علاؤ الدین عالم شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علاؤ الدین عالم شاہ
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 14  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1479 (128–129 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بدایوں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
والد محمد شاہ سید  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
سلطان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
1 جنوری 1446  – 19 اپریل 1451 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد شاہ سید 
بہلول لودھی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ سلطان سلطنت دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

علاؤ الدین عالم شاہ (وفات: 1479ء) سلطنت دہلی کے سید خاندان کا آخری سلطان تھا جس نے 1445ء سے 1451ء تک حکومت کی۔

عہد حکومت[ترمیم]

عالم شاہ جنوری 1446ء میں تخت نشیں ہوا۔ عالم شاہ رموزِ سلطنت و کا رہائے حکومت سے ناواقف تھا۔ عالم شاہ کی بزدلی کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 850ھ/ 1446ء میں جب یہ بیانہ کی تسخیر کے لیے روانہ ہوا تو کسی نے یہ افواہ اُڑا دی کہ جونپور کا حاکم دہلی فتح کرنے آ رہا ہے، یہ سنتے ہی اُس کے دل پر کچھ ایسا خوف طاری ہوا کہ راستے سے بھاگتا ہوا واپس دہلی چلا آیا۔ عالم شاہ کو بدایوں پسند تھا۔ چنانچہ جب یہ 851ھ/ 1447ء میں بدایوں گیا تو ایک مدت تک وہیں مقیم رہا اور بہت دیر بعد دہلی واپس آیا۔ عالم شاہ کے عہدِ حکومت میں سلطنت دہلی میں طوائف الملوکی پھیل گئی اور سلطنت دہلی کے اکثر صوبے اور علاقے اقتدار سے نکل گئے۔ عالم شاہ کی حکومت بس بارہ میل کے دائر تک محیط ہوچکی تھی۔ گجرات، سندھ، مالوہ، ملتان، خطۂ پنجاب، بنگال، جونپور، گوالیار، دھولپور، بھدورا، سنبھل، نارنول، بیانہ، بہار، غرض کہ ہر ریاست اور صوبے میں خود مختار گورنر حکومت کرنے لگے۔ عالم شاہ کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے 851ھ/ 1447ء میں دوبارہ دہلی پر حملہ کیا لیکن اُسے کامیابی نہ ہو سکی۔

عالم شاہ نے استحکام سلطنت کی طرف توجہ مبذول کی تو قطب خاں، عیسیٰ خاں اور رائے پرتاپ سے مشورہ کیا۔ یہ امرا تو چاہتے تھے کہ عالم شاہ کو بدتر حالت میں دیکھیں۔ لہٰذا اِن لوگوں نے یہ مشورہ کیا کہ حمید خاں کو اگر عہدہ وزارت سے معزول کر دیا جائے تو حالات درست ہوجائیں گے کیونکہ رعیت اُس سے بہت ناراض ہے۔ عالم شاہ کو عقل و فہم اور دور اندیشی سے کوئی واسطہ نہ تھا، اِسی لیے اُس نے امرا کا یقین کر لیا اور حمید خاں کو قید کروا دیا اور خود بدایوں جا کر اقامت اختیار کرلی۔ عالم شاہ نے دہلی کی بجائے بدایوں کو دار السلطنت بنانا چاہا لیکن حسام خان نے اِس بار بھی یہی سمجھا کہ دہلی پایہ تخت ہے، اب اِس کو بدایوں منتقل کرنا نامناسب ہے۔ لیکن عالم شاہ نے کسی کی بات پر غور نہ کیا اور حسام خاں کی طرف سے رنجیدہ خاطر ہوا۔ عالم شاہ حسام خاں سے الگ ہو گیا اور خود 852ھ کے آخری مہینوں میں بدایوں چلا گیا۔ عالم شاہ اپنی بیوں کے ہمراہ بدایوں منتقل ہوا تو دہلی میں طوائف الملوکی عام ہو گئی، خونریزی کے واقعات بڑھتے گئے یہاں تک کہ عالم شاہ کے دو سالے بھی اِنہی واقعات و ہنگاموں میں قتل ہو گئے۔ مگر عالم شاہ بدستوں اپنی رنگ رلیوں میں مصروف رہا۔ عالم شاہ کے بدایوں قیام کے دوران رائے پرتاب نے اُسے یہ بات باور کروائی کہ اگر حمید خاں کو قتل کر دیا جائے تو دہلی کے حالات درست ہوسکتے ہیں اور سب فوراً مطیع ہوسکتے ہیں۔ عالم شاہ نے حمید خان کے قتل کا حکم جاری کر دیا۔ حمید خاں کو عالم شاہ نے قید کروا دیا تھا، جب اُس کے ساتھیوں کو پتا چلا کہ عالم شاہ بدایوں منتقل ہو گیا تو اُنہوں نے قید خانہ پر حملہ کرکے حمید خاں کو آزاد کروا لیا۔ حمید خان رہا ہوتے ہی حرم شاہی میں داخل ہو گیا اور عالم شاہ کی بہو بیٹیوں کی خوب بے عزتی کی اور عالم شاہ کے بیٹوں، بیٹیوں، بیویوں اور خاندان کے دوسرے افراد کو کو محل سے برہنہ سر کرکے نکال دیا اور شاہی خزانہ پر قبضہ کر لیا اور بہلول لودھی کو دہلی پر حملہ آور ہونے کی دعوت دی۔ بہلول لودھی جس نے 1447ء میں پہلے حملہ کیا تھا کہ سلطنت دہلی کو اپنے ہاتھوں میں لے سکے، اب کی بار موقع پاتے ہی اُس نے دہلی پر حملہ کر دیا۔ 854ھ/ 1450ء میں بہلول لودھی دہلی پر قابض ہو گیا اور پنجاب اور دیپالپور کو فتح کرلینے کے بعد واپس دہلی آیا تو عالم شاہ نے ایک خط کے ذریعہ سے اپنی دستبرداری ظاہر کردی اور سلطنت دہلی کی باگ دوڑ بہلول لودھی کو سونپ دی اور خود بدایوں میں مقیم رہا۔[1][2]

وفات[ترمیم]

19 اپریل 1451ء کو عالم شاہ معزول ہو گیا اور سلطنت دہلی بہلول لودھی کے ہاتھ میں آگئی۔ عالم شاہ بدایوں میں مزید 28 سال تک زندہ رہا اور 1479ء میں فوت ہوا۔ اُس کی تدفین بدایوں میں کی گئی۔ بحیثیت سلطان سلطنت دہلی اُس نے 5 سال 3 ماہ تک حکومت کی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مفتی شوکت علی فہمی: ہندوستان پر اسلامی حکومت، ص 210/211۔
  2. ابو القاسم فرشتہ: تاریخ فرشتہ، جلد 2، ص 383/384۔
ماقبل 
محمد شاہ
سلطان سلطنت دہلی
جنوری 1446ء19 اپریل 1451ء
مابعد 
بہلول لودھی