علامہ حلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علامہ حلی(648-726ق)

حسن بن یوسف بن مطہر حلی، ساتویں صدی کے مشہور علما میں سے تھے، امام علی علیہ السلام کے حرم مطہر کے ایوان طلای کے درمیان میں ایک کمرے میں ان کی تدفین کی گئی ہے، جب آپ رواق مقدس میں داخل ہوتے ہیں تو دائیں ہاتھ پر ان کی قبر پر آپ کی نظر پڑتی ہے، علامہ حلی نے فقہ، اصول اور دیگر علوم کے بارے میں سو جلدوں پر مشتمل کتابیں تالیف کی ہیں، سلطان محمد خدابندہ، کہ جو مغول سے تھا ان کی زحمتوں اور کوششوں کے نتیجے میں شیعہ ہوئے تھے۔

شیخ جمال الدین، ابو منصور، حسن بن یوسف بن علی بن مطہر حلّی، ملقب بہ علامہ حلّی(رہ)، رمضان المبارک کے مہینہ میں سنہ 648 ھ ق میں شہر حلّہ میں پیدا ہوئے ہیں۔[1] اور محرم کے مہینہ میں سنہ 726ھ ق میں اسی شہر میں دارفانی کو رخصت کر گئے اور نجف اشرف میں امیرالمومنین(ع) کے روضہ کے ایک صحن میں سپرد خاک کیے گئے۔[2] وہ عالم اسلام اور مذہب تشیّع کے ایک نامور عالم دین تھے۔ ان کے باپ، شیخ سدید الدین یوسف بن علی بن مطہرحلّی نامور علما میں سے تھے اور بلند علمی اور اجتماعی شخصیت کے مالک تھے۔[3] تعلیم اور علمی شخصیت علامہ حلّی(رہ) نے عربی ادبیات، علم فقہ، اصول، حدیث اور علم کلام کی تعلیم وقت کے نامور اساتذہ سے حاصل کی تھی اور یہاں تک کہ وہ خود بڑے اور ناموردانشوروں میں شمار ہوئے۔ وہ علم حاصل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے تھے اور اپنا زیادہ تر وقت تدریس و تالیف میں صرف کرتے تھے، حتی کہ جب زمانہ کے حوادث نے انھیں سلطان محمد خدابند کے پاس قرار دیا، انھوں نے تدریس اور تالیف کا اپنا کام جاری رکھا۔[4] خواجہ نصیر الدین طوسی کی تین کتابوں: "منطق تجرید"، " حکمت تجرید" اور " شرح اشارات" کی شرحیں تالیف کرنا ان کے علمی کمال کی علامت ہے ان کی اس برتری کی ان کے معاصر علما نے بھی تائید کی ہے۔ علامہ حلّی (رہ)،علمائے اسلام کی نظر میں: علامہ کی علمی اور معنوی شان اور عظمت کے بارے میں بہت سے علما کے اقوال ہم تک پہنچے ہیں، کہ ان سب کو بیان کرنے کے لیے الگ سے ایک کتاب تالیف کرنے کی ضرورت ہے، لیکن یہاں پر ہم ان میں سے بعض علما کے نظریات کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: 1۔ جب خواجہ نصرالدین طوسی( متوفی: 672ھ ق) سے حلّہ سے واپسی پر ان کے مشاہدات کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے جواب میں کہا:" رایت خر یتاً ماھراً و عالماً اذا جاھد فاق"[5] ان کا مقصد" محقق حلّی" اور کامیاب دانشور" علامہ حلّی" کی زبردست راہنمائی کی طرف اشارہ تھا۔ 2۔ ابن حجر عسقلانی( متوفی: 852ھ ق):" ابن یوسف بن مطہر حلّی، شیعوں کے عالم اور ان کے پیشوا اور مولف ہیں۔ وہ تیز ہوشی میں خدا کی نشانی تھے۔ انھوں نے ابن حاحب کی کتاب " المختصر" کی بڑی خوبصورت شرح لکھی ہے۔ ۔۔ وہ بڑے خوش اخلاق اور نیک کردارشخص تھے۔"[6] 3۔ سید مصطفے تفرشی( متوفی: 1044ھ ق) :" علامہ حلّی اس قدر با فضیلت اور شان و اعتبار کے مالک تھے کہ بہتر ہے کہ ان کی توصیف نہ کی جائے، کیونکہ ان کے بارے میں میری توصیف اور تعریفیں ان کی شان میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کرسکتی ہیں۔ انہوں نے 70 جلد سے زیادہ کتابیں تالیف کی ہیں اور ان میں سے ہر کتاب ان کی فضیلت اور غیر معمولی شخصیت کی نشانی ہے۔"[7] 4۔ صاحب روضات الجنّات( متوفی: 1313ھ ق) کہتے ہیں: " زمانہ نے ان کی جیسی شخصیت کو نہیں دیکھاہے اور ان کے فضائل بیان کرنے سے زبان عاجز ہے۔ ان کے پہلے اور ان کے بعد والے دانشوروں میں کوئی ان کا جیسا نہیں تھا اور آج تک کسی نے ان کی شان کے مطابق ان کی ثنا خوانی نہیں کی ہے، اگرچہ دوسروں کے لیے کی گئی ثنا خوانیاں ان کے لیے بھی کی گئی ہیں اور ان کے لیے تمام خوبصورت اور زیبا علمی القاب کہے گئے ہیں، پس سزاوار ہے کہ ان کی توصیف سے چشم پوشی کریں۔"[8] 5۔ محدث نوری( متوفی: 1320ھ ق):" بزرگ اور جلیل القدر شیخ، علامہ حلّی، علوم کے سمندر، حکمت و فضائل کے غوّاص، ہدایت و ارشاد کے ناموس کے محافظ، ضلالت کی آواز کو توڑنے والے، دین کے پاسدار، مفسدین کے اثرات کو زائل کرنے والے، وہ اسلام کے علما اور دانشوروں میں چودھویں کے چاند کے مانند ستاروں میں چمکتے تھے۔ دشمنوں اور سیاہ دل بدخواہوں کے بارے میں زہریلے عذاب سے شدید تر اور زہرآلود تلوار سے تیزتر ہیں۔ وہ قابل فخرومباہات مقامات اور درخشان کرامتوں اور ظاہری سعادتوں کے مالک ہیں۔ وہ فقہا، متکلمین، محدثین اور مفسرین کی بولتی زبان ہیں اور حکما اور متبحرعرفا اور سالکین کے ترجمان ہیں۔ وہ ایک ایسے فرد ہیں، جن کے لیے آیت اللہ کا لقب مکمل نام اور شائستہ لقب ہے۔ خداوند متعال کی رحمتیں اورعنایتیں ان کے شامل حال ہوں۔"[9] 6۔ سید محسن امین عاملی( 1377ھ ق):" علامہ حلّی، جن کا لقب" علامہ علی الاطلاق"، ہے۔ کسی شخص نے کسی بھی زمانہ میں اس قسم کے لقب کوجمیع علما کے اتفاق سے حاصل نہیں کیا ہے۔ علما نے انھیں آیت اللہ کا لقب بھی دیا ہے۔"[10] علامہ حلّی کے اساتذہ: 1۔ شیخ سدید الدین حلّی( علامہ کے والد) 2۔ محقق حلّی (علامہ کے ماموں) 3۔ خواجہ نصیرالدین طوسی۔ 4۔ ابن میثم بحرانی( شارح نہج البلاغہ) 5۔ علی بن موسی بن طاؤس 6۔ احمد بن موسی بن طاؤس 7۔ نجم الدین جعفربن محمد بن جعفر، ابن نمای حلّی کے نام سے مشہور۔[11] علامہ کے شاگرد علامہ حلّی، ان نامور علما میں سے ہیں، جنھوں نے بہت سے شاگردوں کی تربیت کی ہے۔ من جملہ: 1۔ فخر المحققین( علامہ کے بیٹے( 2۔ قطب الدین رازی( شمسیہ کے شارح) 3۔ تاج الدین محمد بن قاسم بن معیّہ حسنی حلّی 4۔ محمد علی جرجانی 5۔ تقی الدین ابراھیم بن حسین بن علی عاملی۔ 6۔ جمال الدین حسینی مرعشی۔[12] عصر علامہ حلّی علامہ حلّی، اپنے پچپن کے زمانہ میں، مغلوں کے بغداد پر تسلط پیدا کرنے کے لیے ہجوم اور حملہ کی وجہ سے حلّہ کے لوگوں پر طاری ہوئے عظیم ترس و وحشت کے عینی شاہد تھے۔[13] اجتماعی فعالتیں: سلطان محمد خدابند (متوفی: 716ھ ق) ذوق سلیم اور نیک صفات کے مالک سلطان تھے اور علم و علما کو دوست رکھتے تھے۔ اس زمانہ میں علما، من جملہ علامہ حلّی نے معارف اہل بیت(ع) کی ترویج اور نشر و اشاعت کے لیے فرصت پیدا کی، اس لحاظ سے اس سلطان کے زمانہ میں علم و دانش نے کافی رونق پائی۔[14] علامہ حلّی، جب حلّہ سے بغداد آئے، سلطان محمد خدابند ان کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران میں علمی گفتگو کے بعد شیعہ ہوئے۔[15] اس کے بعد سلطان، علامہ کے فریفتہ ہوئے۔[16] اس مدت کے دوران میں بظاہر علامہ کی کوششوں کے نتیجہ میں سلطان کے حکم سے دو مدرسے تاسیس کیے گئے۔ ان میں سے ایک مدرسہ شہر سلطانیہ میں، قبہ عظیم کے پاس جو قبہ سلطان کے نام سے مشہور ہے اور ابھی تک باقی ہے اور دوسرا مدرسہ سیّار( متحرّک) تھا۔ یہ مدرسہ سلطان کی مسافرت کے دوران میں ان کے ساتھ چلتا تھا اور علامہ اور دوسرے اساتذہ متحرک مدرسہ کے عنوان سے سلطان کی تمام مسافرتوں کے دوران میں ان کے ہمراہ ہوتے تھے اور تدریس و تالیف میں مشغول ہوتے تھے۔[17] علامہ حلّی کی کوششوں اور ان کی سلطان کے ساتھ مصاحبت کی وجہ سے حلّہ کو دوبارہ اپنی علمی حیثیت ملی اور علم و علما کا مرکز بن گیا اور مذکورہ متحرک مدرسہ کے لیے پشت و پناہ بن گیا۔ اس زمانہ میں حلہ مرکز تشیّع بن گیا اور علم کو اس قدر شگوفائی ملی کہ کہا گیا ہے کہ اس زمانہ میں اس شہر میں چارسو مجتہد موجود تھے۔[18] سلطان محمد خدابند کی وفات کے بعد، علامہ، دوبارہ حلہ آ گئے اور تالیف، تدریس، علما کی تربیت، تقویت مذہب اہلبیت[ع] اور لوگوں کے لیے تبلیغ و ارشاد میں مشغول ہوئے۔ احادیث میں ندرت علامہ حلی کے کارناموں میں سے ایک احادیث کو چند قسموں میں تقسیم کرنا ہے، جواس وقت بھی علما میں رائج ہے۔ زمانہ قدیم میں شیعہ علما احادیث کو یا ضعیف جانتے تھے یا صحیح۔[19] لیکن علامہ حلی نے ایک لحاظ سے احادیث کی صحیح، حسن، موثق اور ضعیف اور دوسری لحاظ سے اور ایک تقسیم بندی کی ہے۔[20] قابل ذکر ہے کہ یہ تقسیم بندی ایک صورت میں اہل سنت کی کتابوں میں پہلے بیان کی گئی تھی۔ لیکن اس تقسیم بندی کا شیعہ احادیث میں نفاذ علامہ حلّی کا کارنامہ ہے۔ تالیف میں ندرت علامہ حلی نے مختلف علمی ابعاد میں، ابتدائی، متوسط اور عالی سطح کے طالب علموں کے لیے کتابیں تالیف کی ہیں اور اس سلسلہ میں ان کی ندرت ہر سطح کے لیے مختلف طرز کی کتابیں تالیف کرنا تھی۔ مثال کے طور پر مبتدیوں کے لیے فقہ میں تین کتابیں:" تبصرة المتعلمین"،" ایضاح الاحکام" اور" ارشاد الاذہان" تالیف کی ہیں اور متوسط سطح کے لیے دوکتابیں:" " قواعد الاحکام" اور" تحریر الاحکام" تالیف کی ہیں۔ اور سطح عالی کے لیے تین کتابیں:" مختلف الشیعہ" ،" تذکرة الفقہا" اور " منتہی المطلب" تالیف کی ہیں۔ ان کتابوں میں سے ہر ایک، ایک خاص مقصد کے پیش نظر تالیف کی گئی ہے اور شکل و سیاق کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے کی شبیہ نہیں ہیں۔ لیکن ان کتابوں کے درمیان میں تفاوت کے بارے میں تحقیق کے لیے مناسب وقت کی ضرورت ہے۔ ان کی تین مفصل اور استدلال کتابوں میں سے ہر ایک، ایک خاص مقصد کے پیش نظر تالیف کی گئی ہے، کتاب " مختلف الشیعہ فی احکام الشریعة" میں فقہی استدلال کے علاوہ شیعوں کے اندرونی مذہبی اختلافات کو مسائل میں بیان کرتے ہیں اور کتاب " تذکرة الفقہا" میں اسلامی فرقوں کے اختلافات پر بحث کرتے ہیں۔ لیکن کتاب " منتہی المطلب فی تحقیق المذہب" میں صرف استدلال کو ابتدا سے انتہا تک ذکر کرتے ہیں۔ دوسرے علوم کے بارے میں ان کی دوسری کتابیں بھی مثال کے طور پر اصول فقہ اور کلام کے بارے میں بھی اسی طرح ہیں۔ تالیفات: علامہ حلّی کی بعض تالیفات حسب ذیل ہیں: 1۔" ارشاد الاذہان الی احکام الایمان" یہ کتاب طہارت سے کتاب دیات تک فتوائی فقہ کے ایک دورہ کا خلاصہ ہے اور اس میں متعارف استدلالوں کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا ہے اور اس کے مطالب منظم صورت میں خاص قالب بندی میں پیش کیے گئے ہیں۔ 2۔ "تبصرة المتعلمین فی احکام الدین" یہ کتاب طہات سے دیات تک فقہی مباحث پر مشتمل ہے، جو فتوی کی صورت میں لکھے گئے ہیں اور خلاصہ ہونے اور روان بیان کی وجہ سے اس زمانہ کے علما کی پسندیدہ کتاب تھی اور اس کی بہت سی شرحیں لکھی گئی ہیں۔ 3۔ "تحریر الاحکام الشرعیہ علی مذہب الامامیہ" اس کتاب میں مولف نے تمام فقہ کومذہب شیعہ کی بنیاد اور مبانی و ادلہ فقہی استدلال سے تمسک کیے بغیر صرف فتوی کی صورت میں پیش کیا ہے۔ وسعت کے لحاظ سے یہ کتاب بہت سے جزئیات، مسائل اور فروعات پر مشتمل ہے۔ 4۔ " تذکرة الفقہا" یہ کتاب فقہ مقارن کے بارے میں [21] محدود اور معین سطح میں مذہب امامیہ سے خارج ہے اور یہ کتاب تالیف کے زمانہ سے، علمائے اہل سنت کے نظریات و اختلافات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کی ایک قابل اعتماد کتاب تھی۔ 5۔ " اجوبة المسائل المھنائیہ": یہ کتاب کلام اور فقہ کے موضوع پر ہے کہ سید بن مہنا بن سنان بن عبد الوہاب جعفری حسینی مدنی عبد لی کے سوالات کے جوابات میں لکھی گئی ہے۔ 6۔ "الالفین" یہ کتاب مشہور ترین اور متقن ترین کلامی متون میں زمار ہوتی ہے، جو امام شناسی کے سلسلہ میں، خاص کر امام علی (ع) کی حقانیت کو پہچاننے کے بارے میں ہے۔ 7۔ " منہاج الکرامہ فی معرفة الامامة": علامہ نے اس کتاب میں فراوان عقلی اور نقلی دلائل سے مذہب شیعہ اور حضرت علی (ع) بن ابیطالب اور ان کے فرزندوں [ع]کی امامت کی حقانیت بیان کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی اور بھی بہت سی تالیفات ہیں جن کا ذکر ترجمہ کی کتابوں اور کتاب شناسی میں کیا گیا ہے۔ [22]

[1] عاملى، شیخ حر، أمل الآمل، ج 2، ص 81، بغداد، مکتبة الأندلس، 1385ق؛ سبحانی، جعفر، موسوعة طبقات الفقهاء، ج 8، ص 77، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، 1418ق؛ زرکلی، خیر الدین، الاعلام، ج 2، ص 227، بیروت، دار العلم للملایین، طبع پانزدهم، 2002م۔ [2]۔ ابن حجر عسقلانی، أحمد بن علی، لسان المیزان، محقق، أبو غدة، عبد الفتاح، ج 3، ص 215، دار البشائر الإسلامیة، طبع اول، 2002م؛ موسوعة طبقات الفقهاء، ج 8، ص 81. [3]۔ موسوعة طبقات الفقهاء، ج 8، ص 77 – 78. [4]۔ ایضاً ص 79. [5]۔ امین عاملى، سید محسن، أعیان الشیعة، ج 5، ص 396، بیروت، دار التعارف، 1403ق۔ [6]۔ لسان المیزان، ج 3، ص 215. [7]۔ حسینی تفرشى، سید مصطفى، نقد الرجال، ج 2، ص 70، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، طبع اول، 1418ق۔ [8]۔ خوانساری، محمد باقر بن زین العابدین، روضات الجنات فی احوال العلماء و السادات، ج 2، ص 270 - 271، قم، اسماعیلیان، بی‌تا۔ [9]۔ محدّث نوری، میرزا حسین، خاتمة المستدرک، ج 2، ص 403، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، طبع اول، 1417ق۔ [10]۔ اعیان الشیعة، ج 5، ص 396. [11]۔ ایضاً، ص 401 – 402؛ موسوعة طبقات الفقهاء، ج 8، ص 77 – 78. [12]۔ عیان الشیعة، ج 5، ص 402؛ موسوعة طبقات الفقهاء، ج 8، ص 79. [13]۔ ملاحظہ ھو: اقبال آشتیانى، عباس، تاریخ مغول، ص 507 – 508، تهران، امیر کبیر، طبع هشتم، 1384ش؛ صفا، ذبیح اللہ، تاریخ ادبیات در ایران، ج 3، بخش1، ص 224، تهران، انتشارات فردوس، طبع هشتم، 1378ش۔ [14]۔ ملاحظہ ھو: مستوفی قزوینی، حمد اللہ بن ابی بکر بن احمد، تاریخ گزیدہ، تحقیق، نوایی، عبد الحسین، ص 606 – 611، تهران، امیر کبیر، طبع سوم، 1364ش؛ اعتماد السلطنه، محمد حسن خان، تاریخ منتظم ناصرى، ج 2، ص 609، تهران، دنیاى کتاب، طبع اول، 1367ش۔ [15]۔ ابن کثیر دمشقی، إسماعیل بن عمر، البدایة و النهایة، ج 14، ص 144، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، طبع اول، 1408ق؛ تاریخ مغول، ص 316؛ راوندی، مرتضی، تاریخ اجتماعی ایران، بحش 2، ج 8، ص 56، تهران، انتشارات نگاه، طبع دوم، 1382ش۔ [16] ملاحظہ ھو۔: أعیان الشیعة، ج 5، ص 399. [17]۔ تاریخ مغول، متن، ص 316؛ تاریخ ادبیات در ایران، ج 3، بخش 1، ص 211 – 212. [18]۔ أعیان الشیعة، ج 5، ص 401. [19]۔: «انواع حدیث و تقسیمات آن»، سؤال 28261. [20]۔ أعیان الشیعة، ج 5، ص 401. [21]۔ در فقہ مقارن (مقایسه‌اى) یا فقہ تطبیقى، بہ جمع آورى آرا و مبانى عالمان مذهب یا مذاهب مختلف اسلامى، بہ منظور سنجش، ارزش‌گذارى و گزینش نظر برتر، پرداختہ می‌شود۔ [22] ملاحظہ ھو۔: أعیان الشیعة، ج 5، ص 403 – 407.