عطیہ فیضی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عطیہ فیضی
AtiyaFyzeeRahamin1921.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 اگست 1877[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قسطنطنیہ،  سلطنت عثمانیہ،  استنبول  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 جنوری 1967 (90 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی[3]،  سندھ،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن میوہ شاہ قبرستان،  کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات سموئیل فیضی رحمین (5 دسمبر 1912–4 جنوری 1967)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ساتھی محمد اقبال (1 اپریل 1907–21 اپریل 1938)
شبلی نعمانی  ویکی ڈیٹا پر (P451) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد حسن علی آفندی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
نازلی فیضی،  زہرا فیضی  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ماریا گرے ٹریننگ کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنفہ،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی،  اردو،  فارسی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عطیہ فیضی یا عطیہ فیضی رحامین؛ عطیہ بیگم؛ شاہندا؛ عطیہ بیگم فیضی رحیمین (1 اگست 1877 - 4 جنوری 1967) ایک ہندوستانی، پاکستانی مصنفہ اور جنوبی ایشیاء سے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ [4] [5] [6]

زندگی[ترمیم]

فیضی 1877 میں قسطنطنیہ میں پیدا ہوئیں اور وہ ایک تائب جی خاندان سے تعلق رکھنے والی اسماعیلی بوہرہ تھیں۔

فن تحریر اور سرگرمی[ترمیم]

وہ اساتذہ کے ایک تربیتی کالج میں شرکت کے لیے لندن آئی تھیں اور انہوں نے 1907 میں ہندوستان میں اپنی ڈائری شائع کرنے کا انتظام کیا تھا۔ فیضی نے لندن میں کورس مکمل نہیں کیا۔ اپنی دانشوری کے لیے مشہور ، فیضی کے خط و کتاب نے محمد اقبال ، شبلی نعمانی ، ابو الاصر حفیظ جالندھری اور مولانا محمد علی جوہر جیسے روشن خیالوں کو متاثر کیا۔ [7]

ان کی بہن کو ان کے خطوط بعد میں تھوڑی ترامیم کے ساتھ شائع کیے گئے تاکہ محمد اقبال کے ساتھ ان کی عقیدت سے متعلق ان کی خیالات کے حوالہ دئے جاسکیں۔ [4] [8]

سموئل فزی۔رحیمین سے شادی سے قبل معروف مصنفین شبلی نعمانی [9] اور محمد اقبال [4] کے ساتھ ان کی قریبی دوستی کے بارے میں افواہیں گرم رہتی تھیں ۔ [10] [11]

1912 سے 1948 تک[ترمیم]

1926 میں علی گڑھ کے ایک تعلیمی کانفرنس میں انھوں نے خواتین کو پردے میں قید رکھنے کیخلاف آواز اٹھائی اور خواتین کے حقوق کی بات اور انھیں گھومنے پھرنے کی آزادی کی بات رکھی۔ [12]

1948 سے 1967 تک کراچی ، پاکستان[ترمیم]

فیضی ممبئی میں جناح کی ہمسائیگی میں تھیں ، محمد اقبال سے بھی ان کا قریبی تعلق تھا ، 1948 میں جناح کی دعوت پر اپنے شوہر اور بہن کے ساتھ کراچی شفٹ ہوئیں جہاں انھیں رہائش فراہم کی گئیں۔ [4]

انہوں نے اپنے نئے گھر میں ایک فن اور ادبی گوشہ تخلیق کیا جسے ممبئی کی رہائش گاہ کے نام پر رکھا گیا۔

جناح کی موت کے بعد عطیہ اور سموئیل کے جوڑے کو جناح کے ذریعہ الاٹ کیے گئے اپنے گھر سے بے دخل کر دیا گیا ، انہیں مالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا اور بیرون ملک دیگر رشتہ داروں کی مدد پر زندگی بسر کرنا پڑی۔ [4]

وفات[ترمیم]

فیزی کا انتقال 1967 میں کراچی میں بہت کسمپرسی میں ہوا اور اگلے ہی سال ان کے شوہر کا بھی انتقال ہو گیا۔ ان دونوں کے مرنے کے بعد ان کا گھر فن کے شائقین کے لیے کھلا رکھا گیا تاکہ وہ ان کے فن کا مجموعہ دیکھ سکیں۔ یہ سلسلہ 1990 کی دہائی تک جاری رہا پھر اس مجموعہ کو آرکائیو کیا گیا تھا کیونکہ مکان کو منہدم کرنا تھا۔ [13]

میراث[ترمیم]

ان کے بے دخل کیے گئے زمین پر اب ایک ثقافتی سینٹر بنانے کا منصوبی زیر تکمیل ہے۔ [14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ عنوان : Oxford Dictionary of National Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس
  2. ^ ا ب بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb166172908 — بنام: Atiya Begum Fyzee-Rahamin — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://www.open.ac.uk/researchprojects/makingbritain/content/atiya-fyzee
  4. ^ ا ب پ ت ٹ Atiya's Journeys: A Muslim Woman from Colonial Bombay to Edwardian Britain (بزبان انگریزی). Oxford University Press. ISBN 978-0-19-908044-1. doi:10.1093/acprof:oso/9780198068334.001.0001/acprof-9780198068334. 
  5. "Atiya Fyzee 1877-1967". sister-hood magazine. A Fuuse production by Deeyah Khan. (بزبان انگریزی). 2019-02-05. اخذ شدہ بتاریخ 13 مئی 2020. 
  6. "The ever lingering fate of the Fyzee Rahamin Art Gallery". The Express Tribune (بزبان انگریزی). 2017-07-10. اخذ شدہ بتاریخ 19 فروری 2019. 
  7. "From royalty to oblivion". The Express Tribune (بزبان انگریزی). 2010-06-13. اخذ شدہ بتاریخ 19 فروری 2019. 
  8. InpaperMagazine، From (2011-08-28). "NON-FICTION: The man behind the poetry". DAWN.COM (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 13 مئی 2020. 
  9. Parekh، Rauf (2015-06-22). "Literary Notes: Atiya Fyzee, Shibli and Saheefa's special issue". DAWN.COM (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 13 مئی 2020. 
  10. "Atiya Fyzee | Making Britain". www.open.ac.uk. اخذ شدہ بتاریخ 18 فروری 2019. 
  11. Shamsur Rahman Farooqi, Shibli Nomani Annual Extension Lecture 2011, Darul Musannefin Shibli AcademyAcademy, Azamgarh
  12. A letter received by Sayyid Husain Bilgrami in Coming out: decisions to leave Purdah, jstor.org (Early 1926)
  13. "Fyzee, Atiya [married name Atiya Fyzee-Rahamin; known as Atiya Begum, and Shahinda] (1877–1967), author, social reformer, and patron of the arts | Oxford Dictionary of National Biography". www.oxforddnb.com (بزبان انگریزی). doi:10.1093/ref:odnb/102457. اخذ شدہ بتاریخ 18 فروری 2019. 
  14. Khalique، Harris (2019-09-15). "COLUMN: PORTRAIT OF A NATION". DAWN.COM (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 13 مئی 2020. 

بیرونی روابط[ترمیم]

محترمہ محمود الحسن ، "عطیہ فیضی بہنوں کا سب سے زیادہ علامت" ، پورٹسماؤت میں ادب ، یو آر ایل: http ://englishlite[مردہ ربط] ادب.port.ac.uk/؟p=765