عقیل عباس جعفری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عقیل عباس جعفری
عقیل عباس جعفری.jpg
پیدائش عقیل عباس
10 اگست 1957ء (عمر 61 سال)
کراچی، پاکستان
قلمی نام عقیل
پیشہ مصنف، صحافی
زبان اردو
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
نسل مہاجر
تعلیم بیچلر آف آرکیٹیکچر
ایم اے ( صحافت)
مادر علمی داؤد کالج آف انجینیرنگ، کراچی یونیورسٹی
اصناف شاعری، تحقیق، صحافت، تاریخ
ادبی تحریک حلقہ ارباب ذوق
نمایاں کام پاکستان کرونیکل
پاکستان کے سیاسی وڈیرے
علی سردار جعفری شخصیت و فن
اہم اعزازات بہترین فیچر نگارایوارڈ (آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی)
کوئز ایکسیلینس ایوارڈ (پاکستان کوئز سوسائٹی)
بہترین نعت گو (ریڈیو پاکستان)
بہترین قومی نغمہ نگار (ریڈیو پاکستان)

دستخط

عقیل عباس جعفری (انگریزی: Aqeel Abbas Jafri)، (پیدائش:10 اگست، 1957ء) پاکستان کے معروف مصنف، مہندس، صحافی، شاعر، محقق، مورخ، پاکستان کرونیکل کے مصنف ہیں۔ وہ اس وقت اردو لغت بورڈ میں مدیر اعلیٰ اور پاکستان کوئز سوسائٹی انٹرنیشنل کے صدر ہیں۔

حالات زندگی و تعلیم[ترمیم]

عقیل عباس جعفری 10 اگست 1957ء کو کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئے[1]۔ آپ کے والد کا نام وزیرحسن جعفری ہے جو قیام پاکستان کے بعد بلرام پور، اتر پردیش سے ہجرت کرکے کراچی، پاکستان منتقل ہوئے۔ عقیل عباس نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول ناظم آباد اورپھرانٹرمیڈیٹ ڈی جے سائنس کالج سے پاس کیا۔ بیچلرآف آرکیٹیکچر کی ڈگری داؤد کالج آف انجینیرنگ اور ایم اے (صحافت) کی ڈگری کراچی یونیورسٹی سے حاصل کی۔

ادبی خدمات[ترمیم]

تحقیق[ترمیم]

عقیل عباس جعفری کا نام تحقیق کے شعبے میں نیا نہیں۔ انہوں نے ابتدا معلومات عامہ کے شعبے سے کی اور اس حوالے سے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں366 دن، صفر سے 100 تک، جہان معلومات، ہے حقیقت کچھ، ایک سال پچاس سوال، کون بنے گا کروڑ پتی اور قائد اعظم معلومات کے آئینے میں شامل ہیں۔ پاکستان کے سیاسی وڈیرے سیاست کے موضوع پر ان کی پہلی کتاب تھی جس نے شائع ہوتے ہی تہلکہ مچا دیا۔ یہی وہ کتاب تھی جس نے سیاست کی دنیا میں سیاسی وڈیرے کی اصطلاح کو متعارف کروایا۔ پاکستان کے سیاسی وڈیرے کے علاوہ عقیل عباس جعفری نے سیاست ہی کے موضوع پر کئی اور کتابیں بھی لکھیں جن میں پاکستان کی ناکام سازشیں، پاکستان کی انتخابی سیاست اور تاریخ پر قائد اعظم کی ازدواجی زندگی، لیاقت علی خان قتل کیس، پاکستان کا قومی ترانہ: کیا ہے حقیقت، کیا ہے فسانہ؟ اور سوانح و تنقید پر میر باقر علی داستان گو شامل ہیں۔ انہوں نے موسیقی کے موضوع پر لکھے گئے شاہد احمد دہلوی کے نادر و نایاب مضامین کو بھی مضامین موسیقی کے نام سے مدون کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کتاب علی سردار جعفری شخصیت و فن اپنے موضوع پر مستند حوالہ مانی جانی ہے۔ ان کی تازہ ترین کتاب 2016ء میں شائع شدہ چراغ روشن ہیں ہے جس میں عصمت چغتائی کے مختلف شاہکار خاکوں کو بہت خوبصورتی سے مرتب و مدون کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں 12 خاکے وہ ہیں جنہیں عصمت چغتائی نے مختلف ادبی شخصیات پر لکھا، ان میں عظیم بیگ چغتائی، سعادت حسن منٹو، سجاد ظہیر، پطرس بخاری، میرا جی، کرشن چندر، مجاز، جاں نثاراختر، خواجہ احمد عباس، مہندر ناتھ اور ثریا شامل ہیں۔ خاکہ نما افسانوں کے عنوان سے مرتب کردہ باب میں مینا کماری، دلیپ کمار، بادشاہی خانم، تمیز الدین، ٹیکو، محبوب اور گم نام شامل ہیں۔ ذاتی خاکوں میں تین تحریریں، ایک مضمون قرۃ العین حیدر کے حوالے سے، ایک خط جوش ملیح آبادی کے نام اور ایک تحریری مکالمے کے عنوان سے مرتب باب میں دو تحریریں شامل اشاعت ہیں، آخری تحریر کوحرف آخر کا نام دیا گیا ہے۔[2]

شاعری[ترمیم]

عقیل عباس جعفری کا شمار اپنی نسل کے نمائندہ شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی تخلیقات ادب کے معتبر جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مشاعروں اور سیمینارز میں شرکت کے لیے امریکا، کینیڈا، برطانیہ، عوامی جمہوریہ چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے سفر بھی کر چکے ہیں۔ ان کی غزلیہ شاعری کا مجموعہ راستاکے نام سے اور مذہبی شاعری کا مجموعہ تروتازہ کے نام سے زیرِ اشاعت ہے۔ آپ کی شاعری پر ریڈیو پاکستان بہترین نعت گو اور بہترین قومی نغمہ نگار کا ایوارڈ دے چکا ہے۔

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

زیست کرنا در ادراک سے باہر ہے ابھییہ ستارہ مرے افلاک سے باہر ہے ابھی
ڈھونڈتے ہیں اسی نشے کو سبھی بادہ گسارایک نشہ جو رگ تاک سے باہر ہے ابھی
ایک ہی لمحے میں تسخیر کرے گی اسے آنکھپر وہ لمحہ مرے افلاک سے باہر ہے ابھی
کچھ مرے چاک گریباں کو خبر ہو شایدایک گردش جو مرے چاک سے باہر ہے ابھی
بس وہی اشک مرا حاصل گریہ ہے عقیلؔجو مرے دیدۂ نمناک سے باہر ہے ابھی[3]

شعر

زندہ رہنا عجب ہنر ہے عقیلؔیہ ہنر عمر بھر نہیں آتا

پاکستان کرونیکل[ترمیم]

پاکستان کرونیکل عقیل عباس جعفری کی بیس سالہ محنت کا ثمر ہے۔ یہ کتاب اس طرز پر شائع ہونے والے بین الاقوامی کرونیکلز کے معیارات کو سامنے رکھتے ہوئے تالیف کی گئی ہے اور اس میں پاکستان کی تاریخ کا ایک ایک لمحہ محفوظ کر دیا گیا ہے[1]۔ پاکستان کرونیکل میں قیامِ پاکستان سے لے کر 31 اگست 2011ء تک پاکستان کے تاریخ وار واقعات تحریر و تصویر کی صورت انتہائی خوبصورت اور سلیقے کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ اصل میں یہ کتاب ماہانہ ڈائری ہے جس میں سیاسی، صحافتی، ثقافتی، فنون لطیفہ، صنعت و حرفت اور کھیلوں کے علاوہ اہم ترین واقعات پر مشہور زمانہ کتب، رسائل و اخبارات سے اقتباسات بھی ہیں اور نامور پاکستانی شخصیات کی پیدائش و انتقال کے علاوہ مختصر تعارف بھی ہے۔[4]

ریڈیو اور ٹیلی وژن سے وابستگی[ترمیم]

عقیل عباس جعفری نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لاتعداد پروگرامز کے اسکرپٹس بھی تحریر کیے جن میں سات دن، ٹی وی انسائیکلوپیڈیا، ٹیلی شو، ہم مصطفوی، یہ تو مجھے پتا ہے، یونیورسٹی چیلنج، جہاں نما، ایک سال پچاس سوال، سارک کوئز، ملینیم کوئز، یو این کوئز، جو جانے وہ جیتے، ہم کسی سے کم نہیں، بیسویں صدی، سال بہ سال اور رات گئے کے نام سر فہرست ہیں۔ انہوں نے اے آر وائی کے پروگرام کیا آپ بنیں گے کروڑ پتی؟ اور جیو ٹیلی ویژن کے پروگرام یہ گھر آپ کا ہوا کے سوالات بھی مرتب کیے[1]۔

اردو لغت بورڈ کی سربراہی[ترمیم]

حکومت پاکستان نے عقیل عباس جعفری کو 9 دسمبر 2016ء سے تین سال کے لیے اردو لغت بورڈ کراچی کا مدیر اعلیٰ مقرر کیا ہے۔[5][6]

تصانیف[ترمیم]

دائرۃ المعارف[ترمیم]

تاریخ[ترمیم]

  • پاکستان کا قومی ترانہ : کیا ہے حقیقت؟ کیا ہے فسانہ؟
  • پاکستان کی ناکام سازشیں
  • لیاقت علی خان قتل کیس
  • پاکستان کا جشن زریں (وضاحتی کتابیات)

معلومات عامہ[ترمیم]

  • 366 دن
  • صفر سے سو تک
  • کون بنے گا کروڑ پتی؟
  • ایک سال پچاس سوال
  • جہان معلومات
  • ہے حقیقت کچھ
  • قائد اعظم معلومات کے آئینے میں

سیاسیات[ترمیم]

پاکستان کے سیاسی وڈیرے

سوانح[ترمیم]

  • قائد اعظم کی اذواجی زندگی
  • کانجی دوآرکا داس جناح،رتی اور میں

تنقید[ترمیم]

علی سردار جعفری شخصیت و فن

فرہنگ[ترمیم]

  • فرہنگ اصطلاحات فنِ تعمیر

ناقدین کی آراء[ترمیم]

جعفری صاحب کی علم کے لیے دیوانگی اورلگاؤ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ کیفیت کے طور سے خانہ بدوش ہیں۔کہیں یہ تکرار کے شور میں سوالات کی بُنت کرتے ہیں، کبھی سیاست کے ایوانوں کی طرف نکل جاتے ہیں،توکبھی موسیقی کے رچاؤ کو مرتب کرنے میں مشغول ہوتے ہیں اورکبھی تاریخ کا دیوان لکھنے بیٹھ جاتے ہیں، ایک دیوانے کی مانند،جس کو اپنے خمارِ عشق کے سوا کچھ یاد نہیں رہتا۔ پاکستان کرونیکل یا پاکستان کے سیاسی وڈیرے جیسا کام مذاق نہیں ہے،جس کی خاطر ان کی زندگی کے اتنے سارے برس دھول بن کر اُڑ گئے، البتہ یہ ضرور مذاق ہے کہ سرکاری سطح پر کہیں بھی ان کی پذیرائی نہیں ہوئی۔انہوں نے پاکستان کی تاریخ لکھی ہے، تو پاکستانی سرکار کوہی اس پرغور کرناہوگا۔ (مصنف و صحافی خرم سہیل)[7]

اعزازات[ترمیم]

تحقیق اور پاکستانیات کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر پاکستان کوئز سوسائٹی نے انہیں 2004ء میں کوئز ایکسیلینس ایوارڈ، وزڈم پاکستان فورم نے 2010ء میں ہیروزآف پاکستان کمال کارکردگی ایوارڈ اور سینٹر آف سوک ایجوکیشن پاکستان نے 2010ء کا سوک ایجوکیشن ایوارڈ عطا کیا۔ اس کے علاوہ 2000ء میں ریڈیو پاکستان کا بہترین نعت گو اور بہترین قومی نغمہ نگار کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں[1]۔ 2011ء میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے آپ کو بہترین فیچر نگار کا ایوارڈ عطا کیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

(مراجع)[ترمیم]