مندرجات کا رخ کریں

عرب قوم پرستی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

عرب قوم پرستی (عربی: القومية العربية) ایک سیاسی نظریہ ہے جو تمام عرب لوگوں کی ثقافتی اور سیاسی اتحاد کی وکالت کرتا ہے۔[1] یہ تحریک انیسویں صدی کے آخر میں عثمانی سلطنت کے خلاف رد عمل کے طور پر ابھری اور بیسویں صدی میں عرب دنیا کی سب سے اہم سیاسی قوتوں میں سے ایک بنی۔

تاریخی ارتقا

[ترمیم]

عرب قوم پرستی کی بنیاد انیسویں صدی کے عرب مفکرین جیسے نجیب عازوری، عبدالرحمن الکواکبی اور ساطع الحصری نے رکھی۔[2] یہ تحریک ابتدائی طور پر سلطنت عثمانیہ کے خلاف عرب شناسی کو فروغ دینے کے لیے وجود میں آئی۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران، شریف حسین بن علی نے عرب بغاوت (1916-1918) کی قیادت کی، جس کا مقصد عرب دنیا کو عثمانی حکومت سے آزاد کرانا تھا۔[3] تاہم، جنگ کے بعد عرب خطوں کا سائیکوس پیکو معاہدے کے تحت فرانس اور برطانیہ کے درمیان تقسیم ہونا عرب قوم پرستی کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔

نظریاتی بنیادیں

[ترمیم]

عرب قوم پرستی کی بنیادیں درج ذیل اصولوں پر رکھی گئی ہیں:[4]

  • تمام عربوں کا ایک واحد قوم ہونا
  • عربی زبان کو متحدہ ثقافتی عنصر کے طور پر تسلیم کرنا
  • عرب دنیا کی آزادی اور اتحاد
  • نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت

عرب قوم پرستی کا عروج

[ترمیم]

1950 اور 1960 کی دہائیوں میں عرب قوم پرستی عروج پر پہنچی۔[5] جمال عبدالناصر کی قیادت میں مصر اس تحریک کا مرکز بنا۔ 1958 میں مصر اور شام کے ملاپ سے متحدہ عرب جمہوریہ کا قیام عرب اتحاد کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔

اس دور میں بعث پارٹی نے عرب قوم پرستی کو ایک منظم سیاسی نظریے کے طور پر پیش کیا۔[6] بعث پارٹی کے نظریے نے "ایک عرب قوم جس کی ایک لازوال مشن ہے" کے نعرے کو فروغ دیا۔

زوال اور موجودہ صورت حال

[ترمیم]

1967 کی چھ روزہ جنگ میں عرب ممالک کی شکست عرب قوم پرستی کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی۔[7] اس کے بعد اسلامی احیاء پسندی نے عرب قوم پرستی کی جگہ لینا شروع کی۔

آج کل، عرب قوم پرستی مختلف عرب ممالک میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔[8] اگرچہ یہ اپنی سابقہ طاقت کھو چکی ہے، لیکن عرب شناسی اور عرب اتحاد کے خیالات اب بھی عرب دنیا میں اثر رکھتے ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Bassam Tibi (1997)۔ Arab Nationalism: Between Islam and the Nation-State۔ Palgrave Macmillan۔ ص 45
  2. Rashid Khalidi (1991)۔ The Origins of Arab Nationalism۔ Columbia University Press۔ ص 78
  3. David Fromkin (1989)۔ A Peace to End All Peace۔ Henry Holt and Company۔ ص 123
  4. Adeed Dawisha (2003)۔ Arab Nationalism in the Twentieth Century۔ Princeton University Press۔ ص 89
  5. Albert Hourani (1991)۔ A History of the Arab Peoples۔ Harvard University Press۔ ص 345
  6. John F. Devlin (1976)۔ The Baath Party: A History from its Origins to 1966۔ Hoover Institution Press۔ ص 67
  7. Malcolm Kerr (1971)۔ The Arab Cold War۔ Oxford University Press۔ ص 112
  8. Fouad Ajami (1992)۔ The Arab Predicament۔ Cambridge University Press۔ ص 178

بیرونی روابط

[ترمیم]