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ "آپ کا خاندان چوں کہ عمدہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور علم دوست تھا۔ والد ماجد بھی جیدعالم تھے، اس لیے شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی علم کی طرف راغب ہو گئے اور والد ماجد کی بارگاہ میں رہ کر ابتدائی تعلیم حاصل کی، قرآن شریف حفظ کیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے اس زمانے کے علمی و فنی مرکز نیشاپور کا رخ کیا اور وقت کے مشاہیر علما و فضلا سے اکتساب علم کر کےجملہ علوم مروجہ ومتداولہ میں دسترس حاصل کی۔جلد ہی آپ کاشمار وقت کےعلماءوفضلاءمیں ہونےلگا۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

ظاہری علوم کی تکمیل اس مرد باصفا کی آخری منزل نہ تھی۔اس لیے علوم باطنیہ کی تحصیل کاعزم مصمم کیا اللہ جل شانہ نے آپ کےپرخلوص ارادے کی بدولت امام الاولیاء،قطب الاقطاب سرتاج سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ خواجہ محمد شریف زندنی کی خانقاہ معلیٰ میں پہنچادیا۔سلسلہ عالیہ چشتیہ میں ان کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور ان کی خدمت میں رہ کر سلوک کی منازل طے کرنے لگے۔عبادت وریاضت اور مجاہدۂ ومکاشفہ نے جب کندن بنادیا تونگاہ ِمرشدنےمنصبِ خلافت کےلئےمنتخب فرمالیا۔سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت سے سرفراز ہوئے۔اسی طرح خواجہ مودود چشتی سے بھی فیض یاب ہوئے۔

مرشد کی عنایات[ترمیم]

جس دن عثمان ہارونی کو خرقہ خلافت ملا تو آپ کے پیرومرشد شریف زندنی نے کلاہ چار ترکی بھی آپکے سر پر رکھا اور فرمایا کہ اس چار ترکی کلاہ سے مراد چار چیزوں کو ترک کردینا ہے:

  1. ۔ ترک دنیا۔
  2. ۔ ترک عقبیٰ۔ یعنی اللہ کی ذات کے سوا کوئی بھی مقصود نہ ہونا
  3. ۔ ترک کھانا پینا۔ اس سے مراد کم کھانا اور کم سونا ہے۔
  4. ۔ ترک خواہش نفس۔ یعنی جو کچھ نفس کہے اس کے خلاف کیا جائے۔[3]

آتش پرستوں کی بستی[ترمیم]

معین الدین چشتی سے روایت ہے کہ ایک دن عثمان ہارونی کے ہمراہ دوران سفر ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں آتش پرستوں کی بستی تھی وہاں ایک آتش کدہ تھا جس کی آگ کسی دن بھی سرد نہیں ہوئی تھی۔ عثمان ہارونی نے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ خدا کی پرستش کیوں نہیں کرتے جس نے اس آگ کو پیدا کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے مذہب میں آگ کو بڑا مانا گیا ہے۔ عثمان ہارونی نے فرمایا کیا تم اپنے ہاتھ پاؤں کو آگ میں ڈال سکتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ آگ کا کام جلانا ہے یہ کس کی مجال ہے کہ اس کے قریب بھی جائے۔ یہ بات سن کرعثمان ہارونی نے ایک بچہ جو ایک آتش پرست کی گود میں تھا لیا اور بچے سمیت آگ میں کود گئے اور چار گھنٹے کے بعد باہر آئے۔ نہ تو آپ کا خرقہ آگ سے جلا اور نہ ہی بچے پر آگ کا کوئی اثر ہوا۔ آپ کی یہ کرامت دیکھ کر تمام آتش پرست مسلمان ہو گئے اور آپ کے حلقہ ادارت میں شامل ہو گئے۔ آپ نے ان کے سردار کا نام عبد اللہ اور اس چھوٹے بچے کا نام ابراہیم رکھا۔[4]

سیرت وخصائص[ترمیم]

قطب الاقطاب،ناصرالاسلام،عارف اسرار رحمانی،واصل ذاتِ باری،محبوب صاحب ِ لامکانی،شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد عثمان ہارونی﷫۔آپ علیہ الرحمہ کاشمار اکابرین ِ امت اور کبار اولیاءِ کرام ومشائخِ عظام میں ہوتا ہے۔علوم ظاہریہ وعلوم باطنیہ ،شریعت وطریقت،تصوف ومعرفت میں مجمع البحرین تھے۔تاریخِ مشائخِ چشت میں ہے:’’در علم ِ شریعت وطریقت وحقیقت اعلم بود‘‘[5] طریقت اور شریعت کے علوم میں امام العصر تھے انہیں خواجہ حاجی شریف زندنی سے خرقہ خلافت حاصل ہوا۔ جبکہ خواجہ مودود چشتی سے بھی فیضیاب ہوئے آپ کے چار خلفاء تھے

وصال[ترمیم]

آپ کا وصال 5 شوال 617ھ کو ہوا اس وقت ان کی عمر 91 سال تھی[3] آخری وقت میں مکہ مکرمہ میں چلے گئے اور جنت المعلیٰ کے قریب دفن ہوئے۔ ان کی بارگاہ میں خواجہ معین الدین چشتی 32 سال رہے۔ 20 سال کی عمر میں آئے اور 52 سال کی عمر میں خلافت سے نوازے گئے۔ ان ایام میں اپنے مرشد نے جو ملفوظات فرمائے انہیں انیس الارواح کے نام سے تحریر کیا [6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرتِ خواجہ غریب نواز:42
  2. اہل سنت کی آواز،خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ2008ء/1429ھ،صفحہ:200
  3. ^ ا ب خزینۃ الاصفیاءجلد دوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 57مکتبہ نبویہ لاہور
  4. خزینۃ الاصفیاءجلد دوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 59مکتبہ نبویہ لاہور
  5. ۔بہارِ چشت:77
  6. بہار چشت ذکر خواجہ عثمان ہارونی