مندرجات کا رخ کریں

عربی سازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
خلیفہ عبد الملک بن مروان (حکومت 685–705) نے 686 عیسوی میں خلافت امویہ کی واحد سرکاری زبان کے طور پر فصحى عربی کو متعارف کرایا۔

عربی سازی (عربی: تعریب) سے مراد وہ تاریخی اور ثقافتی عمل ہے جس کے تحت غیر عرب اقوام اور علاقوں میں عربی زبان، ثقافت اور شناسی کو فروغ ملا۔[1] یہ عمل بنیادی طور پر ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی فتوحات کے بعد شروع ہوا اور مختلف ادوار میں جاری رہا۔ عربی سازی نے نہ صرف زبان بلکہ معاشرت، ثقافت، مذہب اور طرز زندگی کو بھی متاثر کیا۔

تاریخی ارتقا

[ترمیم]

عربی سازی کا عمل اسلامی فتوحات کے ساتھ شروع ہوا۔[2] ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلامی سلطنت کا پھیلاؤ شروع ہوا، تو عربی زبان نے انتظامیہ، تعلیم اور ثقافت کی زبان کے طور پر اہمیت حاصل کی۔ ابتدائی دور میں عربیت سازی کا عمل نسبتاً آہستہ تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تیزی آتی گئی۔

اموی خلافت (661-750 عیسوی) کے دور میں عربی سازی کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی۔[3] خلیفہ عبد الملک بن مروان نے سرکاری دستاویزات اور سکوں پر عربی زبان کو لازمی قرار دیا۔ عباسی دور (750-1258 عیسوی) میں عربی سازی نے علمی اور ثقافتی پہلوؤں کو اپنایا۔ بیت الحکمت جیسے اداروں نے غیر عرب علوم کو عربی میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

قرون وسطیٰ کے دوران عربی سازی کا عمل شمالی افریقہ، اندلس اور مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں جاری رہا۔[4] اس دور میں بربر، [[قبطی زبان}قبطی]]، [[آرامی زبان}آرامی]] اور دیگر مقامی زبانیں بتدریج عربی کے سامنے ہتھیار ڈالتی گئیں۔ جدید دور میں عربی سازی کا عمل عرب قوم پرستی کی تحریکوں کے زیر اثر جاری رہا، خاص طور پر شمالی افریقہ کے ممالک میں۔

ثقافتی و لسانی اثرات

[ترمیم]

عربی سازی کے سب سے گہرے اثرات زبان اور ثقافت پر مرتب ہوئے۔[5] عربی زبان نے نہ صرف رسمی بلکہ غیر رسمی مجالس میں بھی اپنی جگہ بنائی۔ مقامی زبانیں جن میں بربر، قبطی، سریانی اور دیگر زبانیں شامل تھیں، بتدریج عربی میں ضم ہوتی گئیں یا ان پر عربی کے گہرے اثرات مرتسم ہوئے۔

ثقافتی پہلوؤں میں عربیت سازی نے فن، موسیقی، ادب اور روایات کو متاثر کیا۔[6] عربی رسم الخط کو اپنایا گیا اور عربی ادب نے مقامی ادبی روایات کو متاثر کیا۔ اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ عربی تہذیب و تمدن نے بھی مقامی معاشروں کو تبدیل کیا۔

مذہبی لحاظ سے عربیت سازی کا عمل اسلام کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔[7] قرآن مجید کی زبان ہونے کے ناطے عربی کو مقدس زبان کا درجہ حاصل ہوا، جس نے عربیت سازی کے عمل کو تقویت دی۔ مساجد اور مدارس کے ذریعے عربی زبان اور ثقافت کو فروغ ملا۔

معاشرتی تبدیلیوں کے تحت عربیت سازی نے خاندانی ساخت، رہن سہن، لباس اور کھانے پینے کی عادات کو متاثر کیا۔[8] عربی ناموں کا رواج بڑھا اور عربی ثقافتی اقدار نے مقامی معاشروں میں جگہ بنائی۔

جدید دور میں عربیت سازی کے عمل نے تعلیمی اداروں، میڈیا اور سرکاری پالیسیوں کے ذریعے اپنا سفر جاری رکھا ہے۔[9] عرب لیگ جیسے اداروں نے عربیت سازی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Arabization"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-02-12 {{حوالہ ویب}}: "Britannica" کی عبارت نظر انداز کردی گئی (معاونت) و"Definition, History, & Facts" کی عبارت نظر انداز کردی گئی (معاونت)
  2. Clive Holes (2004)۔ Arabization and Linguistic Conflict in the Middle East۔ Routledge۔ ص 45
  3. Ira M. Lapidus (2002)۔ A History of Islamic Societies۔ Cambridge University Press۔ ص 58
  4. Anwar G. Chejne (1969)۔ The Arabic Language: Its Role in History۔ University of Minnesota Press۔ ص 87
  5. Albert Hourani (1991)۔ A History of the Arab Peoples۔ Harvard University Press۔ ص 123
  6. Aleya Rouchdy (2002)۔ Language Contact and Language Conflict in Arabic۔ Routledge۔ ص 67
  7. Thabet Abdullah (1998)۔ The Arabization of Islam۔ Princeton University Press۔ ص 92
  8. Catherine Miller (2007)۔ The Culture of Arabic: Studies in Language and Society۔ Oxford University Press۔ ص 145
  9. Yasir Suleiman (2003)۔ The Arabic Language and National Identity۔ Georgetown University Press۔ ص 178

مصادر

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]