محمد باقر مجلسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد باقر مجلسی
Portrait of Allamah Majlisi.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1627  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اصفہان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 29 مارچ 1699 (71–72 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اصفہان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جامع مسجد اصفہان،  اصفہان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Safavid Flag.svg سلطنت صفویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اثنا عشریہ شیعہ
فقہی مسلک جعفریہ
والد محمد تقی مجلسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ محمد تقی مجلسی،  ملا صالح مازندرانی،  ملا محمد محسن فیض کاشانی،  ملا خلیل قزوینی،  شیخ حر عاملی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص نعمت اللہ الجزائری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی،  عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل علم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں بحار الانوار،  حق الیقین،  حلیۃ المتقین،  حیات القلوب،  مرآۃ العقول،  عین الحیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

محمد باقر بن محمد تقی بن المقصود علی المجلسی (پیدائش: 1627ء— وفات: 29 مارچ 1699ء) المعروف علامۂ مجلسی یا مجلسی دوم عالم اسلام کے مشہور ترین علما، فقہا اور محدثین میں سے ہیں۔ وہ صفوی دور کے با اثر شیعہ حکام میں شمار ہوتے تھے اور مشہورِ عالَم کتابِ حدیث بحار الانوار کے مؤلف ہیں۔

ولادت اور نسب[ترمیم]

علامہ مجلسی سنہ 1237 ہجری میں اصفہان میں پیدا ہوئے۔[1] ان کی صفوی سلطنت کے دور میں اور شاہ عباس اول کی بادشاہت کے آخری سال میں ہوئی۔ ان کے والد علامہ محمد تقی مجلسی (مجلسی اول)، ہیں جو اپنے زمانے کے نامور اکابرین اور مجتہدین میں سے تھے اور ان کی والدہ صدر الدین محمد عاشوری قمی کی بیٹی اور علم و فضیلت کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔[2]

زوجات اور اولاد[ترمیم]

کہا گیا ہے کہ ان کی تین زوجات تھیں جن سے وہ 4 بیٹے اور پانچ بیٹیوں کے باپ بنے۔[3]

تصنیفات[ترمیم]

ان کے مشہور ترین اساتذہ میں ملا صالح مازندرانی، ملا محسن فیض کاشانی، سید علی خان مدنی اور ملا خلیل قزوینی اور ان کے مشہور ترین شاگردوں میں میرزا عبداللہ افندی اصفہانی، سید نعمت اللہ جزائری، شیخ عبداللہ بحرانی، محمد بن علی اردبیلی، میرزا محمد مشہدی، میر محمدحسین خاتون آبادی اور سید ابوالقاسم خوانساری، شامل ہیں۔ مجلسی نے متعدد کتب تالیف کی ہیں جن میں بحارالانوار، مرآة العقول، حق الیقین، زاد المعاد، تحفۃ الزائر، عین الحیات، حیاة القلوب، جلا العیون، حلیۃ المتقین وغیرہ شامل ہیں۔

تہذیب الاحکام میں ملا باقر مجلسی کے دستخط


حوالہ جات[ترمیم]

  1. اعیان الشیعہ، ج9، ص182. ریحانة الادب، ج5، ص196.
  2. الذریعة، ج1، ص151. بحارالانوار، ج102، ص105.
  3. مرآت الاحوال جهان نما، ص122. بحارالانوار، ج102، ص105- 143.