عصمت بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


عصمت بیگم
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 16ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 اکتوبر 1621  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آگرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مقبرہ اعتماد الدولہ،  آگرہ  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات مرزا غیاث بیگ  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد ابوالحسن آصف خان،  نورجہاں  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عصمت بیگم (وفات: 10 اکتوبر 1621ء) مرزا غیاث بیگ کی زوجہ، مغل ملکہ نورجہاں اور ابوالحسن آصف خان کی والدہ اور ممتاز محل کی پھوپھی تھیں۔

سوانح[ترمیم]

عصمت بیگم کے شوہر مرزا غیاث بیگ

خاندان[ترمیم]

عصمت بیگم سولہویں صدی میں ایران میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد کا نام مرزا علاء الدولہ آقا مُلا تھا [1] جن کا تعلق آقا مُلا نامی ایک قبیلہ سے تھا۔[2] عصمت بیگم عقلمند خاتون، تعلیم یافتہ اور اعلیٰ تہذیبی ورثے سے واقفیت رکھنے والی خاتون تھیں۔[3] عصمت بیگم کا ایک بھائی ابراہیم خان مغل شہنشاہ نورالدین جہانگیر کے عہد میں بنگال کا گورنر تھا۔[4]

عصمت بیگم کا فرزند ابوالحسن آصف خان

ازدواج[ترمیم]

عصمت بیگم کی شادی مرزا غیاث بیگ سے ہوئی جو خواجہ محمد شریف کا سب سے چھوٹا فرزند تھا۔ خواجہ محمد شریف تہران سے تعلق رکھنے والا ایک صفوی وزیر تھا جو خراسان کا گورنر بھی رہا۔[5][6] عصمت بیگم اور مرزا غیاث بیگ کے اولاد میں محمد شریف، ابراہیم خاں، اعتقاد خاں، منیجا بیگم، ابوالحسن آصف خان، صالحہ بیگم اور مہرالنساء بیگم (جو بعد میں ملکہ نورجہاں کے لقب سے مشہور ہوئی)۔[7] 1576ء میں غیرمساعد حالات میں یہ خاندان صفوی سلطنت کے زیر عتاب آگیا اور اِن حالات میں مرزا غیاث بیگ نے ایران سے ہندوستان ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا اور قندھار کے راستے سے ہوئے ہندوستان وارد ہوا۔[8] 1576ء میں مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہد میں یہ خاندان ہندوستان آیا اور دربارِ اکبری سے وابستہ ہوا۔ اِس حمایت کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مرزا غیاث بیگ کے والد خواجہ محمد شریف نے مغل شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کا ایران میں استقبال خواجہ محمد شریف نے کیا تھا اور مغل خاندان کے ساتھ بہترین برتاؤ کیا تھا۔ مرزا غیاث بیگ دربارِ اکبری سے وابستگی کے بعد وزیر کے عہدے پر فائز ہوگیا جو نور الدین جہانگیر کے عہد تک وہ وزیراعظم ہندوستان کے عہدے پر فائز رہا۔ مرزا غیاث بیگ کو اعتماد الدولہ کے لقب سے نوازا گیا۔[9] 1607ء میں مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر نے مرزا غیاث بیگ کو دیوان کے عہدے سے امیرالامراء کے عہدہ پر فائز کیا اور وظیفہ سالانہ پچاس ہزار کردیا گیا اور اُنہیں عدالت کا حکم نامہ بھی دے دیا گیا۔[10] 1611ء میں مرزا غیاث بیگ اور عصمت بیگم کی بیٹی مہر النساء کا عقد نور الدین جہانگیر سے ہوگیا جسے بعد میں نور محل اور پادشاہ بیگم کے القابات تفویض ہوئے مگر وہ تاریخ میں ملکہ نورجہاں کے نام سے مشہور ہوئی۔[11] ملکہ نورجہاں کی نور الدین جہانگیر سے شادی کے بعد مرزا غیاث بیگ کا یہ خاندان ترقی کرتا ہوا عروج پر پہنچ گیا۔ خاندان کے تمام افراد کسی نہ کسی عہدے پر متمکن ہوئے۔ 1611ء میں ہی مرزا غیاث بیگ کو منصب اور وزیر کے عہدے بھی تفویض کردئیے گئے اور اُن کے بیٹے اعتقاد خاں اور ابوالحسن آصف خان بھی اعلیٰ مناصب پر فائز ہوئے۔ [12]

عصمت بیگم کی بیٹی اور مغل ملکہ نورجہاں

مغل دربار میں مقام[ترمیم]

عصمت بیگم کو بھی خاندان کے دوسرے افراد کی طرح مغل دربار میں اہم مقام حاصل تھا۔ وہ مغل دربار میں عقلمند خاتون تسلیم کی جاتی تھیں اور اُنہیں حرم کے اہم فرد کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔[13] عہد جہانگیری میں وہ سیاسی حالات کی سمجھ بُوجھ رکھنے سے مغل شہنشاہ کی سیاسی مشیر بھی تصور کی جانے لگیں۔[14] جب نور الدین جہانگیر کثرتِ شراب نوشی اور افیون کا عادی ہوتا چلا گیا تو حکومتی اختیارات اور معاملاتِ حکومت ملکہ نورجہاں کے ہاتھوں میں آگئے۔[15] [16] اِن حالات میں عصمت بیگم ملکہ نورجہاں کی سیاسی مشیر بھی رہیں۔[17]

وفات[ترمیم]

آگرہ میں واقع عصمت بیگم اور مرزا غیاث بیگ کا مدفن یعنی مقبرہ اعتماد الدولہ

عصمت بیگم کا انتقال 10 اکتوبر 1621ء کو آگرہ میں ہوا۔ [18] عصمت بیگم کا انتقال خاندان پر بہت بھاری گزرا اور محض چند مہینوں بعد مرزا غیاث بیگ بھی اِسی صدمے کے باعث کانگڑہ کے مقام پر جنوری 1622ء میں فوت ہوا۔ عصمت بیگم کی تدفین چونکہ آگرہ میں ہوئی تھی، اِسی لیے مرزا غیاث بیگ کو بھی اُسی باغ میں دفن کیا گیا جس پر ملکہ نورجہاں نے بعد میں مقبرہ اعتماد الدولہ تعمیر کروایا۔[19][20]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Shujauddin, Mohammad; Shujauddin, Razia (1967). The Life and Times of Noor Jahan. Caravan Book House. p. 1.
  2. Banks Findley, Ellison (11 February 1993). Nur Jahan: Empress of Mughal India. Oxford, UK: Nur Jahan : Empress of Mughal India, p.9
  3. Nath, Renuka (1990). Notable Mughal and Hindu women in the 16th and 17th centuries A.D. (1. publ. in India. ed.). New Delhi: Inter-India Publ. p. 66
  4. Banks Findley, Ellison (11 February 1993). Nur Jahan: Empress of Mughal India. Oxford, UK: Nur Jahan : Empress of Mughal India, p.180
  5. Nadiem، Ihsan H. (2005). Gardens of Mughal Lahore (بزبان انگریزی). Sang-e-Meel Publications. صفحہ 71. 
  6. Latif، Syad Muhammad (1892). Lahore: Its History, Architectural Remains and Antiquities: With an Account of Its Modern Institutions, Inhabitants, Their Trade, Customs, &c (بزبان انگریزی). Printed at the New Imperial Press. صفحہ 104. 
  7. Koch، Ebba؛ Losty، JP. "The Riverside Mansions and Tombs of Agra: New Evidence from a Panoramic Scroll Recently Acquired by The British Library" (PDF). 
  8. Findly 1993، صفحہ 9
  9. Findly 1993، صفحہ 24
  10. Findly 1993، صفحہ 32
  11. Findly 1993، صفحہ 3
  12. Findly 1993، صفحہ 44
  13. (en میں) The Colby Library Quarterly. 25. Colby College. 1989. p. 143. doi:ڈی او ئي. 
  14. Hansen، Waldemar (1972). The peacock throne : the drama of Mogul India. (ایڈیشن 1. Indian ed., repr.). Delhi: Motilal Banarsidass. صفحہ 44. ISBN 9788120802254. 
  15. Findly 1993، صفحہ 48
  16. Findly 1993، صفحہ 3
  17. Bashir، Hassan؛ Gray، Phillip W. (2015). Deconstructing Global Citizenship: Political, Cultural, and Ethical Perspectives (بزبان انگریزی). Lexington Books. صفحہ 244. ISBN 9781498502597. 
  18. Findly 1993، صفحہ 291
  19. Ruggles، D. Fairchild (2008). Islamic gardens and landscapes. Philadelphia: University of Pennsylvania Press. صفحہ 100. ISBN 9780812207286. 
  20. Asher، [by] Catherine B. (1992). The new Cambridge history of India. (ایڈیشن Repr.). Cambridge: Cambridge Univ. Press. صفحہ 130. ISBN 9780521267281.