عشرت لکھنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ محمد عبد الرؤف خان المعروف بہ عشرت لکھنوی (9 جون 1868ء — 29 جون 1940ء[1]) لکھنؤ کے اردو زبان کے شاعر، مصنف اور تحفظ اردو کے پرزور داعی تھے۔ انجمن اصلاح سخن، لکھنؤ کے سیکریٹری رہے اور اردو لغات و قواعد پر کئی کتابیں لکھیں۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

خواجہ محمد عبد الرؤف عشرت کے والد کا نام خواجہ محمد عبد الشکور بن خواجہ محمد وجیہ الدین بن محمد علی خان بہادر بن عبد الشکور خان بہادر۔ خان بہادر نام کے ساتھ خان کا لفظ خطابی تھا جو بادشاہِ اودھ سے عطا ہوا تھا۔

اجداد میں سے عبد الشکور خان، والی بلخ کے خلف اصغر تھے، جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا تو بھائیوں میں نااتفاقی اور دشمنی پیدا ہو گئی اور ہر شخص سلطنت کا دعویدار ہو گیا۔ خاندان کی لڑائی اور بیوفائی سے دل برداشتہ ہوکر 1180ء میں بیوی کو لیکر رات میں نکل پڑے اور دہلی پہنچے۔ وہاں سے فیض آباد آئے، نواب شجاع الدولہ بہادر سے ملاقات کی اور نذر پیش کی، نواب نے ان کی خوب عزت کی اور ان کو قلعہ داری الہ آباد کا خلعت ملا اور "خان بہادر" کا خطاب عطا ہوا۔ عبد الشکور خان بہادر الہ آباد کے قلعہ دار تھے اور مع اہل وعیال وہیں سکونت پذیر تھے۔ 1190ء میں ان کا انتقال ہو گیا اور الہ آباد قلعہ میں شہ نشین کے وسط میں مدفون ہوئے۔[2]

نواب آصف الدولہ کے حکم سے عبد الشکور خان بہادر کے بیٹے محمد علی خان والد کی جگہ قلعہ دار مقرر ہوئے، نواب آصف الدولہ کے انتقال کے بعد وزیر علی خان مسند نشین ہوئے لیکن چند عرصے بعد انھیں معزول کر کے کلکتہ بھیج دیا گیا، سلطنت اودھ کے معاہدہ میں قلعہ الہ آباد کے تخلیہ کا بھی فیصلہ کیا گیا اور گورنمنٹ نے نواب سعادت علی خان سے اس امر کا ایک حکم نامہ لکھوا کر محمد علی خان کے پاس بھجوا دیا، محمد علی خان نے جدید بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی اور قلعہ خالی کر کے اپنے خاندان کو ہمراہ لیکر بادشاہ کے حضور حاضر ہوئے۔ یہ بہت نازک مزاج تھے، لہذا جب کوئی صورت نظر نہیں آئی تو لکھنؤ کے محلہ "احاطہ خانسامان" میں سکونت اختیار کی اور خانہ نشین ہو گئے۔[3]

اودھ میں آ کر انھوں نے اپنے لڑکوں کی شادی اہل کشامرہ میں کی اور نواب ظہیر الدولہ بہادر وزیر اودھ سے قرابت کا سلسلہ قائم ہوا۔

خواجہ عشرت کے نانا مولوی عطا حسین عرف مولوی گدائی صاحب فارسی کے بیمثل استاد تھے، اور ان کے پر نانا عبد اللہ خان صاحب لاہور کے سفیر تھے اور وہاں ان کی عمارات و مکانات تھے لیکن بعد انتقال وہاں کوئی نہیں گیا اس سبب وہ املاک تلف ہو گئیں۔ مولوی عطا حسین صاحب بادشاہ کے یہاں بیت النشاء میں منشی تھے۔[4]

دادا وجیہ الدین بھی بہت اچھے خوش نویس تھے، شاہی میں اپنے گھر کی دولت صرف کرتے رہے، ان کے والد ماجد خواجہ محمد عبد الشکور آخری بادشاہ کے عہد میں آغاز جوانی سولہ برس کی عمر میں نواب گنج ضلع گونڈہ کے تھانہ دار ہو گئے تھے، مگر کچھ دنوں کے بعد غدر کا سامان ہو گیا اور ان کے مکان کا تمام مال و متاع لوٹ لیا گیا۔

ولادت[ترمیم]

غدر کے دس برس بعد 1867ء میں خواجہ عبد الشکور نے شادی کی اور 1868ء یوم دوشنبہ ماہ ربیع الاول کی چھٹی تاریخ میں صبح صادق کے وقت خواجہ محمد عبد الرؤف عشرت پیدا ہوئے۔[5]

تعلیم[ترمیم]

خواجہ صاحب کی ابتدائی تعلیم مولوی امید علی قدوائی کے پاس شروع ہوئی اور قرآن شریف، کریما ما مقیما تک ان سے پڑھی۔ اس کے بعد ان کے ماموں مولوی مہدی حسن جو فارسی کے مشہور استاد تھے تعلیم دینے لگے، چنانچہ ان کی توجہ سے فارسی میں بہت جلد مہارت ہو گئی۔ جب ماموں کا انتقال ہو گیا تو بعض کتابیں ابو الحسنات حاجی حافظ خواجہ قطب الدین مالک مطبع نامی سے پڑھیں۔ عربی زبان کی تعلیم کے لیے مولوی فتح محمد لکھنوی اور مولوی فریاد حسین مراد آبادی سے صرف ونحو کی چند کتابیں ختم کر کے شرح جامی شروع کی تھی۔ والد صاحب کی صحت اچھی نہ رہتی تھی اس لیے گھر کے کاموں کا بار ذمہ آ پڑا اور تعلیم کا سلسلہ موقوف کرنا پڑا، لیکن اس وقت تک فارسی اور عربی میں کافی دستگاہ حاصل ہو گئی تھی۔[6]

شعر و شاعری[ترمیم]

اسی زمانے میں خواجہ صاحب کو شاعری کا شوق ہوا، چانچہ شیخ محمد جان شاد پیرومیر کی خدمت میں حاضر ہوئے، انھوں نے حدائق البلاغت اور رسالہ قافیہ ملا قاسم پڑھایا اور متروکات سمجھایا، میر تقی میر دہلوی کے قواعد اصول اردو ذہن نشین کرایا اور غزل گوئی کی اجازت دے دی۔ پیرومیر نے ان سے کہا تھا کہ "تم کو احتیاج اصلاح نہیں ہے، تم خود ماہر ہو۔ اتنا خیال رہے کہ شعر بامعانی بامحاورہ کہا کرو اور زمانے کی موجودہ روشنی کی تقلید نہ کرنا۔" خواجہ صاحب کہتے ہیں: "مجھے استاد نے کبھی ایک مصرعہ پورا اصلاح میں نہیں دیا اور زبان اردو کی لغت لکھنے کی ہدایت کی۔[7]

ادبی صحبت[ترمیم]

مولانا شبلی نعمانی، جلال لکھنوی، تسلیم لکھنوی، شمشاد لکھنوی اور منشی سجاد حسین سے اکثر ملاقات رکھتے تھے۔ اسی طرح جناب، مولانا شرر، جناب انجم، جناب فصاحت، جناب افضل حکیم کوثر، پروفیسر مرزا محمد ہادی اور جناب کلیم وغیرہ سے بھی زیادہ ملاقات رکھتے تھے۔

مشاغل[ترمیم]

شاعری کے ساتھ ساتھ نثاری کا بھی شوق تھا۔ آغاز شاعری میں لغت لکھنا شروع کیا اور محاورات کی لغت کو مع امثلہ جمع کیا، دوسرا حصہ افعال مفرد کا لکھا، تیسرا حصہ افعال مرکب کا، چوتھا حصہ مصادر مفردہ کا، پانچواں حصہ مصادر مرکبہ کا، چھٹا حصہ مفرد الفاظ اسما کا، ساتواں حصہ اسمائے صفات کا، آٹھواں حصہ حروف روابط کا اور نواں حصہ محاورات بیگمات کا لکھا۔ لغات کی تصنیف کے درمیان میں ایک کتاب متروکات الفاظ و محاورات کی اصلاح زبان اردو کے نام سے لکھی اور دوسری کتاب قواعد صرف و نحو میں زبان دانی کے نام سے لکھی، اس زمانے میں وہ طبع ہو کر اس قدر مقبول ہوئی کہ پہلا ایڈیشن دونوں کتابوں کا آٹھ مہینے میں ختم ہو گیا۔[8]

اسی درمیان میں لکھنؤ میں شدت کی بارش ہوئی جس میں ہزارہا مکان منہدم ہو گئے، خواجہ صاحب کے کتبخانہ کا مکان بھی گر گیا اور تمام تصنیف شدہ لغت کی جلدیں ضائع ہو گئیں، جس کا انھیں سخت رنج ہوا لیکن کسی سے ذکر نہیں کیا اور دوبارہ تصنیف وتالیف میں مشغول ہو گئے۔ اس زمانے میں لکھنؤ کے مستند مشاہیر شعرا کی سعی سے لکھنؤ میں اردو زبان کے تحفظ کی غرض سے "انجمن اصلاح سخن" قائم ہوئی، خواجہ صاحب اس کے ناظم (سکریٹری) مقرر ہوئے۔ خواجہ صاحب کے مضامین سے شاید ہندوستان کا کوئی رسالہ یا اخبار خالی رہتا تھا۔ تاریخ اودھ پر بے شمار مضمون لکھے، اردو زبان کے تحفظ میں پرزور مضامین سب سے زیادہ لکھے اور اسی کوشش کا یہ اثر ہوا کہ کہ حیدرآباد میں عثمانیہ اردو یونیورسٹی قائم ہوئی اور پورے ہندوستان میں مختلف انجمنیں اردو کی حفاظت میں قائم ہوئیں۔

خواجہ صاحب کا دیوان مرتب ہو چکا ہے، اس میں قطعات اکثر کہے ہیں، تاریخیں، رباعیات کم لکھے، مخمس دو چار لکھے، قصیدے بھی کم کہے، مسدس دو ایک لکھے۔ نیچرل نظموں میں ایشیائی شاعری کی نزاکتیں پیدا کی۔

خصوصیات[ترمیم]

  • شاعری: شاعری میں میر تقی میر کے رنگ کی تقلید کرتے تھے اور فرماتے تھے "اردو میں رعایت لفظی کی بھرمار کرنا، اضافتوں کا زیادہ لانا اور فارسی تراکیب سے استعارات بعیدہ غزل میں لانا مجھے پسند نہیں، شعر صاف ہو، سلجھا ہوا ہو، معنوی پہلو کمزور نہ ہو، دل پر اثر کرتا ہو اور بامحاورہ ہو"۔
  • نظم: میر تقی میر کے کلام سے عشق تھا، اس کے بعد مرزا تقی ہوس کا کلام بہت پسند تھا اور ان کے شاعری کے دلدادہ تھے۔ سودا اور غالب کے کلام کا، بعض حصہ مطبوع خاطر سے آتش صبا، خلیل، ناسخ، برق اور رشک کا کلام بھی مطالعہ میں رہتا تھا، امیر، داغ اور جلال کے کلام کو بھی پسند کرتے تھے اور محاورے کی سند میں جلال کو زیادہ مستند مانتے تھے۔
  • قصائد: قصیدے میں سودا اور حسرت کو استاد اول مانتے تھے، منیر کے قصیدے بھی پسند تھے۔
  • مراثی: مرثیوں میں میر انیس، میر وحید اور مرزا دبیر کے کلام کو پسند کرتے تھے۔
  • اردو نثر: مرزا رجب علی بیگ کی نثر بہت پسند تھی، مولانا شبلی نعمانی کی نثر کو بھی پسند کرتے تھے۔ غالب، اور شمس العلما نذیر احمد اور سر سید احمد خان کی کتابیں زیر نظر رہتی تھیں۔
  • تاریخ: ہندوستان کی اکثر تاریخیں مطالعہ میں رکھتے تھے۔

تصانیف[ترمیم]

  • شاعری کی پہلی کتاب
  • شاعری کی دوسری کتاب
  • شاعری کی تیسری کتاب
  • شاعری کی چوتھی کتاب
  • مدح صحابہ اول
  • مضمون نویسی
  • لغات اردو اول سوم چہارم
  • اصلاح زبان اردو
  • خم خانہ عشرت
  • بیگموں کا دربار
  • قواعد میر
  • درحمیان فارس
  • ہندو شعرا
  • آب بقا
  • زبان دانی
  • رسالۂ زبان دانی
  • ہمجولی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. وفیات مشاہیر اردو از بشارت فروغ
  2. کتاب؛ خمخانہ عشرت، صفحہ؛1,2
  3. کتاب؛ خمخانہ عشرت، صفحہ؛2.
  4. کتاب؛ خمخانہ عشرت، صفحہ؛3۔
  5. کتاب؛ خمخانہ عشرت، صفحہ؛3.
  6. کتاب؛ خمخانہ عشرت، صفحہ؛3.
  7. کتاب؛ خمخانہ عشرت، صفحہ؛4.
  8. کتاب؛ خمخانہ عشرت، صفحہ؛5.