عظیم طاقتوں کا عروج و زوال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عظیم طاقتوں کا عروج و زوال
(انگریزی میں: The Rise and Fall of the Great Powers)،(جاپانی میں: 大国の興亡―1500年から2000年までの経済の変遷と軍事闘争 ویکی ڈیٹا پر عنوان (P1476) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عظیم طاقتوں کا عروج و زوال

مصنف پال کینیڈی  ویکی ڈیٹا پر مصنف (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر کام یا نام کی زبان (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موضوع عظیم طاقت، تاریخ، کاروبار  ویکی ڈیٹا پر مرکزی موضوع (P921) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ادبی صنف معاشیات، تاریخ  ویکی ڈیٹا پر طرز (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ناشر رینڈم ہاؤس  ویکی ڈیٹا پر ناشر (P123) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ اشاعت 1987  ویکی ڈیٹا پر تاریخ اجرا (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صفحات 409   ویکی ڈیٹا پر تعداد صفحات (P1104) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آئی ایس بی این 2-228-88401-4، 0-394-54674-1، 4-7942-0491-4، 4-7942-0492-2  ویکی ڈیٹا پر آئی ایس بی این-10 (P957) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
او سی ایل سی 15594794  ویکی ڈیٹا پر او سی ایل سی کنٹرول نمبر (P243) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

یہ کتاب پال کینیڈی کی انگریزی کتاب کا ترجمہ ہے ، تلخیص و ترجمہ خالد ارمان نے کیا ہے۔

فہرست عنوانات[ترمیم]

کتاب کو تین حصوں اور آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلا حصہ، صنعتی عہد سے قبل کی دنیا میں عسکری لائحہ عمل اور اقتصادیات
مغربی دنیا کا عروج
ہیبسبرگ خاندان کی غلبے کے لیے جدو جہد
مالیاتی انقلاب، جغرافیائی سیاسیات اور جنگی فتوحات
دوسرا حصہ، صنعتی عہد میں عسکری لائحہ عمل اور اقتصادیات
صنعت سازی اور تغیر پزیر عالمی توازن
دوقطبی دنیا کا ظہور اور درمیانے درجے کی طاقتیں۔ پہلا حصہ
دوقطبی دنیا کا ظہور اور درمیانے درجے کی طاقتیں۔ دوسرا حصہ
تیسرا حصہ، دفاعی لائحہ عمل اور اقتصادیات
حال اور مستقبل
دو قطبی دنیا میں استحکام اور تبدیلی کی رونمائی
اکیسویں صدی میں کیا ہو سکتا ہے؟

مرکزی خیال[ترمیم]

یہ کتاب پچھلے پانچ سو سال میں موجود بڑی طاقتوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرتی ہے، اس میں فقط سیاسی اور فوجی طاقت کا جائزہ نہیں بلکہ اقتصادی اثرات کا بھی بغور جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کے ابتدائیہ میں پال کینیڈی خود کتاب کا موضوع اقتصادیات اور فوجی لائحہ عمل کا باہمی عمل ہے۔ کتاب کا محور یورپ ہے گو ایشیا اور امریکا پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔

کتاب کے آخری باب میں اکیسویں صدی میں امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں عوامی جمہوریہ چین میں اصلاحات اور ترقی کا جائزہ لیا گیا جو انتہائی شاندار ہے اور مصنف کا کہنا ہے کہ ڈینگ ژیاؤپنگ کی قیادت کا یہ دور اسی طرح دیکھا جائے گا جیسے مور خین نے کولبرٹ کے فرانس اور میجی اصلاحات کے بعد جاپان کو دیکھا تھا۔

کتاب کے اعزاز اور فروخت کا ڈیٹا[ترمیم]

کتاب عظیم طاقتوں کا عروج و زوال  تاریخ دان پال کینیڈی کی آٹھوین اور سب سے معروف کتاب ہے۔ 1988 میں یہ ہارڈ کور کتابوں کی بہترین فروخت  کی فہرست میں میں چھٹے نمبر تک بھی پہنچی۔[1] 1988 میں ہی اس کتاب کے لیے وولفسن ہسٹری پرائز سے نوازا گیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. McDowell، Edwin۔ "Top-Selling Books of 1988: Spy Novel and Physics"۔ The New York Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-12-23۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  2. "The Wolfson History Prizes"۔ The Wolfson Foundation۔ مورخہ January 1, 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-12-23۔ نامعلوم پیرامیٹر |deadurl= ignored (معاونت); نادرست |=مردہ ربط (معاونت)