علامتی باپ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت زیر نظر مضمون نفسیاتی اصطلاح کے بارے میں ہے۔ دیگر استعمالات کے لیے علامتی باپ (ضد ابہام) دیکھیے۔

علامتی باپ، باپ جیسی شخصیت یا (بہ طور خاص اردو داں معاشرے میں[1]) بزرگ ہستی عام طور سے ایک عمر رسیدہ آدمی کو کہا جاتا ہے جو عام طور سے ذی حیثیت، با اثر و رسوخ یا طاقت رکھتا ہو، جس سے کوئی شخص نفسیاتی بنیاد پر خود کو منسوب کیا جا سکتا ہے اور جس کی شخصیت ہی کچھ ایسی ہو کہ وہ ایسے جذبات جاری کرواتی ہے جو ایک شخص اپنے باپ کے لیے محسوس کرتا ہے۔ ادبی حیثیت سے چاہے علامتی باپ کے معانی اور مطالب جو بھی ہوں، علامتی باپ کا کردار صرف ایک شخص کے حیاتیاتی باپ تک محدود نہیں ہے (بالخصوص ایک بچے کے معاملے میں)، یہ کردار چچا، ماموں، نانا، دادا، بڑے بھائی، خاندان کے دوست اور دیگر لوگوں کی جانب سے نبھایا جا سکتا ہے۔[2]

کئی مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مثبت علامتی باپ (چاہے اس کی اساس حیاتیات سے جڑی ہو یا نہیں) عمومًا بچوں کی صحت مند نشو و نما میں معاون ہوتے ہیں،[3] اور یہ بات لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے صحیح ہے۔

عوامی شخصیات کا علامتی باپ تسلیم کیا جانا[ترمیم]

کئی عوامی اور فعالیت پسند شخصیات کو لوگ خود کے علامتی باپ کا درجہ دیتے ہیں۔ ہالی وڈ اداکار بین کینگسلے نے مہاتما گاندھی کو اپنا علامتی باپ مانا تھا۔ انہوں نے گاندھی کی زندگی مبنی ایک فلم میں بہ درجہ اتم اس کردار کو ادا کرنے کی کوشش کی تھی، اس کو بھی اپنے لیے سرمایہ فخر قرار دیا۔[4]

علامتی باپ سے کھل کر میل ملاپ[ترمیم]

معاشرے میں لوگ اس شخص سے جو سن رسیدہ ہو، باپ کی طرح ہو، کھل کر ملتے ہیں اور کئی بار روایتی جھجک نہیں رکھتے۔ 1993ء جب نیلسن منڈیلا بھارت آئے تھے، تب انہوں نے ہندی فلمی اداکارہ شبانہ اعظمی کا ایک جلسے میں بوسہ لیا اور شبانہ جوابًا سابق جنوبی افریقا کے صدر کا بوسہ لیا۔ اس سے بھارتی مسلمانوں کا ایک حلقہ ناراض ہو گیا کہ یہ مذہبی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔[5] تاہم اداکارہ نے منڈیلا کو اس وقت بھی بزرگ تسلیم کیا تھا اور 2013ء ان کے گزر جانے کے وقت اسی جذبے کا اظہار کیا۔[6]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]