مندرجات کا رخ کریں

عرش منیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
عرش منیر
معلومات شخصیت
پیدائش 28 مئی 1914ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ، برطانوی ہند
وفات 8 ستمبر 1998ء
کراچی، پاکستان
قومیت پاکستانی
پیشہ اداکارہ، آل انڈیا ریڈیو اور پی ٹی وی سے وابستگی
کارہائے نمایاں شہزوری، کیا بنے بات، فنونی لطیفے[1]
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عرش منیر کی پہچان اور ان کی شہرت قیام پاکستان کے سے شروع ہوتی ہے، جب وہ بعد وہ پاکستان آگئیں اور ریڈیو پاکستان سے بطور اسٹاف آرٹسٹ وابستہ ہوگئیں۔ ٹیلی ویژن کے آغاز کے بعد انھوں نے متعدد ٹی وی ڈراموں میں بھی اپنی فنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ 1983ء میں حکومت پاکستان نے انھیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ 8 ستمبر 1998ء کو ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کی اس مشہور صداکار ہ اور اداکارہ کا کراچی میں انتقال ہوا اور سخی حسن کے قبرستان میں تدفین کی گئی۔

منیر کی پس منظری وابستگی لکھنؤ سے تھی جہاں وہ برطانوی ہند کے دور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے شوہر شوکت تھانوی اردو کے معروف ادیب تھے اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ تھے۔ انھی کی تحریک پر عرش منیر نے آل انڈیا ریڈیو سے صداکاری کا آغاز کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی آواز اور انداز نے انھیں پاکستان میں ایک نمایاں مقام دیا اور وہ زیادہ تر سامعین و ناظرین کے لیے پاکستان ہی سے جانی پہچانی گئیں، اگرچہ ان کی پیدائش اور ابتدائی تربیت برطانوی ہند]] میں ہوئی تھی۔

دائرہ کار کی وسعت

[ترمیم]

عرش منیر کی فنی زندگی کا دائرہ محدود نہ رہا بلکہ پاکستان ٹیلی ویژن کے قیام کے بعد انھوں نے متعدد ٹی وی ڈراموں میں بھی اپنی صدا، لہجے اور ادا کاری کے ذریعے الگ پہچان بنائی۔ ان کا تلفظ، اردو لہجے کی گہرائی اور مکالمہ ادا کرنے کا انداز عوام میں پسندیدگی اور ملک کی نئی نسل کے لیے ایک معیار تصور کیا جاتا تھا۔ کئی ابھرتے ادا کار اور صدا کار انھیں استاد کی حیثیت سے دیکھتے تھے اور ان سے آواز کے اتار چڑھاؤ (Voice modulation)، مکالمے کی صحت مند ادائیگی (Dialogue delivery) اور جذبات کی صوتی تشکیل (voice amplification) کے فن کی تربیت حاصل کرتے تھے۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن کی تاریخ میں ان کا نام اس دور کی نشریاتی شناخت کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے جب آواز اور مکالمہ اداکاری ہی ڈرامے کو زندگی بخشتے تھے۔ ان کی گھنٹوں کی ریکارڈنگز، ڈرامے اور اعلانات آج بھی ادارہ جاتی آرکائیوز میں محفوظ ہیں اور محققین انھیں پاکستان کی صوتی تاریخ کے بنیادی ماخذ کے طور پر دیکھتے ہیں۔[2]

حکومت پاکستان کی جانب سے اعزاز

[ترمیم]

1983ء میں حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغائے حسن کارکردگی عطا کیا، جو ان کے فنی سفر کا سرکاری اعتراف تھا۔ 8 ستمبر 1998ء کو پاکستان ریڈیو اور ٹیلی وژن کی اس مایہ ناز فنکارہ کا کراچی میں انتقال ہوا اور انھیں سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا فن طلبہ، اداکاروں اور نشریاتی ماہرین کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے اور انھیں پاکستان کے صوتی ورثے کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔[3]


مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. https://www.ptvold.com/2018/07/full-name-muneer-other-names-date-of.html
  2. ریڈیو پاکستان آرکائیوز، اسلام آباد، دستاویزی فہرست 1990ء۔
  3. ’’پی ٹی وی میگزین‘‘ خصوصی شمارہ، نومبر 1998ء۔