عطاء اللہ مینگل
سردار عطاء اللہ مینگل | |
|---|---|
| ذاتی تفصیلات | |
| پیدائش | 1929 (عمر 96–97 سال) |
| جماعت | بلوچستان نیشنل پارٹی |
سردار عطاء اللہ خان مینگل۔ جو عام طور پر عطاء اللہ مینگل کے نام سے معروف تھے، عطاء اللہ مینگل 13 جنوری. 1930 کو مینگل قبیلے کے سربراہ سردار رسول بخش مینگل کے ہاں پیدا ہوئے، انھوں نے ابتدائی تعلیم لسبیلہ سے حاصل کی اور پھر مزید تعلیم کے لیے سندھ مدرسہ کراچی چلے گئے۔ 1953 میں انھیں مینگل قبیلے کا سربراہ منتخب کیا گیا، سردار عطا اللہ مینگل نے 1962 میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کرکے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انھیں بلوچستان کے سب سے پہلے وزیر اعلیٰٰ منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
پیدائش
[ترمیم]سردار عطا اللہ مینگل 1929 کو بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں پیدا ہوئے،
تعلیم
[ترمیم]ابتدائی تعلیم ہائی اسکول بیلہ میں حاصل کرنے کے بعد ایچیسن کالج لاہور سے سینیئر کمیبرج کیا۔
قبائلی سربراہ
[ترمیم]1953ء میں انھیں شاہی زئی مینگل قوم کا سربراہ منتخب کیا گیا۔
سیاسی زندگی
[ترمیم]وہ 1956 میں مغربی پاکستان کی اسمبلی میں کامیاب ہوئے۔ دو سال کے بعد صدر اسکندر مرزا نے آئین کو معطل کرکے مارشل لا کا نفاذ کر دیا اور یوں جنرل ایوب اقتدار پر قابض ہو گئے۔ سردار عطااللہ نے اس مارشل لا کی مخالفت کی اور انھیں جیل جانا پڑا۔
سردار عطااللہ مینگل نے 1962ء میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور قلات ڈویژن سے کامیابی حاصل کرکے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے مگر سابق صدر ایوب خان کے خلاف تحریک چلانے کی پاداش میں گرفتار کرکے جیل بھجوا دیا گیا۔
جیل سے رہائی کے بعد انھوں نے نیشنل عوامی پارٹی کو منظم کیا، وہ ون یونٹ کے خلاف تھے اور ون یونٹ کے خاتمے کے بعد 1971ء میں ہونے والے عام انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔
بلوچستان میں قوم پرست سیاست کے چار ستون مانے جاتے ہیں۔ جن میں میر غوث بخش بزنجو، نواب خیر بخش مری، نواب اکبر خان بگٹی اور سردار عطااللہ مینگل شامل ہیں۔
صدر ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں سردار عطاء اللّٰہ مینگل پہلے امریکا پھر وہاں سے برطانیہ چلے گئے،
لندن میں عطااللہ مینگل نے سندھی اور بلوچ قوم پرستوں پر مشتمل 'ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن قائم کی۔
سردار عطااللہ مینگل 18 سال بعد 1996ء میں وطن واپس آگئے۔ اُنھوں نے بی این پی (بلوچستان نیشنل پارٹی ) تشکیل دی۔ 1997ء کے انتخابات میں اکثریتی پارٹی بنی ان کے بیٹے اختر مینگل وزیرِ اعلیٰ بنے اور وہ خود عملی سیاست سے ریٹائر ہو گئے۔
وزارت اعلی
[ترمیم]سردار عطااللّہ مینگل نے یکم مئی 1972ء کو بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا اور 13 فروری 1973ء تک عہدے پر فائز رہے۔
وفات
[ترمیم]2 ستمبر 2021ء کو کراچی کے نجی ہسپتال میں وفات پاگئے، وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے،[1]3 ستمبر کو ان کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقہ وڈھ (ضلع خضدار ) میں ادا کی گئی،[2] وڈھ کے شہداء قبرستان میں سپرد کیے گئے،
اولاد
[ترمیم]سردار عطاء اللہ مینگل کے پانچ بیٹے ہیں جن میں اختر مینگل کے علاوہ ظفر اللہ مینگل، اسد مینگل، منیر مینگل اور جاوید مینگل شامل ہیں۔
اسد مینگل سردار کے بڑے صاحبزادے تھے جنھیں ان کے ساتھی احمد شاہ کُرد کے ساتھ پیپلز پارٹی کے اولین دورِ حکومت میں لاپتا کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جبری گمشدگی کے بعد قتل کیے جانے والے یہ پہلے بلوچ تھے جن کے بارے میں آج تک ان کے خاندان کو نہیں بتایا گیا کہ قتل کے بعد انھیں کہاں دفنایا گیا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "آرکائیو کاپی"۔ 2021-11-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-02
- ↑ https://jang.com.pk/news/979504
- نامعلوم پیرامیٹرز استعمال کرنے والے صفحات
- 1929ء کی پیدائشیں
- بقید حیات شخصیات
- بلوچ شخصیات
- بلوچ قوم پرست
- بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ
- پاکستانی زیر حراست اور قیدی شخصیات
- پاکستانی سیاست دان
- پاکستانی سیاسی جماعتوں کے بانیان
- تمن دار
- ضلع خضدار کی شخصیات
- ضلع کوہلو کے شخصیات
- مینگل خاندان
- بلوچ سیاست دان
- 2021ء کی وفیات
- فضلا ایچیسن کالج
- پاکستانی ارکان قومی اسمبلی 1962ء تا 1965ء
- بلوچستان کے سیاست دان
- جامعہ سندھ مدرسۃ الاسلام کے فضلا
- 1930ء کی پیدائشیں
- 24 مارچ کی پیدائشیں
- کراچی میں وفات پانے والی شخصیات