عفت آرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عفت آرا
(بنگالی میں: ইফ্‌ফাত আরা ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Shamsun-Nahar-Iffat-Ara-2006.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1939 (عمر 81–82 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
میمن سنگھ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان
Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شمس النہار عفت آرا ( بنگالی: ইফ্‌ফাত আরা )، جنہیں عفت آرا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنگلہ دیشی مصنفہ، سماجی کارکن اور ادبی منتظم ہے۔ ان کے ادبی دور کا آغاز 1950ء کے آخر میں ہوا جب انھوں نے مختصر کہانیاں لکھنا اور آزاد سمیت ملک کے ممتاز اخبار میں شائع کرانا شروع کیں۔ وہ اب بھی اپنی طویل عمری اور خرابئ صحت کے باوجود لکھتی رہتی ہیں۔

زندگی اور تعلیم[ترمیم]

عت آرا 1939ء میں میمن سنگھ قصبے میں مولوی قاضی عبدالحکیم اور حاجرہ خاتون کے گھر پیدا ہوئیں تھیں۔ انہوں نے باقاعدہ تعلیم کے لئے سخت جدوجہد کی، پہلے قرآن مجید کا ناظرہ پڑھناسیکھا ۔ اس کے بعد وہ پرائمری تعلیم کے لئے مسلم گرلز اسکول گئیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم ختم ہونے کے بعد، ان کے والد نے انہیں اسکول سے اٹھالیا، اس وقت، لڑکیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی۔ [1] لیکن وہ تعلیم جاری رکھنے کی خواہشمند تھیں، انھوں نے خودکشی کی دھمکی دی اور اس کے بعد انہیں ودیموئی سرکاری اسکول میں داخل کرایا گیا جو قصبے کا لڑکیوں کے لیے ہائی اسکول تھا۔ لیکن ہائی اسکول مکمل کرنے سے پہلے ہی ان کی شادی ایک نوجوان وکیل اور سیاست دان، عبداللطیف تلقدر سے کرا دی گئی۔ خوش قسمتی سے یہ ایک مختصر مدت کا وقفہ تھا اور وہ اگلے سال میٹرک کے امتحان میں شامل ہوئیں۔ بعدازاں، انہوں نے مومن النساء کالج برائے خواتین سے انٹرمیڈیٹ پاس کیا۔ 1966ء میں انھوں نے اسی کالج سے گریجویشن کی اور بی ایڈ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے میمن سنگھ تربیتِ اساتذہ کالج برائے خواتین میں داخلہ لے لیا۔ جب آنند موہن کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیاتو، عفت آرا نے فوراً وقت ضائع کیے بغیر بنگالی زبان و ادب میں ایم اے کے لئے داخلہ لے لیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Islam، Aminul (1 فروری 2007). "Iffat Ara: Writing from the Margins". 10 فروری 2007 میں اصل سے آرکائیو شدہ.