علم سوانح رجال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علم سوانح رجال، (عربی: علم التراجم) یہ بہت باریک اور وسیع علم ہے، اس میں مختلف زمانوں کی مختلف مشہور شخصیات و افراد کی زندگی اور ان کے احوال سے بحث کی جاتی ہے، خاص طور سے یہ علم انبیا، خلفا، بادشاہوں، امرا، قائدین، مخلتف علوم کے ماہر علما، فقہا، ادبا، شعراء اور فلسفیوں وغیرہ کے طبقات کے حالات سے بھرا ہوا ہے، اس علم میں خصوصا ان مشہور شخصیات کی ذاتی زندگی، ان کے نظریات اور معاشرہ اور حالات پر ان کے اثرات کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ علم سوانح عام طور سے علم تاریخ کی ایک شاخ سمجھی جاتی ہے۔ اس علم کا چلن اور رواج خاص طور سے مسلمانوں میں ہے اور اردو میں بھی "تراجم" یا "علم تراجم" سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔

مسلمانوں کے نزدیک علم سوانح کی اہمیت[ترمیم]

مسلمانوں نے علم سوانح پر زیادہ توجہ دی ہے، اس علم کے ساتھ ان کی دلچسپی محمد بن عبد اللہ کے زمانہ کے کچھ عرصہ بعد سے ہو گئی تھی۔ چونکہ اسلامی شریعت کا دوسرا مصدر حدیث نبوی ہے، جس کی جھوٹ، جعلسازی، کھوٹ اور ملاوٹ سے حفاظت بہت ضروری تھی۔ چنانچہ یہ علم خاص طور سے پیغمبر اسلام کی حدیثوں کو لوگوں سے حاصل کرنے، صحابہ، تابعین اور دوسرے طبقات سے روایات لینے اور لوگوں تک پہنچانے کے لیے بطور اصول یہ علم ایجاد ہوا۔

صحیح مسلم میں‏‏‏‏ مجاہد سے روایت ہے کہ: «بشیر بن کعب عدوی سیدنا ابن عباس کے پاس آئے اور حدیث بیان کرنے لگے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے ابن عباس نے کان نہ رکھا ان کی طرف نہ دیکھا، بشیر بولے اے ابن عباس! تم کو کیا ہوا جو میری بات نہیں سنتے۔ میں حدیث بیان کرتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور تم نہیں سنتے۔ سیدنا ابن عباس نے کہا کہ ایک وہ وقت تھا جب ہم کسی شخص سے یہ سنتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا تو اسی وقت اس طرف دیکھتے اور کان اپنے لگا دیتے۔ پھر جب لوگ بری اور اچھی راہ چلنے لگے (یعنی غلط روایتیں شروع ہو گئیں) تو ہم لوگوں نے سننا چھوڑ دیا مگر جس حدیث کو ہم پہچانتے ہیں (اور ہم کو صحیح معلوم ہوتی ہے تو اس کو سن لیتے ہیں)»۔[1]

چنانچہ پیغمبر اسلام کی حدیثوں کو قبول و رد کے لیے ناقلین اور راویوں کے حالات کا یہ علم سوانح یا علم تراجم مسلسل جاری رہا، تاکہ ان اصولوں کی بنیاد پر احادیث و اخبار کو قبول و رد اور اس کی دینی حیثیت کا اعتبار و عدم اعتبار کا فیصلہ کیا جا سکے۔[2]

صحیح مسلم میں ہے کہ «‏‏‏‏ابن سیرین نے کہا: پہلے زمانے میں کوئی حدیث بیان کرتا تو اس سے سند نہ پوچھتے۔ پھر جب فتنہ پھیلا (یعنی گمراہی شروع ہوئی اور بدعتیں روافض اور خوارج اور مرجیہ اور قدریہ کی شائع ہوئیں) تو لوگوں نے کہا: اپنی اپنی سند بیان کرو۔ پھر دیکھا جائے گا اگر روایت کرنے والے اہل سنت ہیں تو ان کی روایت قبول کی جائے گی اور جو بدعتی ہیں تو ان کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔[3]

احادیث کے راویوں اور اس کے ناقلین کے احوال جاننے کی ضرورت و اہمیت پر علما و ائمہ کے بے شمار اقوال ہیں، راوی کی زندگی کے تفصیلی حالات خصوصا اس کے افعال و نظریات کا علم بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ راوی کی سوانح کے بنیادی مباحث میں سے: راوی کی تاریخ پیدائش، تحصیل علم کے حالات، اس دوران میں اس کے اساتذہ احادیث اور شیوخ، ان کی کیفیات و احوال، ان سے سماعت کردہ احادیث و آثار کی تعداد، پھر اس راوی کے تلامذہ کی تعداد، اس کے شیوخ میں ضعیف اور مجہول اساتذہ، اس کے علمی اسفار کے احوال، کتنی احادیث کی سماعت کی، کب اور کن سے کی، کیسے (کتابت، حفظ، سماعت یا فقط پیش کرنا وغیرہ) کی وغیرہ؟ لوگوں میں اس راوی کی مقبولیت، اس کے پاس تلامذہ اور حاضرین کی تعداد، نیز اس کے اوہام اور یا خامیوں وغیرہ کا علم، پھر اس راوی کے اخلاق، اس کی ذاتی زندگی کی مشغولیات و پیشہ وغیرہ کا علم، کیا وہ حدیثوں کو بیان کرنے کی اجرت لیتا تھا؟ احادیث کی اجازت میں وہ سخت تھا یا تساہل برتتا تھا جیسے ضروری مباحث شامل ہوتے ہیں۔[4]

راویوں کی سوانح سے متعلق علم کی کئی شاخیں اور گوشے ہیں، اس تعلق سے کئی اور علوم بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس میں سے ایک اہم علم "اسناد کا علم" ہے، اس علم میں صرف مسلمانوں نے کام کیا ہے۔ اور "اصطلاحات حدیث کا علم" ہے۔ اسی طرح "راویوں کی جرح و تعدیل کا علم" ہے۔ "علل کا علم" ہے۔ وغیرہ۔

علم سوانح کی تقسیم[ترمیم]

علم سوانح مسلمانوں کے یہاں بڑا وسیع اور متنوع علم ہے، اس میں کئی کتابیں لکھی گئی ہیں، چند قسمیں یہ ہیں:

  • طبقات کے اعتبار سے سوانح
  • حروف کے اعتبار سے سوانح
  • وفیات کے اعتبار سے سوانح
  • مختلف صدیوں کے اعتبار سے سوانح
  • شہروں کے اعتبار سے سوانح

بعض نے اور بھی تفصیلی تقسیم کی ہے:

  • کسی خاص جگہ سے متعلق سوانح
  • کسی خاص مذہب سے متعلق سوانح
  • کسی خاص علم یا فن سے متعلق سوانح
  • کسی خاص شخص یا فرد سے متعلق سوانح
  • ذاتی سوانح

مسلمان علما نے ان ابواب پر خوب کتابیں لکھی ہیں، مذکورہ ہر قسم پر کئی کئی کتابیں اسلامی کتب خانوں میں مل جائیں گی۔

طبقات کے اعتبار سے سوانح[ترمیم]

یعنی سوانح کی وہ کتابیں جن میں زمانہ نبوت اور بعد کی شخصیات کی حسب مراتب و زمانہ احوال لکھے گئے ہوں۔ چند اہم عربی و اردو کتابوں کے نام یہ ہیں:

  1. سیرت ابن ہشام (عربی)
  2. سیرت ابن اسحاق
  3. الشفا بتعریف الحقوق المصطفٰی
  4. زاد المعاد فی ھدی خیر العباد
  5. سیرت النبی از: علامہ شبلی نعمانی و سید سلیمان ندوی
  6. سیرت النبی از: محمد ادریس کاندھلوی
  7. النبی الخاتم از: مناظر احسن گیلانی

سیرت کے باب میں عربی، اردو اور دنیا کی بیشمار زبانوں میں بیشمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔

مؤرخین اور علمائے اسلام نے صحابہ کرام کے اسماء، احوال، کارنامے اور پیغمبر اسلام سے روایات وغیرہ جیسے پہلوؤں پر بیشمار کتابیں لکھی ہیں، بعض نے صحابی کی الگ سے روایات کو علاحدہ جمع کیا ہے، ایسی کتابوں کو مسند کہا جاتا ہے۔ مثلا:

  1. مسند امام احمد
  2. مسند طیالسی
  3. مسند بقی بن مخلد
  4. مسند ابو یعلیٰ

بعض کتابیں "معجم" ناموں سے ہیں:

  1. معجم طبرانی
  2. معجم ابن الاعرابی

معجم الصحابہ، ابو یعلیٰ موصلی

جو کتابیں صحابہ کے حالات پر لکھی گئی:

  1. الصحابہ، ابن مندہ
  2. معجم الصحابہ، ابن نعیم
  3. الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ابن عبد البر
  4. اسد الغابہ، ابن اثیر
  5. الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ابن حجر عسقلانی

جن کتابوں میں محدثین یعنی حدیث کے راویوں کی سوانح کو جمع کیا گیا ہے ان میں سے کچھ خاص یہ ہیں:

  1. الطبقات الکبیر، ابن سعد
  2. الطبقات، خلیفہ ابن خیاط
  3. الارشاد فی معرفۃ علما البلاد، خلیلی
  4. طبقات علما الحدیث، ابن عبد الہادی
  5. تذکرۃ الحفاظ، ذہبی
  6. طبقات الحفاظ، سیوطی

ثقہ محدثین پر الگ سے لکھی گئی کچھ کتابیں:

  1. الثقات، عجلی
  2. تاریخ اسماء الثقات، ابن شاہین
  3. الثقات، ابن حبان

غیر ثقہ راویوں پر لکھی گئی کتابیں:

  1. الضعفاء، امام بخاری
  2. احوال الرجال، جوزجانی
  3. میزان الاعتدال، ذہبی
  4. لسان المیزان، ابن حجر

اس کے علاوہ بیشمار کتابیں ہیں، راویوں کے حالات پر سب سے جامع اور مشہور و مرجع کتاب سیر اعلام النبلاء اور البدایہ والنہایہ ہے۔

ملکوں یا شہروں سے متعلق سوانح[ترمیم]

کسی خاص ملک یا شہر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی سوانح مرتب کی جاتی ہیں، مثلا:

  • تاریخ بغداد، خطیب بغدادی
  • تاریخ دمشق، ابن عساکر
  • تاریخ بیت المقدس، ابن جوزی
  • تاریخ نیسابور، حاکم نیشاپوری
  • تاریخ جرجان، سہمی۔ وغیرہ

مذہب کے اعتبار سے سوانح[ترمیم]

اس میں کسی خاص مذہب اور مسلک کے اعتبار سے شخصیات کی سوانح ہوتی ہے۔

  • طبقات احناف مثلاً: کتاب اخبار ابی حنیفہ واصحابہ، صمیری۔ الطبقات السنیہ فی تراجم الحنفیہ، تقی غزی۔
  • طبقات مالکیہ مثلاً: ترتیب المدارک و تقریب المسالک فی معرفۃ اعلام مذہب مالک، قاضی عیاض
  • طبقات شوافع مثلاً: طبقات الفقہاء، شیرازی۔ طبقات الشافعیہ، سبکی۔
  • طبقات حنابلہ طبقات الحنابلہ، قاضی ابن ابو یعلیٰ۔

خاص علم و فن سے متعلق سوانح[ترمیم]

کسی خاص علم یا فن میں ماہر اور مشہور شخصیات پر سوانح ہوتی ہے، مثلاً:

  • طبقات الحفاظ، ذہبی۔ (حفاظ حدیث کی سوانح)
  • معرفۃ القراء الکبار، ذہبی۔ (علم قرات کے ائمہ کی سوانح)
  • طبقات المفسرین، داؤدی۔
  • طبقات المفسرین، سیوطی۔
  • طبقات الصوفیہ، سلمی۔
  • کتاب القضاۃ، ابو عمر کندی۔ (قاضیوں کے حالات)

خاص شخصیات سے متعلق سوانح[ترمیم]

اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں کسی خاص شخصیت کی زندگی اور اس احوال سے بحث کی جاتی ہے۔ مثلا:

  • مناقب الامام احمد، از: ابن جوزی
  • مناقب الامام الشافعی، اس پر ابن کثیر، بیہقی، رازی اور ابن حجر نے لکھا ہے۔
  • مناقب الامام ابی حنیفہ، از: ابن مکی
  • مناقب الامام مالک، از: زواوی

خاص صدی اور زمانہ کے اعتبار سے سوانح[ترمیم]

جن کتابوں میں کسی زمانہ کی شخصیات سے متعلق سوانح ہوں، مثلاً:

  • الدر الکامنہ فی اعیان المائۃ الثامنہ، ابن حجر۔ (آٹھویں صدی کی شخصیات کی سوانح)
  • الکواکب السائرہ باعیان المئۃ العاشرہ، غزی۔ (دسویں صدی کی شخصیات پر)
  • خلاصۃ الاثر فی اعیان القرن الحادی عشر، محبی۔ (گیارہویں صدی)
  • سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر، مرادی۔ (بارہویں صدی)

وفات کے اعتبار سے سوانح[ترمیم]

جن کتابوں میں شخصیات کی تاریخ وفات کے اعتبار سے سوانح درج ہو، مثلاً:

  • الوافی بالوفیات، صفدی
  • الوفیات، ابن رافع
  • الوفیات، ابن قنفذ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحيح مسلم - 1/27
  2. عناصر تراجم الرواة عند المحدثين - د۔ إبراهيم الريّس
  3. صحيح مسلم - 1/34
  4. علم طبقات المحدّثين - أسعد تيم - ص35