عارف حسین الحسینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عارف حسین الحسینی
معلومات شخصیت
پیدائش 25 نومبر 1946  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پاراچنار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 5 اگست 1988 (42 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قومیت Flag of Pakistan.svg پاکستان
مذہب اصولی اثنا عشریہ اہل تشیع
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،مذہبی خادم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

سید عارف حسین الحسینی (المعروف شہید عارف حسینی) پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار سے چند کلومیٹر دور پاک افغان سرحد پر واقع گاؤں پیواڑ میں 25 نومبر 1946 ء کو پیدا ہوئے ۔ آپ کا تعلق پاڑہ چنار کے معزّز سادات گھرانے سے تھا ، جس میں علم و عمل کی پیکر کئی شخصیات نے آنکھیں کھولی تھیں ۔ عارف حسینی ابتدائی دینی و مروجہ تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے بعض دینی مدارس جیسے جامعۃ المنتظر لاہور میں زیرتعلیم رہے اور علمی پیاس بجھانے کے لیے 1967 ء میں نجف اشرف روانہ ہوئے ۔ نجف اشرف میں آیت اللہ مدنی جیسے استاد کے ذریعے آپ امام خمینی سے متعارف ہوئے ۔ آپ باقاعدگی سے امام خمینی کے دروس ، نماز اور دیگر پروگراموں میں شرکت کرتے تھے۔

1974 ء میں عارف حسین حسینی پاکستان واپس آئے ، لیکن ان کو واپس عراق جانے نہیں دیا گیا تو قم کی دینی درسگاہ میں حصول علم میں مصروف ہوگئے ۔ قم میں آپ نے شہید آیت اللہ مرتضی مطہری ، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، آیت اللہ وحید خراسانی جیسے علمائے اعلام سے کسب فیض کیا ۔ آپ علم و تقوی کے زیور سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ قم میں امام خمینی کی اسلامی تحریک سے وابستہ شخصیات سے بھی رابطے میں رہے چنانچہ سید علی خامنہ ای اور آیت اللہ ہاشمی نژاد کے خطبات و دروس میں بھی شامل ہوتے رہے ۔عارف حسینی کی انقلابی سرگرمیوں کی وجہ سے آپ کو ایک دفعہ ایران کی شاہی خفیہ پولیس ساواک نے گرفتار کیا ۔ عارف حسین حسینی 1977ء میں پاکستان واپس گئے اور مدرسہ جعفریہ پاڑہ چنار میں بحیثیت استاد اپنی خدمات انجام دیں ، اس کے علاوہ آپ نے کرم ایجنسی کے حالات بدلنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ جب 1979ء میں انقلاب اسلامی ایران کامیاب ہوا تو آپ نے پاکستان میں اسلامی انقلاب کے ثمرات سے عوام کو آگاہ کرنے اور امام خمینی کے انقلابی مشن کو عام کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔عارف حسینی نے پاکستان کی ملّت تشیّع کو متحد و منظم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اگست 1983ء میں تحریک کے قائد علامہ مفتی جعفر حسین کی وفات کے بعد 1984 ء میں ان کے نائب علامہ سید صفدر حسین نجفی نےپاکستان کے جیّد شیعہ علما و اکابرین کے ایما پر علامہ عارف حسینی کو ان کی قائدانہ صلاحیتوں ، انقلابی جذبوں اور اعلیٰ انسانی صفات کی بناپر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا نیا قائد منتخب کیا۔ عارف حسینی کا دور قیادت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے خلاف سیاسی جماعتوں کی جد و جہد کے دور سے مطابقت رکھتاتھا ۔ چنانچہ آپ نے پاکستانی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے طویل جد و جہد کی ۔ اس سے قبل پاکستانی سیاست میں اہل تشیع کا مؤثر کردار نہیں تھا ، لیکن عارف حسینی نے اپنے ملک گیر دوروں لانگ مارچ کے پروگراموں ، کانفرنسوں اور دیگر پروگراموں کے ذریعے دین اور سیاست کے تعلق پر زور دیتے ہوئے اپنی قوم کو سیاسی اہمیت کا احساس دلایا ، اس سلسلے میں لاہور کی عظیم الشان قرآن و سنت کانفرنس قابل ذکر ہے ۔

آپ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے سیاسی و اجتماعی امور میں ہر مسلک و مکتب اور زبان و نسل سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت کو ضروری سمجھتے تھے ۔ علامہ عارف حسین حسینی نے پاکستان میں امریکی ریشہ دوانیوں کو نقش بر آب کرنے اور قوم کو سامراج کے ناپاک عزائم سے آگاہ کرنے کے لیے بھی موثر کردار ادا کیا ۔ علامہ شہید عارف حسین حسینی اتحاد بین المسلمین کے عظیم علمبردار تھے ، آپ فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے شدید مخالف تھے ، اس سلسلے میں آپ نے علمائے اہل سنت کے ساتھ مل کر امت مسلمہ کی صفوں میں وحدت و یک جہتی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]