عطیہ حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عطیہ حسین
پیدائش 1913
لکھنؤ، India
وفات 1998ء (عمر 84–85)
پیشہ Writer
قومیت Indian
اصناف Novels
اولاد Waris Hussein، Shama Habibullah

عطیہ حسین (1913–1998) برٹش بھارتی ناول نگار ، مصنفہ، براڈ کاسٹر جرنلسٹ اور ادکارہ تھی۔ وہ کلاسیک ڈایسورٹ اور خطوط کی ایک اہم مصنفہ تھی۔.[1] وہ انگلش میں لکھتی تھی۔ اس نے اپنی دو ہی کتابیں اشاعت کے لیے دی " ،سن لائٹ آن بروکن کالم " اور "فونکس فیلڈ" جو مختصر کہانیوں کے مجموعے تھے اور تخیل پر مبنی تھے۔ بھارتی کینن میں اس کا کام سب سے بہترین تسلیم کیا گیا۔ اس کا کیرئیر 20ویں صدی کے نیم اختتام پر انگلینڈ میں شروع ہوا۔ انیتا دیسائی، وکرام سیتھ، عامر حیسن اور کمیلا شمسی سمیت نئی نسل کے لکھاریوں نے اس کے کام کو بہت سراہا ہے۔ اور اس کے اثر کو تسلیم کیا ہے۔ عطیہ یو پی لکھنؤ میں غیر تقسیم شدہ بھارت میں اوودھ کے آزادانہ سوچ رکھنے والے لبرل کیڈوائی قبیلے میں پیدا ہوئی۔ اس کا والد شاہد حسین کیڈوائی ،تعلق دار آف گڑیا، کیمبرج کا تعلیم یافتہ تھا اور ماں نثار فاطمہ بیگم الوی خاندان سے آئی تھی۔ اس کا والد سیاست اور قوم پرستی میں دلچسپی رکھتا تھا۔ عربی، فارسی اردو کا علم اس نے اپنی ماں کے خاندان سے حاصل کیا۔ اپنے خاندانی پس منظر کے تحت وہ اپنے گھرانے میں گریجویشن کرنے والی پہلی عورت تھی۔ جس نے لا مارٹینی گرلزاسکول اور ایزابیلا تھوبرن کالج میں پڑھائی کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجوایٹ کیا۔ عطیہ دو ثقافتوں کے درمیان میں پلی بڑھی ایک طرف انگریزی ادب کی پڑھائی اور ٹھیک دوسری طرف قرآن کی پڑھائی شامل تھی۔ اس نے اپنے کزن حبیب اللہ بہادر سے خاندانوں کی خواہش کے خلاف جا کر شادی کی۔ اس کے دو بچے شما حبیب اللہ اور وارث حسین تھے۔ 1940 کے آغاز مہں وہ بمبئی منتقل ہو گئی۔ جہاں علی بہادر سرکاری نوکری پر تھا۔ سب سے پہلے ٹیکسٹائیل کمیشن میں اور اس کے بعد دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ پر جنوبی ایشیا کے سپلائی کمشنر کے طور پر خدمات سر انجام دیتا رہا۔ یہاں انیتا کا اثر ایک افسانوی حیثیت اختیار کر گیا۔ اس نے اپنے گھر کو اپنے بچپن کے کھلے گھر ایک لکھنؤی ادا کے وسیع گھر میں تبدیل کر دیا۔ جس نے مصنفین، فلمسازوں ،شہر کے سماجی اور کاروباری دنیا کے اراکین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Somak Ghoshal (15 اگست 2017)۔ "India at 70: A Muslim Woman's Story of Nationalism, Partition and her awakening into Feminism"۔ HuffPost۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

ببلو گرافی[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]