مندرجات کا رخ کریں

عسکری فریب کاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

عسکری فریب کاری (انگریزی: Military deception) سے مراد جنگی حالات میں دشمن کے فیصلوں کو گمراہ کرنے کے لیے دانستہ اور منصوبہ بند طریقے سے جھوٹا تاثر دینا ہے۔ اس کا مقصد دشمن کو ایسے اقدامات پر مجبور کرنا (یا باز رکھنا) ہوتا ہے جو فریب دینے والی فوج کے حق میں سازگار ہوں۔ یہ فریب کاری عمومی طور پر نفسیاتی حربوں، معلوماتی جنگ، بصری چال بازی اور دیگر چالاکیوں کے ذریعے کی جاتی ہے، جس سے میدانِ جنگ میں ایک مصنوعی غبار (fog of war) پیدا کی جاتی ہے۔ اس کا تعلق نفسیاتی جنگ سے بھی ہوتا ہے۔ عسکری فریب کاری کا عملیاتی سلامتی (آپریشنز سیکیورٹی OPSEC) سے بھی گہرا تعلق ہے کیونکہ عملیاتی سلامتی کا مقصد دشمن سے کسی تنظیم کی صلاحیتوں، سرگرمیوں، کمزوریوں اور ارادوں سے متعلق اہم معلومات کو چھپانا یا دشمن کو کوئی قابلِ یقین متبادل وضاحت دینا ہوتا ہے جبکہ فریب کاری جھوٹی معلومات کو اس انداز میں ظاہر کرتی ہے کہ دشمن کو گمراہ کیا جا سکے۔[1]

فریب کاری کی مثالیں قدیم تاریخ میں بھی ملتی ہیں۔[2] چینی فلسفی سن زو کی شہرۂ آفاق کتاب فنِ حرب میں فریب کاری کو کمزور افواج کے لیے طاقتور دشمن کو شکست دینے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔[3] ایسی تدابیر قدیم مصر، یونان، روم، قرون وسطیٰ، نشاۃ ثانیہ اور نوآبادیاتی دور میں بھی استعمال ہوتی رہیں۔

پہلی عالمی جنگ میں فریب کاری کا استعمال ہوا لیکن دوسری عالمی جنگ میں اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی۔ آج کی جدید جنگوں میں بھی دنیا کی کئی افواج نے فریب کاری کو باقاعدہ ایک عسکری حکمتِ عملی کے طور پر اپنا رکھا ہے۔

ناگہانی حملہ (انگریزی: Surprise attack) بھی عسکری فریب کاری ہی کی ایک صورت ہے جس میں دشمن کو اچانک اور غیر متوقع طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ وہ سنبھلنے یا رد عمل دینے کا موقع نہ پا سکے۔

تعریف

[ترمیم]

اگرچہ بہت سی معیاری فوجی سرگرمیوں کو ظاہری طور پر فریب کاری پر مبنی سمجھا جا سکتا ہے لیکن وہ عسکری فریب کاری کے زمرے میں نہیں آتیں۔ مثال کے طور پر کوئی عسکری دستہ (یونٹ) جب کسی مقام پر پہنچ کر اپنے مشن سے قبل ترتیب سازی اور مشق مکمل کرتا ہے تو وہاں موجود گاڑیوں، ساز و سامان اور عملے کو چھپانا ایک عام حربہ ہوتا ہے تاکہ دشمن کو الجھن میں مبتلا کیا جا سکے۔[4] عسکری فریب کاری اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ اس میں کوئی فوجی دستہ دانستہ طور پر ایک تفصیلی منصوبہ بندی کے ساتھ ایسی مہم سر انجام دیتا ہے جس کا مقصد دشمن کے فیصلہ ساز کو ایسی کارروائی پر آمادہ کرنا ہوتا ہے جو خود اس کے لیے نقصان دہ اور فریب دینے والے فریق کے لیے فائدہ مند ہو۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ U.S. Army Combined Arms Center (26 Feb 2019). FM 3–13.4: Army Support to Military Deception (PDF) (بزبان انگریزی). Washington, D.C.: U.S. Army Publishing Directorate. pp. 2–8. Archived from the original (PDF) on 2020-10-10. Retrieved 2020-10-07.
  2. ↑ Richard Baker (17 Nov 2011). "The lost and found art of deception". Army.mil (بزبان انگریزی). Washington, D.C.
  3. ↑ David Petraeus (26 Mar 2018). "'The Art of War': As relevant now as when it was written". The Irish Times (بزبان انگریزی). Dublin, Ireland.
  4. ↑ George W. Gipe (Winter 1973). "Camouflage, Camouflage: Wherefore Art Thou, Camouflage?". The Engineer (بزبان انگریزی). Ft. Belvoir: U.S. Army Engineer School. pp. 21, 24 – via Google Books.