عروج ممتاز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عروج ممتاز
ذاتی معلومات
مکمل نامعروج ممتاز
پیدائش1 اکتوبر 1985ء (عمر 35 سال)
کراچی، پاکستان
بلے بازیدائیں ہاتھ
گیند بازیلیگ بریک
حیثیتآل راؤنڈر
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
آخری ایک روزہ10 May 2010  بمقابلہ  نیوزی لینڈ قومی خواتین
ماخذ: کرک انفو

عروج ممتاز (پیدائش 1 اکتوبر 1985، کراچی) پاکستان کی خاتون کرکٹ کھلاڑی ہے،[1] ان کا تعلق کراچی پاکستان سے ہے۔ وہ ایک روزہ اور ٹوئنٹی/20 بین الاقوامی کے میچوں میں پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وہ آل راؤنڈر کی حیثیت سے کھیلتی ہیں۔ وہ پاکستان کے علاوہ ایشیاء الیون کرکٹ ٹیم کے لیے بھی کھیل چکی ہیں۔ انہوں نے اب تک ایک ٹیسٹ میچ، 38 ایک روزہ اور 9 ٹوئنٹی/20 میچوں میں حصہ لے چکی ہیں۔ وہ خواتین کرکٹ عالمی کپ 2009 میں پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان تھیں۔[2]

وہ ایک پاکستانی ویمن کرکٹ تبصرہ نگار ، ٹیلی ویژن میزبان ، دانتوں کی ڈاکٹر اور سابق کرکٹر ہیں [3] [4]۔ انہوں نے فاطمہ جناح ڈینٹل کالج سے گریجویشن کی اور شیفیلڈ یونیورسٹی سے بحالی ڈینٹسٹری میں ایم ایم ای ایس سی آئی کی [5] ۔

کیریئر[ترمیم]

وہ آل راؤنڈر کی حیثیت سے پاکستان کی قومی ویمن کرکٹ ٹیم کے لئے کھیلی اور ایشیاء الیون کرکٹ ٹیم میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ایک ٹیسٹ میچ ، 38 ون ڈے اور نو ٹوئنٹی 20 میچوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے 10 مئی 2010 کو نیوزی لینڈ کی خواتین کے خلاف سیریز میں حصہ لیا تھا۔ وہ آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ 2009 میں بھی ٹیم کی کپتان کی حیثیت سے کھیلی تھیں۔ 2010 میں وہ ہر طرح کی کرکٹ سے ریٹائر ہوگئیں [6]۔ مارچ 2019 میں انھیں تمام خواتین سلیکشن پینل کی سربراہی کے لئے مقرر کیا گیا تھا [7] ۔ اپریل 2019 میں وہ دورہ جنوبی افریقہ کے لئے پاکستان خواتین ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا حصہ تھیں۔ اکتوبر 2020 میں وہ مردوں کے ون ڈے کرکٹ میچ میں مبصر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون تبصرہ نگار بن گئیں [8] ، یہ واقعہ پاکستان اور زمباوے کے درمیان پہلے ون ڈے کے دوران پیش آیا۔

تنازعہ[ترمیم]

ایک پاکستانی ٹی وی شو میں سابق پاکستانی کرکٹر بتول فاطمہ نے الزام لگایا کہ عروج فاطمہ نے ذاتی رنجش اور کدورت کی وجہ سے پاکستانی کرکٹر ثنا میر کو آئی سی سی ویمن ٹی 20 ورلڈ کپ سے ڈراپ کر دیا [9]۔ عروج فاطمہ نے بتول کے تمام الزامات کی تردید کی اور اصرار کیا کہ ثنا میر کو ان کی غیر متاثرکن کارکردگی کی بنا پر ڈراپ کیا گیا [10] [11]۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Urooj Mumtaz | Cricket Players and Officials | ESPNcricinfo
  2. "آرکائیو کاپی". 26 مارچ 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 مارچ 2015. 
  3. "PSL 2020: Waqar Younis, Urooj Mumtaz to reportedly join commentary panel". www.geosuper.tv. 
  4. "Urooj Mumtaz". Cricinfo. 
  5. "Follow your dream and be sincere to yourself and your profession- Dr Urooj Mumtaz". August 27, 2014. 
  6. Hasan، Shazia (March 31, 2019). "CRICKET: LEADING FROM THE FRONT". DAWN.COM. 
  7. "Urooj Mumtaz to head PCB's all-women selection panel". www.espncricinfo.com (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2020. 
  8. "Urooj Mumtaz becomes first Pakistan woman commentator to officiate in men's ODI". BDCricTime (بزبان انگریزی). 2020-10-31. اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2020. 
  9. "Urooj Mumtaz clarifies 'animosity' towards Sana Mir". www.geosuper.tv (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2020. 
  10. "Urooj Mumtaz refutes allegations of axing Sana Mir over personal enmity". www.geo.tv (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2020. 
  11. "Poor form or... why was Sana Mir given the axe?". www.espncricinfo.com (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2020.