داعش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عراق اور شام کی دولت اسلامیہ (ISIL)، معروف بہ عراق اور سوریہ میں دولت اسلامیہ، عراق اور الشام کی دولت اسلامیہ (ISIS[1] باضابطہ طور پر دولت اسلامیہ (IS) اور عربی زبان میں داعش)[2][3] ایک سلفی جہادی شدت پسند تنظیم اور بنیاد پرست، اہل تسنن کے سلفی عقیدے پر عمل کرنے والی سابق غیر تسلیم شدہ ریاست[4][5] تھی۔[6] داعش نے ابتدائی 2014ء میں عالمی شہرت اس وقت حاصل کی جب اس نے عراقی حکومتی افواج کو انبار مہم میں کلیدی شہروں سے باہر نکلنے پر مجبور کیا[7] اس کے بعد موصل پر قبضہ کیا[8] اور سنجار قتل عام ہوا۔[9]

اس گروہ کو اقوام متحدہ اور کئی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ داعش شہریوں اور فوجیوں بہ شمول صحافیوں اور امدادی کارکنان کے سر قلم کرنے اور دیگر قسم کی سزائیں دینے والی وڈیو[10] جاری کرنے اور ثقافتی ورثہ کی جگہوں کو تباہ کرنے کے لیے مشہور ہے۔[11] اقوام متحدہ کے نزدیک داعش انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا مرتکب ہے۔ شمالی عراق میں تاریخی سطح پر داعش دوسرے مذاہب کے افراد کو بڑی تعداد میں قتل بھی کر چکا ہے۔[12]

داعش کا سنہ 1999ء میں جماعت التوحید و الجہاد کے طور پر ظہور ہوا، جو القاعدہ کی حامی تھی اور 2003ء-2011ء عراقی کشیدگی میں حصہ لیا۔ جون 2014ء میں اس گروہ نے دنیا بھر میں خود کو خلافت کہا[13][14] اور خود کو دولت اسلامیہ کہلوانا شروع کر دیا۔[15] خلافت کے طور پر اس نے دنیا میں مسلمانوں پر مذہبی، سیاسی اور فوجی اقتدار کا دعوی کیا۔[16] خود خلافت کہلوانے پر اقوام متحدہ اور دیگر بڑے مسلم گروہوں نے اس کی ریاست کی تنقید اور مذمت کی۔.[17]

شام میں اس گروپ نے حکومتی افواج اور حکومت مخالف جتھوں دونوں پر زمینی حملے کیے اور دسمبر 2015ء تک اس نے مغربی عراق اور مشرقی شام میں ایک بڑے رقبے پر قبضہ کر لیا جس میں اندازہً 2.8 سے 8 ملین افراد شامل تھے،[18][19] جہاں انہوں نے شریعت کی نام نہاد تاویل کر کے اسے تھوپنے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ داعش 18 ممالک میں سرگرم ہے جس میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں اور مالی، مصر، صومالیہ، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن میں اس کی شاخیں ہیں۔[20][21][22][23] 2015ء میں داعش کا سالانہ بجٹ 1 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ تھا اور 30،000 جنگجوؤں سے زیادہ کی فوج تھی۔[24]

جولائی 2017ء میں گروہ نے اس کے سب سے بڑے شہر سے کنٹرول کھو دیا اور عراقی فوج نے فتح حاصل کر لی۔[25] اس بڑی شکست کے بعد داعش آہستہ آہستہ زیادہ تر علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور نومبر 2017ء تک اس کے پاس کچھ خاص باقی نہ رہا۔[26] امریکی فوجی عہدیداروں اور ساتھی فوجی تجزیوں کے مطابق دسمبر 2017ء تک گروہ دو فیصد علاقوں میں باقی رہ گیا۔[27] 10 دسمبر 2017ء میں عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ عراقی افواج نے ملک سے دولت اسلامیہ کے آخری ٹھکانوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔[28] 23 مارچ 2019ء کو داعش اپنے آخری علاقے باغوز فوقانی کے نزدیک جنگ میں ہار گیا اور اس علاقے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔[29]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.washingtonpost.com/blogs/worldviews/wp/2014/06/18/isis-or-isil-the-debate-over-what-to-call-iraqs-terror-group/
  2. Schwartz، Felica۔ "One More Name for Islamic State: Daesh"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. Guthrie، Alice۔ "Decoding Daesh: Why is the new name for ISIS so hard to understand?"۔ Free Word Centre۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  4. Fouad al-Ibrahim۔ "Why ISIS is a threat to Saudi Arabia: Wahhabism's deferred promise"۔ مورخہ 24 August 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  5. Dolgov، Boris۔ "Islamic State and the policy of the West"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

    Wilson، Rodney۔ Islam and Eonomic Policy۔ Edinburgh University Press۔ صفحہ 178۔ ISBN 978-0-7486-8389-5۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

    Cockburn، Patrick۔ "End Times for the Caliphate?"۔ شمارہ 5۔ صفحات 29–30۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت); Cite magazine requires |magazine= (معاونت)

    Pastukhov، Dmitry؛ Greenwold، Nathaniel۔ "Does Islamic State have the economic and political institutions for future development?" (PDF)۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

    Pedler، John۔ A Word Before Leaving: A Former Diplomat's Weltanschauung۔ Troubador۔ صفحہ 99۔ ISBN 978-1-78462-223-7۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

    Kerr، Michael؛ Larkin، Craig۔ The Alawis of Syria: War, Faith and Politics in the Levant۔ Oxford University Press۔ صفحہ 21۔ ISBN 978-0-19-045811-9۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

  6. "ISIL defeated in final Syria victory: SDF"۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 March 2019۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

    CNN، Ben Wedeman and Lauren Said-Moorhouse۔ "ISIS has lost its final stronghold in Syria, the Syrian Democratic Forces says"۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 March 2019۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

    "After ISIS 'defeat,' what comes next? - analysis - Middle East - Jerusalem Post"۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 March 2019۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

    McKernan، Bethan۔ "Isis defeated, US-backed Syrian Democratic Forces announce"۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 March 2019 – via www.theguardian.com۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

    Callimachi، Rukmini۔ "ISIS Caliphate Crumbles as Last Village in Syria Falls"۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 March 2019 – via NYTimes.com۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

  7. "John Kerry holds talks in Iraq as more cities fall to ISIS militants"۔ CNN۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  8. Al-Salhy، Suadad؛ Arango، Tim۔ "Sunni Militants Drive Iraqi Army Out of Mosul"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  9. Arango، Tim۔ "Sunni Extremists in Iraq Seize 3 Towns From Kurds and Threaten Major Dam"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  10. "A Short History Of ISIS Propaganda Videos"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  11. al-Taie، Khalid۔ "Iraq churches, mosques under ISIL attack"۔ Al-Shorfa۔ مورخہ 19 February 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  12. "Ethnic cleansing on a historic scale: The Islamic State's systematic targeting of minorities in northern Iraq" (PDF)۔ Amnesty International۔ مورخہ 12 March 2015 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  13. Roggio، Bill۔ "ISIS announces formation of Caliphate, rebrands as 'Islamic State'"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  14. Withnall، Adam۔ "Iraq crisis: Isis changes name and declares its territories a new Islamic state with 'restoration of caliphate' in Middle East"۔ London۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  15. "What is Islamic State?"۔ BBC News۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  16. "What does ISIS' declaration of a caliphate mean?"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت). See also: Kadi, Wadad; Shahin, Aram A. "Caliph, caliphate". In Bowering (2013).
  17. Akyol، Mustafa۔ "A Medieval Antidote to ISIS"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  18. "Why ISIL Will Fail on Its Own"۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 November 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  19. Birke، Sarah۔ "How ISIS Rules"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  20. "Islamic State and the crisis in Iraq and Syria in maps"۔ BBC News۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  21. "Exclusive: In turf war with Afghan Taliban, Islamic State loyalists gain ground"۔ Reuters۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  22. "Pakistan Taliban splinter group vows allegiance to Islamic State"۔ Reuters۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  23. "ISIS Now Has a Network of Military Affiliates in 11 Countries Around the World"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  24. Gerges، Fawaz A.۔ A History of ISIS۔ Princeton, New Jersey, USA: Princeton University Press۔ صفحات 21–22۔ ISBN 9780691170008۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  25. "PressTV-'US created, allowed regional funding of Daesh'"۔ مورخہ 11 July 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نامعلوم پیرامیٹر |deadurl= ignored (معاونت); نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  26. Russia's Syria Mirage Institute for Study of War website. By Matti Suomenaro, et al. 13 August 2017. Retrieved 3 March 2018.
  27. FOX۔ "ISIS has lost 98 percent of its territory, officials say"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  28. "Islamic State completely 'evicted' from Iraq, Iraqi PM says"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  29. "US-allied Syrian force declares victory over Islamic state"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

بیرونی روابط[ترمیم]