عقیدہ کفارہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسیح صلیب پر، از مصور کارل بلوخ (1870ء)

عقیدہ کفارہ موجودہ مسیحیت کے اہم عقائد میں سے ایک ہے۔ کفارہ کے لفظی معنی ڈھانکنے یا چھپانے کے ہیں۔ اصطلاح میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ یسوع مسیح نے صلیب پر جان دے کر بنی آدم کے گناہوں کو چھپا دیا ہے اور ان کے لیے نجات کا موجب بن گئے ہیں۔

مسیحیوں کے نزدیک ہر انسان پیدائشی گناہ گار ہے۔ آدم و حوا نے جو گناہ کیا وہ وراثتاً ہر شخص کی فطرت میں چلا آ رہا ہے، جس کی وجہ سے ہر شخص گناہ گار ہے۔ مسیحیوں کے نزدیک نیک اعمال نجات کا موجب نہیں ہو سکتے۔ اگر خدا تعالیٰ بندے کے گناہ توبہ اور استغفار سے معاف کر دے تو اس کا یہ رحم اس کے عدل کے خلاف ہے۔ خدا رحیم ہے اس کا رحم چاہتا ہے کہ انسان سزا سے بچ جائے۔ پھر وہ عادل بھی ہے۔ عدل کا یہ تقاضا ہے کہ سزا ضرور دی جائے۔ اب رحم اور عدل ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ بندے کی نجات کا ہونا ضروری ہے۔ بندوں کو نجات دلانے کے لیے ایک صورت یہ نکالی کہ خدا کا بیٹا یسوع مسیح جو تمام گناہوں سے پاک اور معصوم ہے لوگوں کے تمام گناہوں کو اپنے اوپر لے کر جان کی قربانی دے اور سارے لوگوں کے لیے نجات کا ذریعہ بنے۔

مسیحی علم عقائد میں کفارہ یسوع کی وہ قربانی ہے جس کے ذریعہ ایک گناہ گار انسان یک لخت خدا کی رحمت کے قریب ہو جاتا ہے۔ اس عقیدہ کی پشت پر دو مفروضے کار فرما ہیں ایک تو یہ کہ آدم کے گناہ کی وجہ سے انسان خدا کی رحمت سے دور ہو گیا تھا دوسرے یہ کہ خدا صفت کلام (بیٹا) اس لیے انسانی جسم میں آئی تھی کہ وہ انسان کو دوبارہ خدا کی رحمت سے قریب کر دے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انسائکلوپیڈیا برٹانیکا ص 651 مقالہ کفارہ Atonement