عذاب قبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دیگر آیات واحدیث مبارکہ کے علاوہ عذاب قبر سورت غافر آیت 46 سے ثابت ہے۔

(النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًا وَعَشِيًا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ ) سورة غافر آية 46

اور وہ لوگ (فرعون اور اس کے ساتھی) صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (تو حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں؛

قال ابن مسعود : إن أرواح آل فرعون ومن كان مثلهم من الكفار تحشر عن النار بالغداة والعشي فيقال هذہ داركم ۔

حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ آل فرعون اور ان جیسے دوسرے کفار کی روحیں صبح وشام آگ میں گھسیٹی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ٹھکانا ہے

وهذہ الآية أصل كبير في استدلال أهل السنة على عذاب البرزخ في القبور ۔

(امام ابن کثیر نے کہا) کہ یہ آیت سب سے بڑی دلیل ہے جس سے اہل سنت برزخ وقبر کے عذاب پر استدلال کرتے ہیں

[تفسير ابن كثير۔ 82/4]

سورت نوح میں ہے؛

ممّا خطيئتهم اغرقوا فادخلو نارا

اپنے گناہوں کے سبب وہ (قوم نوح علیہ السلام) غرق کیے گئے پھر آگ میں داخل کیے گئے

اس میں «فادخلوا» کا «ف» بتا رہا ہے کہ ڈوبنے کے بعد فوراً آگ میں داخل کردئے گئے

عذاب قبر کے متعلق احدیث مبارکہ معنوی لحاظ سے تواتر کو پہنچتی ہیں

صحیح بخاری وصحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ؛

أن النبي صلى اللہ عليہ وسلم قال : [ إن العبد إذا وضع في قبرہ وتولى عنہ أصحابہ، وإنہ ليسمع قرع نعالهم أتاہ ملكان فيقعدانہ، فيقولان لہ : ما كنت تقول في هذا الرجل محمد؟ فأما المؤمن فيقول : أشهد أنہ عبد اللہ ورسولہ۔ قال : فيقولان : انظر إلى مقعدك من النار قد أبدلك اللہ بہ مقعداً من الجنة، فيراهما جميعاً۔ وأما الكافر، والمنافق، فيقال لہ ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول : لا أدري كنت أقول ما يقول الناس، فيقولان لا دريتَ ولا تليتَ، ويضرب بمطارق من حديد ضربة فيصيح صيحة فيسمعها من يليہ، غير الثقلين

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ بلاشبہ جب بندے کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے پھر جاتے ہیں اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تم ان صاحب (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا کہتے تھے، جو مؤمن ہوتا ہے وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اس سے کہا جائے گا کہ تو اپنے جہنم کے ٹھکانے کو دیکھ جس کو اللہ نے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ہے۔ وہ مؤمن دونوں ٹھکانوں کو دیکھے گا۔ اور جو کافر یا منافق ہوتا ہے اس سے پوچھا جاتا ہے تو ان صاحب کے بارے میں کیا کہتا تھا تو وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا، جو لوگ کہتے تھے میں بھی وہی کہتا تھا۔ اس کو کہا جاتا ہے کہ نہ تو نے عقل سے کام لیا اور نہ ہی نقلی دلیل کو اختیار کیا اور اس کو لوہے کے گرزوں سے مارا جاتا ہے جس سے وہ چیخ مارتا ہے جو سوائے انسانوں اور جنوں کے آس پاس موجود مخلوق سنتی ہے۔

عذاب کا یہ سلسلہ قبر سے پہلے ہی موت کے وقت شروع ہوجاتا ہے

فكيف اذا توفتهم الملائكة يضربون وجوههم وادبارهم [سورة محمد (القتال) آية 27]

پس کیسی حالت ہوگی جب کفار کی ارواح قبض کرتے ہوئے فرشتے ان کے منہ اور پیچھوں پر ماریں گے

ولو ترى اذ يتوفى الذين كفروا الملائكة يضربون وجوههم وادبارهم (الآية) [سورة الانفال آية 5٠]

اور اگر تو دیکھے (ائے مخاطب) جس وقت کافروں کی ارواح قبض کرتے ہیں فرشتے تو مارتے ہیں ان کے چہروں اور پیچھوں پر