مندرجات کا رخ کریں

عدوان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
لڑائی جارحیت کی ایک شکل ہے۔

عدوان [1][2][3] ایک سماجی رویہ ہے جس میں ایک شخص دوسرے کو نقصان یا تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، چاہے یہ کھل کر ہو یا چھپ کر۔ یہ کبھی کسی اشتعال کے جواب میں ہوتا ہے اور کبھی بغیر کسی واضح وجہ کے بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ انسانوں میں عدوان کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، جیسے: اپنے مقاصد حاصل نہ ہونے کی مایوسی دوسروں کی طرف سے بے عزتی محسوس کرنا غصہ، خوف یا ذہنی دباؤ۔

اقسام

[ترمیم]

انسانی عدوان کو عموماً دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے: براہِ راست عدوان: اس میں جسمانی یا زبانی رویہ شامل ہوتا ہے، جس کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ بالواسطہ عدوان: اس میں کسی فرد یا گروہ کے سماجی تعلقات کو نقصان پہنچانا مقصود ہوتا ہے۔

سماجی و نفسیاتی علوم میں عدوان کو ہر ایسے عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو دوسرے شخص کو تکلیف یا بے سکونی میں ڈالے، خاص طور پر جب اس میں نقصان پہنچانے کی نیت شامل ہو۔ عدوانی رویہ بعض اوقات غصہ کم کرنے یا اپنی برتری محسوس کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے، لیکن یہ اکثر منفی نتائج کا سبب بنتا ہے، جیسے تشدد، جرائم اور سماجی بگاڑ۔ نفسیات میں اس رویے کے اسباب، اس کے اثرات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں امن قائم رکھا جا سکے۔ [4] .[5].[6][7]


سائنسی تعریف

[ترمیم]

سماجی اور رویّاتی علوم میں عام طور پر عدوان کو ہر اس عمل یا ردِّ عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو کسی دوسرے شخص کے لیے تکلیف یا بے آرامی کا باعث بنے۔ بعض تعریفات کے مطابق، کسی عمل کو عدوان کہنے کے لیے ضروری ہے کہ فاعل کا مقصد نقصان پہنچانا ہو۔ عدوان کو یوں بھی بیان کیا جاتا ہے کہ یہ ایسے طریقوں کا مجموعہ ہے جو ارتقائی عمل کے دوران اس لیے پیدا ہوئے کہ فرد اپنے آپ، اپنے رشتہ داروں یا دوستوں کی برتری ثابت کر سکے یا وسائل حاصل کرے یا ان کا دفاع کرے۔ یہ طریقے اکثر نقصان دہ ہوتے ہیں۔ [8][9]

مقدمہ (Introduction)

[ترمیم]

1939ء میں ماہرِ نفسیات ڈولارڈ اور ان کے ساتھیوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ عدوان کی بنیادی وجہ مایوسی (Frustration) ہے، جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کسی مطلوبہ مقصد تک پہنچنے میں رکاوٹ محسوس کرے۔ بعد میں ماہرِ نفسیات لیونارڈ برکووٹز نے اس نظریے کو وسعت دی اور کہا کہ صرف مایوسی ہی نہیں بلکہ ہر قسم کے ناخوشگوار احساسات عدوانی رجحان کو جنم دیتے ہیں۔ یعنی ہر ایسا واقعہ جو منفی اثر ڈالے، وہ عدوان یا خوف کے رجحانات پیدا کر سکتا ہے۔

عدوان بعض اوقات فائدہ مند (مطابقتی) بھی ہو سکتا ہے، لیکن اس کے منفی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ عدوانی رویہ کو اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ یہ ایک فرد یا گروہ کا ایسا مخالفانہ سماجی عمل ہے جس کا مقصد نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ [10]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Širbīnī, Luṭfī aš (2003)، معجم مصطلحات الطب النفسي، Silsilat al-maʻājim al-ṭibbīyah al-mutakhaṣṣiṣah (بزبان عربی وانگریزی)، کویت شہر: Arabization center for medical science، ص 5، QID: Q116896364
  2. Mohamed Haytham Khayat (2009)۔ The unified medical dictionary: إنكليزي - فرنسي - عربي (بزبان عربی وانگریزی وفرانسیسی) (الرابعة ایڈیشن)۔ بیروت: Librairie du Liban Publishers۔ ص 43۔ ISBN:978-9953-86-482-2۔ OCLC:978161740۔ QID: Q113466993
  3. Dictionary o Physical Education (بزبان عربی وانگریزی وفرانسیسی)، قاہرہ: Academy of the Arabic Language in Cairo، 2020، ص 6، QID: Q125365516
  4. Maremmani I., Avella M.T., Novi M., Bacciardi S., Maremmani A.G.I. Aggressive Behavior and Substance Use Disorder: The Heroin Use Disorder as a Case Study. Addict. Disord. Treat.. 2020;19(3):161-173. doi:10.1097/ADT.0000000000000199
  5. Amber DeBono؛ Mark Muraven (1 نومبر 2014)۔ "Rejection perceptions: feeling disrespected leads to greater aggression than feeling disliked"۔ Journal of Experimental Social Psychology۔ ج 55: 43–52۔ DOI:10.1016/j.jesp.2014.05.014۔ ISSN:0022-1031
  6. Rosa Maria Martins De Almeida؛ João Carlos Centurion Cabral؛ Rodrigo Narvaes (2015)۔ "Behavioural, hormonal and neurobiological mechanisms of aggressive behaviour in human and nonhuman primates"۔ Physiology & Behavior۔ ج 143: 121–35۔ DOI:10.1016/j.physbeh.2015.02.053۔ PMID:25749197۔ S2CID:27711931
  7. Klaus A. Miczek; Rosa M. M. de Almeida; Edward A. Kravitz; Emilie F. Rissman; Sietse F. de Boer; Adrian Raine (31 Oct 2007). "Neurobiology of Escalated Aggression and Violence". Journal of Neuroscience (بزبان انگریزی). 27 (44): 11803–11806. DOI:10.1523/JNEUROSCI.3500-07.2007. ISSN:0270-6474. PMC:2667097. PMID:17978016.
  8. Klaus Wahl (2020)۔ The Radical Right. Biopsychosocial Roots and International Variations۔ London: Palgrave Macmillan۔ ص 47۔ ISBN:978-3-030-25130-7۔ OCLC:1126278982۔ 2022-10-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  9. Klaus Wahl (2013)۔ Aggression und Gewalt. Ein biologischer, psychologischer und sozialwissenschaftlicher Überblick۔ Heidelberg: Spektrum Akademischer Verlag۔ ص 2۔ ISBN:978-3-8274-3120-2۔ OCLC:471933605۔ 2022-10-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  10. Berkowitz, L. (1993). Aggression: Its causes, consequences, and control. New York, NY: McGraw-Hill. آرکائیو شدہ 2022-10-24 بذریعہ وے بیک مشین