عظیم تر اسرائیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لفظ عظیم تر اسرائیل یا سرزمین کامل اسرائیل، (عبرانی: ארץ ישראל השלמה[1][2]) ایک اظہار خواہش ہے، جس کے بیشمار مذہبی اور سیاسی پہلو ہیں۔ بعض اوقات یہ لفظ تورات میں مذکور سرزمین موعود کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ وقت میں اس کی سادہ ترین سیاسی تشریح ملک اسرائیل اور سرزمین فلسطین کی تمام حدود ہیں۔

جبکہ مذہبی محاذ پراس موضوع کے مدعی ان آیات پیدایش 15: 18 تا 15 :21 کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں:

اِس وجہ سے اُس دِن خداوند نے ایک وعدہ کر کے اَبرام سے ایک معاہدہ کر لیا۔ اور خداوند نے اُس سے کہا کہ میں تیری نسل کو یہ ملک دوں گا۔ میں اُن کو دریائے مصر سے دریائے فرات تک کے علاقے کو دوں گا۔ یہ فینیوں کا، قینزیوں کا، قدمونیوں کا، اور حِیتیوں کا، فِریّزیوں کا، رفائیم کا، اموریوں کا، کنعانیوں کا، جِرجاسیوں کا ، اور یبوسیوں کا ملک ہے۔

اور وہ ان آیات اور ان سے اخذ کردہ مفہوم سے معلوم شدہ حدود کو نیل سے فرات تک کے وعدے کا نام دیتے ہیں۔ جو ان (یہودیوں) سے کیا گیا۔ جب کہ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ یہ وعدہ صرف یہودی قوم سے نہیں کیا گیا تھا کیونکہ یہودی بنی اسرائیل کے بارہ میں سے ایک قبیلے سے ہیں اور بنی اسرائیل قوم اسحاق کے دو میں سے ایک قبیلے سے ہیں اور قوم اسحاق آل ابراہیم کے آٹھ قبیلوں میں سے ایک ہے۔ تو وہ وعدہ خدا نے نیل سے فرات تک کا آل ابراہیم سے کیا تھا نہ کہ صرف یہودی قوم سے۔

اور وہ جو تورات اور قرآن[3] میں قوم اسرائیل (صرف یہودیوں سے نہیں) سے وعدہ کیا گیا ہے سرزمین موعود کا وہ صرف زمین کا ایک مختصر ٹکڑا نیل سے فرات تک کا ہے۔

سرزمین موعود کی حدود کا کامل تعین گنتی 34 و حزقی ایل 47 ہو چکا ہے۔ جو نیل و فرات اور موجودہ اسرائیل کی نسبت کم تر ہیں۔[4]

نسل ابراہیم تا یہوداہ
8 فرزند ابراہیم اسماعیل (1) اسحاق (2) زمران‌ یُقشان مدان مِدیان یِشباق شوحا
2 فرزند اسحاق عیسو (1) یعقوب (2)
12 فرزند یعقوب (اسرائیل) یہوداہ روبن شمعون لاوی یساکار زبولون دان نفتالی آشر جاد یوسف بنیامین
متعلقہ مضامین: عظیم تر اسرائیل ، سرزمین موعود


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]