عزیزان علی رامتینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عزیزان علی رامتینی
Azizan Ali Ar-ramitani.png 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1194  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 25 دسمبر 1315 (120–121 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر

خواجہ عزیزان علی رامیتنی سلسلہ خواجگان میں آپ کا لقب حضرت عزیزاں ہے۔ اہل خوارزم آپ کو خواجہ علی باوردی کہتے تھے، اہل بخارا آپ کو خواجہ علی رامیتنی کہتے رہے اور صوفیا آپ کو حضرت عزیزاں کہتے تھے۔ آپ بخارا سے دو میل کے فاصلے پر واقع رامیتن نامی گاؤں میں 591ھ 1194ء میں پیدا ہوئے۔ آپ عالم و شاعر اور ولی کامل تھے۔ تصوف کے موضوع پر آپ نے ایک رسالہ بھی تحریر فرمایا ۔[1]

حالات زندگی[ترمیم]

خواجہ کا نام علی تھا۔ چونکہ آپ اپنے آپ کو عزیزاں کہتے تھے اور اپنے بارے میں بات کرتے وقت فرماتے کہ عزیزاں کا یہ خیال ہے اس لیے آپ کا لقب عزیزاں ہو گیا۔ خواجہ علی رامیتنی خواجہ خضر کے صحبت دار تھے اور انہی کے ارشاد پرخواجہ محمود انجیر فغنوی کے مرید ہوئے۔ جب خواجہ محمودفغنوی کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے خواجہ علی رامیتنی کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ آپ کچھ عرصہ اپنے آبائی وطن میں ارشاد و ہدایت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد میں حوادث زمانہ کے تحت آپ رامیتن چھوڑ کر قصبہ باوردچلے آئے اور ایک مدت تک وہیں اپنے روحانی درجات و کمالات سے خلق خدا کو مستفیض کرتے رہے۔

خوارزم میں قیام[ترمیم]

منگولوں کے قبضہ کی وجہ سے وسط ایشیا کے حالات ٹھیک نہ تھے۔ آپ نے بالآخر باورد سے ترک وطن کر کے مرکزی شہر خوارزم میں قیام کا ارادہ کر لیا اور اخیر عمر تک وہیں سکونت پزیر رہے۔ خوارزم میں داخلہ سے پہلے جب آپ شہر کی فصیل تک پہنچے تو باہر ہی تک گئے اور دو درویشوں کو خوارزم کے حکام کے پاس بھیجا اور کہا کہ فقیر آپ کے شہر کے دروازے پر آیا ہے اور یہاں قیام کا اردہ رکھتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی مصلحت مانع نہ ہو تو شہر میں داخل ہو جائے ورنہ واپس چلا جائے۔ آپ نے درویشوں کو سمجھا دیا کہ اگر حاکم اجازت دے تو اس سے اس بارے میں تحریر حاصل کر لیں اور اس پر اس کی مہر بھی ثبت کرائیں۔ جب حاکم شہر اور اس کی مصاحبوں نے ان درویشوں کی درخواست سنی تو ہنسنے لگے کہ کیسے سادہ لوح لوگ ہیں۔ تاہم حاکم نے تحریری اجازت نامہ لکھ کر اپنی مہر ثبت کر دی ۔ اب آپ شہر میں داخل ہوئے اور ایک گوشہ میں درویشوں کے ساتھ عبادت و ریاضت میں مصروف ہو گئے۔ آپ کا معمول تھا کہ ہر روز صبح دو مزدوروں کو تلاش کر کے اپنے ساتھ لاتے اور گھر آکر انہیں فرماتے کہ وضو کرو، ظہر اور عصر کی نماز ہمارے ساتھ ادا کرو اور ذکر میں مصروف ہو جاؤ۔ شام کو تمہیں پوری مزدوری مل جائے گی۔ مزدور اسے آسان کام سمجھتے ہوئے بہت خوش ہو کر ان ہدایات کی تعمیل کرتے۔ اس ایک دن کی صحبت کا اثر ان مزدوروں پر ایسا پڑتا کہ وہ شیخ کے پاس بغیر بلائے حاضری پر مجبور ہو جاتے۔ اس طرح آہستہ آہستہ آپ کا حلقہ وسیع تر ہو نے لگا اور ایک وقت آیا کہ لوگوں کا ہجوم آپ کے در دولت پر حاضر رہنے لگا۔ ان میں شہر کے بڑے افراد بھی تھے۔ حاکم خوارزم کو جب اس صورت حال کا علم ہوا تو اسے خدشہ لاحق ہوا کہ شیخ کے اثر و رسوخ اور مقبولیت سے حکومت کے خلاف فساد نہ اٹھ کھڑا ہو۔ اس خیال کے تحت وہ آپ کو شہر بدر کرنے کے درپے ہو ا۔ علی رامیتنی نے ان دونوں درویشوں کو اجازت نامہ مع مہر دے کر اس کے پاس بھیجا کہ ہم تمہاری اجازت سے اس شہر میں داخل ہوئے ہیں۔ اگر تم بد عہدی کرنا چاہتے ہو تو ہم چلے جاتے ہیں۔ حاکم اپنا اجازت نامہ بھول چکا تھا۔ اب اس نے اسے ملاحظہ کیا تو شرمندہ ہوا اور وہ اور اس کے درباری خواجہ رامتینی کی دوربینی اور کشف کے قائل ہو گئے اور آپ کے عقیدت مندوں میں داخل ہو گئے ۔

زمانہ[ترمیم]

برصغیر پاک و ہند کی طرف دیکھا جائے تو خواجہ رامیتنی نے خاندان غلاماں سے علاؤ الدین خلیجی تک کا زمانہ پایا تھا اور مشائخ چشت میں سے بابا فرید گنج شکر، مخدوم علاؤ الدین صابر اور خواجہ نظام الدین اولیاء آپ کے ہم عصر تھے۔ مغرب میں امام شاذلی، ابن عربی، احمد البدوی (بانی سلسلہ بدویہ ) اور مولانا جلال الدین رومی(بانی سلسلہ مولویہ ) کا تعلق بھی آپ کے عہد سے تھا۔

اقوال زریں[ترمیم]

آپ کے درج ذیل ملفوظات سنہری الفاظ میں لکھنے کے قابل ہیں۔ ”مرد وہ ہے جس کو تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے۔ نامرد وہ ہے جو ذکر کرے مگر خدا کے لیے نہ کرے، یعنی رضائے الٰہی کے سوا کوئی اور مقصد پیش نظر رکھتا ہو“۔ ”عمل کرکے اسے بھلا دینا چاہیے“۔ آپ کی مشہور رباعی ہے۔
باہر کہ نشستی ونہ شد جمع دلت
وزتو نہ رمید زحمتِ آب وگِلت
زنہار ز صحبتش گریزاں می باش
ورنہ نکند روح عزیزان بحلت
ترجمہ: جس کی صحبت کی مگر اس سے آپ کا دل مانوس نہ ہوا اور آپ سے مٹی و پانی والی اوصاف رخصت نہ ہوئیں یعنی اس کی صحبت سے اچھے اخلاق آپ کے اندر پیدا نہ ہوئے تو چاہیے کہ لازمی طور پر اس کی صحبت سے دور بھاگو۔ ورنہ عزیزان کی روح آپ کے ساتھ نہ ہوگی۔ مجھ سے فیض حاصل نہ کرسکو گے۔ اگر فیض حاصل کرنا ہے تو غیروں کی صحبت کو ترک کردو۔[1]

  1. )آپ کا پیشہ نساجی ( کپڑا بننا) تھا۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ ایمان کسے کہتے ہیں۔ آپ نے اپنے پیشہ کی مناسب سے فرمایا: کندن و پیوستن ( دھاگا ادھر سے توڑنا اور ادھر کو جوڑنا) یعنی خلق سے تعلق خاطر توڑنا اور خدا سے جوڑنا۔
  2. )ایسی زبان سے دعا کرو جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے دوستوں سے عرض کرو کہ وہ تمہارے لیے دعا کریں ۔
  3. )نیک اعمال کرو اور یہی سمجھتے رہو کہ تم نے نیک اعمال کما حقہ، نہیں کیے اور اپنے آپ کو قصور وار خیال کرتے رہو۔
  4. )اگر نیک لوگوں کے پاس بیٹھو گے تو نیک ہو جاؤ گے اور اگر بدوں کے پاس بیٹھو گے تو بد ہو جاؤ گے۔
  5. اگر تو ایسے شخص کے ساتھ بیٹھے گا جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے تجھے غافل کر دے تو جان لے کہ وہ انسانی شکل میں شیطان ہے۔ انسانی ابلیس، جن ابلیس سے بدتر ہے کیونکہ جن ابلیس پوشیدہ طور پر وسوسہ ڈالتا ہے اور انسانی ابلیس ظاہر ی طور پر۔
  6. یار نیک، کار نیک سے بہتر ہے کیونکہ ممکن ہے کہ کار نیک سے تمہارے اندر فخر و تکبر پیدا ہو لیکن یار نیک ہر صورت میں راہ نیک کا مشورہ دے گا۔
  7. ہمارے لیے کچھ دوروالے نزدیک ہیں اور نزدیک والے دور۔ دوروالے نزدیک وہ لوگ ہیں۔ جو بظاہر بدنی لحاظ سے ہم سے دور ہیں لیکن دل و جان کے ساتھ ہم سے نزدیک ہیں۔ نزدیک والے دور وہ لوگ ہیں جو بظاہر ہماری صحبت میں ہیں مگر دل و جان سے ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا دل کاروبار دنیا اور حرص وہوا میں مبتلا ہے۔ ہمارے لیے نزدیک والے دور لوگوں کے مقابلے میں دور والے نزدیک بہتر ہیں کیونکہ اصل اعتبار تو دل و جاں کی نزدیکی کا ہے، آب و گل کی نزدیکی لائق اعتبار نہیں ۔
  8. کسی درویش نے آپ سے دریافت کیا کہ بالغ شریعت کسے کہتے ہیں اور بالغ طریقت کون ہے۔ فرمایا: بالغ شریعت وہ ہے جس سے انا نکلے اور بالغ طریقت وہ ہے کہ جو انا سے باہر آجائے۔ اس درویش نے یہ سن کر سرزمین پر رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا: سرزمین پر رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ جو کچھ سر میں ہے (یعنی غرور و نخوت ) وہ زمین پر رکھو۔
  9. آپ کے فرزند اور جانشین خواجہ ابراہیم نے دریافت کیا کہ اس کے کیا معنی ہیں الفقیر لا یحتاج الی اللّٰہ ( فقیر اللہ کی طرف حاجت نہیں رکھتا)۔ حضرت نے فرمایا : لا یحتاج بالسوال الی اللہ (فقیر اللہ سے سوال کی حاجت نہیں رکھتا) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے، اس سے سوال کی کیا ضرورت ہے، وہ سب کی حاجات جانتا ہے۔
  10. آپ کے فرزند ارجمند نے دریافت کیا کہ ایک طرف تو یہ دو حدیثیں ہیں الفقر سواد الوجہ جی الدارین و کار الفقر ان یکون کفرا (فقر دو جہاں میں رو سیاہی ہے اور قریب ہے کہ فقر کفر کی صورت اختیار کرے ) اور دوسری طرف یہ حدیث ہے الفقر فخری (فقر میرا فخر ہے )۔ یہ دونوں حدیثیں بظاہر متضاد ہیں، ان میں تطبیق کیسے کی جائے۔ خواجہ نے فرمایا کہ اول کی دو حدیثیں ان فقیروں کے حق میں ہیں جو اپنا فقر خلق پر ظاہر کرتے ہیں، اسے گدا گری کا ذریعہ بناتے ہیں اور اس سے منافع کماتے ہیں۔ اگر فقیر کے ہاتھ میں کچھ نہ ہو اور دل میں بھی کچھ خواہش نہ ہو تو وہ فقیر محمود الصفات ہے اور وہ الفقر فخری کہے تو درست ہے اور اگر فقیر کے ہاتھ میں کچھ نہ ہو مگر دل میں خواہاں ہو تو وہ گدائے محلّہ ہے نہ کہ تابع رسول اللہ ؐ اور اگر فقیر کے ہاتھ میں بھی ہو اور دل میں مزید خواہش رکھتا ہو تو وہ مذموم الصفات ہے۔ دو جہاں کی رو سیاہی اور کفر کے قرب والی بات اس پر صادق آتی ہے۔
  11. اگر بندہ کو اللہ تعالیٰ مخاطب کر کے کہے کہ اے بندہ ہم سے جو حاجت ہے مانگ۔ شرط بندگی یہ ہے کہ بندہ خدا سے سوائے خدا کے اور کچھ نہ مانگے ۔
  12. اگر کسی شخص کے پاس کچھ نہ ہو مگر اس کے دل میں خواہش موجود ہو تو اس کو تجرید معنوی حاصل نہیں۔ اور کسی شخص کے پاس سب کچھ ہو مگر اس کے دل میں اس مال کی محبت نہ ہو تو اسے تجرید معنوی حاصل ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے ستر کتے تھے جن کے پٹے سونے کے تھے اور وہ آپ کی بکریوں کی حفاظت کیا کرتے تھے۔ اس سے آپ کے باقی مال و اسباب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے مگر آپ نے یہ سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا۔ سلیمان علیہ السلام ایک وسیع سلطنت اور خزانوں کے مالک تھے مگر اس میں سے اپنی ذات کے لیے کچھ روانہ رکھتے تھے اور خود زنبیل بافی کر کے بسر اوقات کرتے تھے۔ ابو سعید ابی الخیر نہایت مالدار تھے اور ظاہری شان و شوکت سے رہتے تھے۔ اسی طرح بہت سے انبیا و اولیاء ایسے گزرے ہیں کہ جن کے پاس مال و متاع بکثرت تھا لیکن ان کے دل میں اس کا ذرہ بھر اہمیت و محبت نہ تھی۔ انہیں تجرید معنوی حاصل تھی۔
  13. شیخ بدر الدین نے آپ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا ایھا الذین امنوا اذکروا اللّٰہ ذکرا کثیرا (اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثیر کرو)۔ یہاں ذکر کثیر سے مراد ذکر زبان ہے یا ذکر دل۔ آپ نے فرمایا :متبدی کے لیے ذکر زبان اور منتہی کے لیے ذکر دل۔ متبدی کو ہمیشہ تکلف سے کام لینا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس منتہی کے ذکر کا اثر دل تک پہنچتا ہے اور اس کے تمام اعضاء گیں اور جوڑ ذکر کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت سالک ذکر کثیر سے متصف ہوتا ہے۔ اس مقام پر اس کا ایک دن کا کام دوسروں کے سال بھر کے کام کے برابر ہوتا ہے۔
  14. جو شخص مسند ارشاد پر بیٹھے اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھائے، اسے پرندے پالنے والے کی طرح ہونا چاہیے جو ہر پرندہ کی پوٹ سے واقف ہوتا ہے اور ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق خوراک دیتا ہے۔ اسی طرح مرشد کو بھی چاہیے کہ اپنے مریدوں میں سے ہر ایک کی تربیت اس کی استعداد اور صلاحیت کے مطابق کرے۔
  15. سالکان طریقت کو کسی مرتبہ و مقام تک پہنچنے کے لیے بڑی ریاضت اور مجاہدہ کی ضرورت پڑتی ہے لیکن ایک ایسا نزدیک کا راستہ بھی ہے جس کے ذریعے مقصود کو جلد پہنچ سکتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ سالک خلق اور خدمت کے ذریعے کسی صاحب دل کے دل میں جگہ پائے۔ چونکہ ان لوگوں کے دل پر نظر حق رہتی ہے اس لیے سالک کو اس نظر سے حصہ مل جائے گا۔

کرامات و حکایات[ترمیم]

ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ مجھے بھول نہ جائیے گا۔ آپ نے فرمایا کہ بازار جا کر ایک کوزہ خرید و اور ہمیں لا کر دو۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ فرمایا جس وقت اسے دیکھوں گا تجھے یاد کروں گا۔ کسی شخص نے طنز اً کہا کہ حضرت عزیزاں بازاری ہیں۔ یعنی سوت کی خریداری کے لیے بازار جایا کرتے ہیں۔ فرمایا : یار عزیزاں زاری چاہتاہے۔ پھر کیوں نہ بازاری ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں عاجزی، زاری ،

سوزونیاز[ترمیم]

خواجہ علی رامیتنی خوارزم میں کپڑا بننے کا کام کرتے تھے۔ آپ ہر روز شام کے وقت سوت بیچنے والوں کے بازار میں تشریف لے جاتے تھے اور جن فقیروں کا سوت نہیں بکتا تھا، ان کا سارا سوت خرید کر گھر آتے تھے۔ آپ ساری رات مراقبہ میں مصروف رہتے تھے لیکن صبح تک چالیس گز کر باس( موٹا سوتی کپڑا ) تیار ہو چکا ہوتاتھا۔ اس کو بازار میں فروخت کر کے اس رقم کو آپ تین حصوں میں تقسیم کرتے تھے ایک حصہ علما پر ایک حصہ فقراء پر اور ایک حصہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے تھے۔ آپ کے اس پیشہ کی وجہ سے آپ کو نساج (کپڑا بننے والا) کا لقب بھی دیا گیا چنانچہ مولانا رومی نے اسی لقب کے ساتھ آپ کے بارے میں یہ شعر کہا: گر نہ علم حال فوق قال بودے کے شد بندہ اعیان بخارا خواجہ نساج را (اگر علم حال، قال سے بہتر نہ ہوتا تو بخارا کے سردار خواجہ ء نساج کے غلام کب بنتے )۔ ایک روز ایک معزز مہمان خواجہ رامتینی کے گھر آیا۔ اتفاق سے اس وقت آپ کے گھر میں کوئی چیز نہ تھی۔ مہمان کو کافی انتظار کرنا پڑا اور ظاہر ہے کہ آپ کو پریشانی لاحق ہوئی۔ اچانک ایک نوجوان جو کھانا فروخت کرتا تھا اور آپ کے عقیدت مندوں میں سے تھا، کھانے سے بھرا ایک خوان لایا اور آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے مہمان کو کھانا کھلایا۔ اس نوجوان کا ایسے وقت پر آنا کھانا لانا آپ کے لیے بے حد خوشنودی کا باعث بنا اور آپ نے خوش ہو کر فرمایا کہ تیری جو مراد ہو وہ مانگ، انشاء اللہ پوری ہو گی۔ وہ نوجوان بڑا ذہین اور ہوش مند تھا۔ اس نے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ ایسا ہو جاؤ جیسے آپ ہیں۔ آپ نے فرمایا : یہ نہایت مشکل بات ہے۔ تم پر اس کا ایسا بوجھ پڑے گا جس کو اٹھانے کی تمہارے اندر طاقت نہیں۔ نوجوان نے بڑی عاجزی سے کہا کہ میری مراد تو بس یہی ہے۔ اس کے علاوہ میری کوئی آرزو نہیں۔ عزیزاں علی نے فرمایا اچھا ایسا ہی ہو جائے گا۔ اب آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر بالکل علیحدگی میں لے گئے اور مراقبہ کی حالت میں اس پر توجہ فرمائی چنانچہ حضرت کی شبیہ اس پر وارد ہو ئی اور وہ صورت و سیرت اور ظاہر و باطن میں آپ کی طرح ہو گیا۔۔ اس کے بعد وہ نوجوان کم و بیش چالیس روز تک زندہ رہا اور بالآخر اس بارگراں کو اٹھانے کا متحمل نہ ہو سکا اور فوت ہو گیا۔( اسی قسم کا واقعہ خواجہ باقی بااللہ کے حالات میں بھی ملتا ہے )۔ عزیزاں علی رامیتنی کے دو فرزند تھے۔ بڑے فرزند کا نام خواجہ محمد اور چھوٹے کا نام خواجہ ابراہیم تھا۔ خواجہ محمد خواجہ خورد کہلاتے تھے کیونکہ مرید عزیزاں کو خواجہ بزرگ کہا کرتے تھے۔ جب خواجہ کا آخری وقت آیا تو آپ نے اپنے چھوٹے لڑکے خواجہ ابراہیم کو خلافت عطا کرکے اپنا جانشین بنایا۔ مریدوں کے دل میں خیال آیا کہ بڑے فرزند کی موجودگی میں جو بڑے عالم اور عارف ہیں، چھوٹے فرزند کو یہ منصب کیوں عطا کیا گیا۔ آپ نے لوگوں کے ان جذبات سے آگاہ ہو کر فرمایا کہ خواجہ محمد ہمارے بعد زیادہ دن زندہ نہیں رہیں گے اور جلد ہی ہمیں آملیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آپ کی وفات کے انیس روز بعد خواجہ خورد نے 715ھ میں وفات پائی جبکہ ان کے چھوٹے بھائی خواجہ ابراہیم 793ھ تک زندہ رہے۔

وفات[ترمیم]

عزیزاں علی نے ایک سو تیس سال کی عمر میں 27 رمضان المبارک 715ھ یا 721ھ بمطابق 1316ء بروز پیر کو وفات پائی۔ مزار مبارک ملک فارس کے شہر خوارزم میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔۔ ،[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ جلوہ گاہِ دوست
  2. تذکرہ مشائخ نقشبندیہ صفحہ 113 تا120نور بخش توکلی مشتاق بک کارنر لاہور