محمد تقی مجلسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(علامہ محمد تقی مجلسی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
محمد تقی مجلسی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1594 اور سنہ 1595  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اصفہان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 21 اپریل 1660 (65–66 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Safavid Flag.svg صفوی خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل تشیع: اثنا عشریہ
فقہی مسلک جعفریہ
اولاد محمد باقر مجلسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ ملا عبد اللہ شوشتری،  بہاء الدین عاملی،  میر داماد،  امیر اسحاق استرآبادی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص محمد باقر مجلسی،  ملا صالح مازندرانی،  نعمت اللہ جزائری،  آقا حسین خوانساری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ عالم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

علامہ محمد تقی مجلسی جن کا نام محمد تقی بن مقصود علی اصفہانی ہے اور شہرت مجلسی اول ہے۔ گیارہویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم اور فقیہ تھے اور معروف عالم ومحدث علامہ محمد باقر مجلسی کے والد تھے۔

ولادت اور ذاتی سیرت[ترمیم]

ان کی ولادت 1003 ہجری میں صفوی سلطنت کے دار الحکومت اصفہان میں پیدا ہوئی[1] اور ان کی وفات 11 شعبان، 1070 ہجری میں اصفہان میں ہوئی۔ ان کے والد ملا علی مجلسی کا شمار بھی برجستہ شیعہ علما میں ہوتا ہے۔ مجلسی اول نے ابتدائی تعلیم اصفہان میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کی خاطر نجف اشرف کا رخ کیا۔ نجف اشرف سے واپس لوٹ کر اصفہان میں درس وتدریس کی خدمات انجام دیں۔ ان کا حلقہ تدریس جامع مسجد اصفہان میں ہوا کرتا تھا۔ شیخ بہائی اور میر داماد کے بعد انہوں نے جامع مسجد میں امام جمعہ کے فرائض بھی انجام دیے۔[2]

اولاد[ترمیم]

مجلسی اول کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں جن میں سب سے مشہور علامہ محمد باقر مجلسی ہیں جو مشہور کتاب بحار الانوار کے مولف ہیں۔ دیگر فرزندان میں عبد اللہ اور عزیز اللہ ہیں اور بیٹیوں میں سے آمنہ بیگم کا نام تاریخ ذکر کیا۔ آمنہ بیگم مشہور عالم اور محدث ملا صالح مازندرانی کی زوجہ تھیں۔[3]

علمی آثار[ترمیم]

ان کی تالیفات میں روضۃ المتقین، لوامع صاحبقرانی، صحیفہ سجادیہ کی شرح ریاض المومنین، چہل حدیث، زیارت جامعہ کی شرح، شرح خطبہ ھمام اور فقہ میں حلیۃ المتقین، قابل ذکر ہیں۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. روضات الجنات، ج2، ص123
  2. روضات الجنات، ج2، ص122؛ اعیان الشیعه، ج9، ص192
  3. روضات الجنات، ج2، ص88، ص119؛ اعیان الشیعه، ج9، ص193
  4. ریاض العلماء، ج5، ص47