علم غیب (اسلام)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(علم غیب سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عالم الغیب اللہ تعالیٰ کی صفت مختصہ ہے اور کسی مخلوق پر عالم الغیب کا اطلاق جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے زیادہ علم غیب عطا فرمایا ہے ۔اللہ کی عطا سے رسول اللہ ﷺکا علم غیب قرآن و حدیث سے ثابت ہےاوریہی اہل اسلام و اہلسنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے۔

علم غیب[ترمیم]

(knowledge of unseen)

عِلْمِ غَیب[ترمیم]

{عِل + مے + غَیب (ی لین)} (عربی) عربی سے مشتق اسم علم کے آخر پر کسرۂ اضافت لگانے کے بعد عربی ہی سے اسم غیب لگا کر مرکب علم غیب بنا۔ اسم نکرہ (مذکر - واحد)

لغوی معنی[ترمیم]

چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کا علم، پیشن گوئی کا علم، وہ علم جس سے گزشتہ یا آئندہ ہونے والی بات یا حالات معلوم کیے جائیں پوشیدہ باتوں یا چیزوں کاعلم[1]۔

اصطلاحی معنی[ترمیم]

علم غیب کے اصطلاحی معنی اہلسنت کے عقیدہ میں یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایسی باتوں کا علم جو حواس خمسہاور اندازے سے معلوم نہ ہوسکیں اورجن کے بارے میں اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام، اولیاءکاملین کو خبردی ہو۔بعض علم غیب کی بجائے اطلاع علی الغیب ،انباء الغیب اور اظہار الغیب کےالفاظ استعمال کرتے ہیں۔)…’’غیب ‘‘وہ ہے جو ہم سے پوشیدہ ہو اورہم اپنے حواس جیسے دیکھنے، چھونے وغیرہ سے اور بدیہی طور پر عقل سے اسے معلوم نہ کرسکیں[2]
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں ’’جو چیز حاسہ سے غائب ہو اور جو کچھ انسانی علم سے چھپا ہو بمعنی غائب ہے۔ کسی چیز کو غیب یا غائب لوگوں کے اعتبار سے کہا جاتا ہے نہ کہ اﷲ کے اعتبار سے کہ اس سے تو کوئی چیز غائب نہیں اور فرمان باری تعالیٰ (عالم الغیب والشہادۃ) کا مطلب ہے جو تم سے غائب ہے اﷲ اسے بھی جاننے والا ہے اور جو تم دیکھ رہے ہو اسے بھی اور (یومنون بالغیب) میں غیب کا معنی ہے جو کچھ حواس سے بھی معلوم نہ ہو اور عقلوں میں بھی فوراً نہ آئے اسے صرف انبیاء کرام علیہم السلام کے بتانے سے جانا جا سکتا ہے جو اس کا انکار کرے اسے ملحد کہتے ہیں۔ [3]

علم کسے کہتے ہیں[ترمیم]

علم کہتے ہیں مغیبات(وہ چیزیں جن کا علم صرف خداوند تعالٰی کو ہے) کویعنی ایسی چیز کے جاننے کو کہ جو آنکھ اور کان سے نہ دیکھی جا سکےاور علم اللہ کا ہے جو وحی کےذریعے آتا ہے تو علم کہلانے کا مستحق وہی ہے یہ جو حسی چیزیں ہیں ان میں حس سے تصرفات کریں گے یہ احساسات سے تعلق رکھتے ہیں اسے محسوس کہیں گے علم نہیں کہیں گے۔[4]

غیب کسے کہتے ہیں[ترمیم]

غیب اس پوشیدہ حقیقت کو کہا جاتا ہے جو نہ حواس خمسہ سے معلوم ہو نہ عقل سے معلوم ہو۔ اس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کی پہلی شرط ہے۔ ایمان تصدیق کو کہا جاتا ہے۔ تصدیق علم کے بغیر نہیں ہو سکتی تو غیب پر ایمان کا مطلب ہوا غیب کی تصدیق۔ غیب کی تصدیق غیب کے علم کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ بغیر علم تصدیق کرنا جھوٹ ہے مثلا اﷲ کی ذات و صفات، ملائکہ، انبیاء، قبر، حشر نشر، قیامت، جنت اور جہنم کی تفصیلات وغیرہ وہ حقائق ہیں جو نہ حواس سے معلوم ہیں نہ عقل سے۔ ہر مسلمان صرف نبی کے بتانے سے ان پر ایمان لاتا ہے ہے مثلاً قبر میں پہلا سوال، دوسرا سوال، تیسرا سوال، منکر نکیر وغیرہ ان حقائق کو سچا یقین کرنا تصدیق ہے اور یہی ایمان ہے۔ ہر مسلمان ان حقائق کو جانتا بھی ہے اور دل سے حق سچ مانتا بھی ہے۔ یہ سب علم غیب ہے جو نبی کے ذریعے ہمیں ملا۔ اب اگر کوئی شخص نبی کے لئے ہی علم غیب نہ مانے تو وہ نبی کی بات اور دعوت کی تصدیق کیسے کرے گا؟ نبی ان حقائق کی خبریں دیں گے اور وہ کہے گا آپ کو غیب کا کیا پتہ؟ اورجس کے پاس علم غیب نہیں اس کی غیبی خبر کا کیا اعتبار؟[5]

نبوت کسے کہتے ہیں[ترمیم]

فَالنُّبُوَّةُ: فِي لُغَةِ مَنْ هَمَزَ مَأْخُوذَةٌ مِنَ النَّبَأِ، وَهُوَ الخبر وقد لا يهمز عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ تَسْهِيلًا. وَالْمَعْنَى: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَطْلَعَهُ عَلَى غَيْبِهِ، وَأَعْلَمَهُ أَنَّهُ نَبِيُّهُ فَيَكُونُ نَبِيٌّ

  • نَبُوَّت کے معنی ہوں گے اللہ نے آپ کو اپنے غیوب پر مطلع کیا اور آپ کو بتا دیاکہ آپ اس کے نبی ہیں۔[6]
  • امام ابن حَجَر مکِّی مُدْخَل میں اور امام قَسْطَلَانی مَوَاہِبُ اللَّدُنِّیَۃ میں فرماتے ہیں:

اِنَّ اَلنَّبُوَّۃ بِالْھَمْزَۃِ مَاخُوْذَۃٌ مِن النَبَاءِ وَھُوَ الْخَبْرُ اَیْ اَطْلَعَہُ اللہُ عَلَی الْغَیْبِ‎ نَبُوَّت نَبَاءٌ سے ماخوذ ہے بمعنی خبریعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیب پراطلاع دی۔[7]

  • تفسیرِ معالم وتفسیرِ خازن میں ہےحضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم)کو علمِ غیب آتا ہے وہ تمہیں بھی تعلیم فرماتے ہیں۔ [8]
  • عربی زبان میں نبی کا مطلب ہے۔ غیب کی خبریں دینے والا اور ظاہر ہے کہ غیب کی خبر وہی دے گا جسے غیب کا علم ہو گا بغیر علم کے خبر جھوٹی ہوتی ہے جبکہ نبی کی خبر قطعی سچی ہوتی ہے۔ عربی کی لغت کی معتبر کتاب المنجد میں ہے۔

والنبوه الاخبار عن الغیب أو المستقبل بالهام من اﷲ الاخبار عن اﷲ وما یتعلق به تعالی[9] ’’نبوت کا مطلب ہے اﷲ کی طرف سے الہام پا کر غیب یا مستقبل کی خبر دینا۔ نبی کا مطلب اﷲ اور اس کے متعلقات کی خبر دینے والا۔ ‘‘

  • المُخْبِر عَنِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، مَكِّيَّةٌ، لأَنه أَنْبَأَ عَنْهُ، وَهُوَ فَعِيلٌ بِمَعْنَى فاعِلٍ‎.[10]
  • ’’نبی کا معنی اﷲ کی خبر دینے والا کیونکہ نبی نے اﷲ کی خبر دی۔ فعیل فاعل کے معنی میں۔ ‘‘

علم غیب کی اقسام[ترمیم]

علم غیب کی دو قسمیں ہیں:
(۱) جس کے حاصل ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو۔یہ علم غیب ذاتی ہے اوراللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اورجن آیات میں غیرُاللہ سے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے وہاں یہی علمِ غیب مراد ہوتا ہے ۔
(۲) جس کے حاصل ہونے پر دلیل موجود ہو جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ،گزشتہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور قوموں کے احوال نیز قیامت میں ہونے والے واقعات و غیرہ کا علم۔یہ سب اللہ تعالیٰ کے بتانے سے معلوم ہیں اور جہاں بھی غیرُاللہ کیلئے غیب کی معلومات کا ثبوت ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے بتانے ہی سے ہوتا ہے۔ [11] ’’ علم غیب اﷲ تعالیٰ کی خاص صفت ہے۔ بندوں کے لئے اس طرف کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے بتائے اور وہ وحی کے ذریعے بتاتا ہے جیسے نبی کا معجزہ یا الہام کے ذریعے جیسے ولی کی کرامت یا نشانات و علامات سے جیسے استدلالی علم۔ ‘‘[12]

علم غیب ایک معجزہ[ترمیم]

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات میں سے آپ کا علم غیب بھی ہے ۔اس بات پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ علم غیب ذاتی تو خدا کے سوا کسی اور کو نہیں مگر اﷲ اپنے برگزیدہ بندوں یعنی اپنے نبیوں اور رسولوں وغیرہ کو علم غیب عطا فرماتا ہے۔ یہ علم غیب عطائی کہلاتا ہے قرآن مجید میں ہے کہ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ۔‎(آل عمران:175) اﷲ کی شان نہیں کہ اے عام لوگو! تمہیں غیب کا علم دے دے۔ ہاں اﷲ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بے شمار غیوب کا علم عطا فرمایا ۔اور آپ نے ہزاروں غیب کی خبریں اپنی امت کو دیں جن میں سے کچھ کا تذکرہ تو قرآن مجید میں ہے باقی ہزاروں غیب کی خبروں کا ذکر احادیث کی کتابوں اور سیرو تواریخ کے دفتروں میں مذکور ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ‎( ھود:49) یہ غیب کی خبریں ہیں جن کو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔[13]

خاصہ باری تعالیٰ[ترمیم]

علمِ غیب کا خاصہ حضرتِ عزت ہونا بے شک حق ہے، اور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتا ہے :قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ[14]۔ تم فرمادو کہ آسمانوں اور زمین میں اﷲ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ اور اس سے مراد وہی علم ذاتی و علم محیط ہے کہ وہی باری عزوجل کے لیے ثابت اور اس سے مخصوص ہیں۔ علم عطائی کہ دوسرے کا دیا ہوا ہو۔ علم غیر محیط کہ بعض اشیاء سے مطلع بعض سے ناواقف ہو، اﷲ عزوجل کے لیے ہو ہی نہیں سکتا، اس سے مخصوص ہونا تو دوسرا درجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کیلئے ایک ذرے کا علمِ غیب ماننا قطعی کفر ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں جیسے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء عِظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم پر ’’غیب ‘‘کے دروازے کھولتا ہے جیسا کہ خود قرآن و حدیث میں ہے۔[15]

خاصۂ مصطفےٰ[ترمیم]

اہلِ سُنّت کا مسئلہ علم غیب میں یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نےحضور کو علمِ غیب عنایت فرمایا اﷲ عزوجل کی عطا سے علوم غیب غیر محیط کا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کوملنا بھی قطعاً حق ہے، اور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتاہے۔
(1)وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ‎۔[16]اﷲ اس لیے نہیں کہ تم لوگوں کو غیب پر مطلع کرے ہاں اﷲ اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے چُن لیتا ہے۔
(2) اور فرماتا ہے :عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا‎۔[17]اﷲ عالم الغیب ہے تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتاسوا اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
(3) اور فرماتا ہے : وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ۔[18] یہ نبی غیب کے بتانے میں بخیل نہیں۔
(4) اور فرماتا ہے :ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ۔[19] اے نبی ! یہ غیب کی باتیں ہم تم کو مخفی طور پر بتاتے ہیں۔
(5) حتی کہ مسلمانوں کو فرماتا ہے :يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔[20]غیب پر ایمان لاتے ہیں۔[21]

علم غیب ذاتی یا عطائی[ترمیم]

قرآن کریم کے کسی مسئلہ سے متعلق بعض آیات کو لینا اور بعض کو ہاتھ ہی نہ لگانا وہ بددیانتی ہے جو تو ریت کے ساتھ یہودی علماء اور انجیل کے ساتھ عیسائی پادری کرتے رہے۔ جسے قرآن کریم میں تحریف اور کتاب اﷲ کا انکار قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے کچھ علماء نے بھی وہی وطیرہ اپنایا ہوا ہے۔ اپنے مطلب کی بات لینا اور جو اپنے خلاف ہو اسے چھوڑ دینا۔ اس جرم کی سزا قرآن میں یہ بتائی گئی ہے۔ کہ ’’دنیا میں ذلت اور آخرت میں سخت تر عذاب ‘‘ [22]قرآن مجید میں دونوں قسم کی آیتیں ہیں۔ بعض آیتوں میں یہ ہے کہ خدا کے نبیوں کو علم غیب حاصل ہے اور بعض آیتوں میں یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے سوا کسی کو بھی علم غیب نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ دونوں آیتیں حق ہیں اور ان دونوں آیتوں پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے اور ان دونوں آیتوں میں سے کسی کا بھی انکار کرنا کفر ہے۔ جہاں جہاں قرآن میں یہ ہے کہ نبیوں کو علم غیب حاصل ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ نبیوں کو خدا کے عطا فرمانے سے غیب کا علم حاصل ہے اور جہاں جہاں قرآن میں یہ ہے کہ اﷲ تعالی کے سوا کسی کو بھی علم غیب نہیں ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ بغیر اﷲتعالیٰ کے بتائے ہوئے کسی کو بھی کسی چیز کا علم غیب حاصل نہیں ہے۔ ہرگز ہرگز ان دونوں قسم کی آیتوں میں کوئی تعارض اور ٹکراؤ نہیں ہے۔[23] احمد رضا خان لکھتے ہیں

  1. علمِ ذاتی اﷲ عزوجل سے خاص ہے اس کے غیر کے لیے محال ہے، جو اس میں سے کوئی چیز اگرچہ ایک ذرّہ سے کمتر سے کمتر غیر خدا کے لیے مانے وہ یقیناً کافرو مشرک ہے۔
  2. غیر متناہی بالفعل کو شامل ہوناصرف علمِ الہٰی کے لیے ہے۔
  3. کسی مخلوق کا معلوماتِ الہٰیہ کو بتفصیل تام محیط ہوجانا شرع سے بھی محال ہے، اور عقل سے بھی، بلکہ اگر تمام اہلِ عالم اگلے پچھلوں سب کے جملہ علوم جمع کیے جائیں تو اُن کو علومِ الہٰیہ سے وہ نسبت نہ ہوگی جو ایک بُوند کے دس لاکھ حصوں سے ایک حصے کو دس لاکھ سمندروں سے۔
  4. ہماری تقریر سے روشن و تاباں ہوگیا کہ تمام مخلوق کے جملہ علوم مل کر بھی علمِ الہٰی سے مساوی ہونے کا شبہ اس قابل نہیں کہ مسلمان کے دل میں اس کا خطرہ گزرے۔
  5. ہم قاہر دلیلیں قائم کرچکے کہ علم مخلوق کا جمیع معلومات ِ الہٰیہ کو محیط ہونا عقل و شرع دونوں کی رو سے یقیناًمحال ہے ۔
  6. اعلم ذاتی اور بالاستیعاب محیط تفصیلی یہ اﷲ عزوجل کے ساتھ خاص ہیں بندوں کے لیے صرف ایک گُونہ علم بعطائے الہٰی ہے۔
  7. ہم نے علمِ الہٰی سے مساوات مانیں نہ غیر کے لیے علم بالذات جانیں، اور عطائے الہٰی سے بھی بعض علم ہی ملنا مانتے ہیں نہ کہ جمیع۔[24]

علم یقیناً اُن صفات میں سے ہے کہ غیر خدا کو بعطائے خدا مل سکتا ہے، توذاتی وعطائی کی طرف اس کا انقسام یقینی، یونہی محیط وغیر محیط کی تقسیم بدیہی، ان میں اﷲ عزوجل کے ساتھ خاص ہونے کے قابل صرف ہر تقسیم کی قسم اول ہے یعنی علم ذاتی وعلم محیط حقیقی۔ تو آیاتِ واحادیث واقوال علماء جن میں دوسرے کے لیے اثباتِ علم غیب سے انکارہے ان میں قطعاً یہی قسمیں مراد ہیں۔ فقہا کہ حکمِ تکفیر کرتے ہیں انہیں قسموں پر حکم لگاتے ہیں کہ آخر مبنائے تکفیر یہی تو ہے کہ خدا کی صفتِ خاصہ دُوسرے کے لیے ثابت کی۔ اب یہ دیکھ لیجئے کہ خدا کے لیے علم ذاتی خاص ہے یا عطائی، حاشا ﷲ علم عطائی خدا کے ساتھ ہونا درکنار خدا کے لیے محال قطعی ہے کہ دوسرے کے دیئے سے اسے علم حاصل ہو پھر خدا کے لیے علم محیط حقیقی خاص ہے یا غیر محیط، حاشاﷲ علم محیط خدا کے لیے محال قطعی ہے جس میں بعض معلومات مجہول رہیں، تو علمِ عطائی غیر محیط حقیقی غیر خدا کے لیے ثابت کرنا خدا کی صفتِ خاصہ ثابت کرنا کیونکر ہوا۔ تکفیر فقہاء اگر اس طرف ناظر ہو تو معنی یہ ٹھہریں گے کہ دیکھو تم غیر خدا کے لیے وہ صفت ثابت کرتے ہو جو زنہار خدا کی صفت نہیں ہوسکتی لہذا کافر ہو یعنی وہ صفت غیر کے لیے ثابت کرنی چاہیے تھی جو خاص خدا کی صفت ہے، کیا کوئی احمق ایسا اخبث جنون گوارا کرسکتا ہے۔[25] تودراصل اس میں لوگ خطا کرتے ہیں کہ ذاتی اور عطائی میں فرق نہیں کر پاتے

  • الف:جہاں علم غیب کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص کیا جاوے یا اس کی بندوں سے نفی کی جاوے تو اس علم غیب سے ذاتی ، دائمی، جمیع علوم غیبیہ، قدیمی مراد ہوگا ۔
  • ب:جہاں علم غیب بندوں کے لئے ثابت کیا جاوے یا کسی نبی کا قول قرآن میں نقل کیا جاوے کہ فلاں پیغمبر نے فرمایا کہ میں غیب جانتا ہوں وہاں مجازی، حادث ، عطائی علم غیب مراد ہوگا [26]

غیب کی خبریں یا علم غیب[ترمیم]

آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف غیب کی خبریں دی گئی ہیں یا غیب کا علم بھی دیا گیا ہے؟
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے غیر سے علم غیب کی نفی بھی کی گئی ہے اور انبیاء علیہم السلام کے لیے علم غیب کا اثبات بھی کیا گیا ہے‘ علماء اسلام نے اس کی متعدد توجیہات کی ہیں‘ ایک یہ کہ بلاواسطہ‘ بلاتعلیم اور ذاتی علم غیب کی غیر اللہ سے نفی کی گئی ہے۔ اور بالواسطہ‘ بذریعہ وحی والہام اور عطائی علم غیب کا غیر اللہ کے لیے ثبوت ہے۔
دوسری توجیہ یہ ہے کہ علم غیب کی نفی ہے اور اطلاع علی الغیب اور اظہار غیب کا ثبوت ہے‘ یہ دونوں توجیہات صحیح ہیں۔ بعض متاخرین علماء نے یہ کہا ہے کہ علم غیب کی نفی ہے اور غیب کی خبروں کا ثبوت ہے۔ اس توجیہ میں ہمیں کلام ہے‘ کیونکہ خبر بھی علم کا ایک ذریعہ ہے اور کسی چیز کی خبر کا ثبوت اس کے علم کے ثبوت کو مستلزم ہے‘ نیز متقدمین علماءنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم پر علم غیب کا اطلاق کیا ہے۔ جیسا کہ مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں:
اسی طرح کسی رسول ونبی کو بذریعہ وحی یا کسی ولی کو بذریعہ کشف والہام کچھ چیزوں کا علم دے دیا گیا‘ اس کو قرآن میں غیب کی بجائے انباء الغیب کہا گیا ہے‘ جیسا کہ متعدد آیات میں مذکور ہے۔تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ‎اس لیے آیت مذکورہ میںلایعلمھا الا ھو‎یعنی غیب کے خزانوں کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا‘ اس میں کسی شبہ یا استثناء کی گنجائش نہیں۔ [27]
نیز مفتی شفیع دیوبندی لکھتے ہیں:
حق تعالیٰ خود بذریعہ وحی اپنے انبیاء کو جو امور غیبیہ بتلاتے ہیں‘ وہ حقیقتا علم غیب نہیں ہے‘ بلکہ غیب کی خبریں ہیں۔ جو انبیاء کو دی گئی ہیں جن کو خود قرآن کریم نے کئی جگہ انباء الغیب کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ’’ من انباء الغیب نوحیھا الیک‘‘۔ [28] لیکن متقدمین علماء دیوبند نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر مخلوق کے علم پر علم غیب کا اطلاق کیا ہے۔
شیخ اشرف علی تھانوی متوفی 1362 ھ لکھتے ہیں
اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے ؟ ایسا علم غیب تو زید وعمرو بلکہ ہر صبی ومجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لیے بھی حاصل ہے کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہوتی ہے۔ [29] اس عبارت میں شیخ تھانوی نے نہ صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم پر علم غیب کا اطلاق کیا ہے‘ بلکہ ہر آدمی‘ بچوں‘ پاگلوں‘ حیوانات اور بہائم کے علم پر بھی علم غیب کا اطلاق کیا ہے۔ شیخ تھانوی کے خلیفہ مجاز شیخ مرتضی حسین چاند پوری متوفی1371ھ اس عبارت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
حفظ الایمان میں اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم غیب باعطاء الہی حاصل ہے۔ [30] نیز لکھتے ہیں:
سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو بعض علوم غیبیہ حاصل ہیں‘ اس سے تو یہاں بحث ہی نہیں۔ [31] نیز شیخ چاند پوری لکھتے ہیں:
صاحب حفظ الایمان کا مدعی تو یہ ہے کہ سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو باوجود علم غیب عطائی ہونے کے عالم الغیب کہنا جائز نہیں۔ [32] واضح رہے کہ اہلسنت نزدیک بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم غیب حاصل ہے۔ لیکن آپ کو عالم الغیب کہنا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ عرف اور شرع میں عالم الغیب اللہ تعالیٰ کی صفت مختصہ ہے‘ جیسے باوجود عزیز اور جلیل ہونے کے محمد عزوجل کہنا جائز ہیں ہے۔ اعلیحضرت نے آپ کے لیے عالم الغیب کہنا مکروہ قرار دیا ہے۔
نیز شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٢ ھ لکھتے ہیں
اول : میں نے دعوی کیا ہے کہ علم غیب جو بلاواسطہ ہو وہ تو خاص ہے حق تعالیٰ کے ساتھ اور جو بواسطہ ہو‘ وہ مخلوق کے لیے ہوسکتا ہے‘ مگر اس سے مخلوق کو عالم الغیب کہناجائز نہیں ہے۔ [33] بہرحال ان عبارات سے یہ ثابت ہوگیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطاء الہی سے علم غیب حاصل ہے، جیسا کہ شیخ چاند پوری نے اس کی تصریح کی ہے‘ اور آپ کی طرف غیب کی نسبت درست ہے‘ اور یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ آپ کو صرف غیب کی خبریں دی گئی ہیں‘ غیب کا علم نہیں ہے۔

علم غیب اوراحادیث[ترمیم]

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن صبح کی نماز کے لئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ تاخیر سے تشریف لائے یوں لگتا تھا کہ سورج نکل آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے تشریف لائے تکبیر ہوئی، مختصر نماز پڑھائی، سلام پھیر کر باآواز بلند فرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو پھر ہماری طرف رخ انور پھیر کر فرمایا۔ میں تمہیں تاخیر کی وجہ بتاتا ہوں، میں رات کو اٹھا، وضو کر کے جو مقدر میں تھی نماز پڑھی، مجھے نماز میں اونگھ آ گئی دیکھا تو سامنے بہترین شکل و صورت میں میرا پروردگار تھا۔فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ المَلَأُ الأَعْلَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي رَبِّ، قَالَهَا ثَلَاثًا " قَالَ: " فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ[34]
’’فرمایا : اے محمدﷺ! میں نے عرض کی، پروردگار! حاضر ہوں۔ فرمایا : فرشتے کس بات میں بحث کر رہے ہی؟ میں نے عرض کی : مجھے معلوم نہیں۔ یہی بات تین بار فرمائی۔ فرمایا : میں نے دیکھا اس نے اپنا دست اقدس میرے دو شانوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی (انگلیوں سے مراد جو بھی ہے) پھر ہر چیز مجھ پر روشن ہو گئی اور میں نے پہچان لی۔ ‘‘
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے:مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، إِلَّا حَدَّثَ بِهِ»، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَاءِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيتُهُ فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ، كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ، ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ[35]
’’کوئی چیز نہ چھوڑی، قیامت تک ہونے والی ہر چیز بتا دی جس نے یاد رکھی، یاد رکھی اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔ میرے ان ساتھیوں کو علم ہے، اس میں سے کوئی بات میں بھول جاتا ہوں پھر ہوتے دیکھتا ہوں تو یاد آ جاتی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے کا چہرہ پہچانتا ہے پھر وہ اس سے غائب ہو جاتا ہے پھر جب اسے دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے۔‘‘
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب میری امت میں تلوار چلے گی تو قیامت تک نہ اٹھے گی اور قیامت قائم نہ ہو گی جب تک میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے نہ مل جائیں یہاں تک کہ میری امت کے بعض گروہ بتوں کی عبادت کریں گے میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ - قَالَ ابْنُ عِيسَى: «ظَاهِرِينَ» ثُمَّ اتَّفَقَا - لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ[36] ’’ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، مخالف ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا یہاں تک کہ اﷲ کا حکم آ جائے گا۔ ‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، دَعْوَتُهُمَا وَاحِدَةٌ[37] ’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو بڑی جماعتیں جنگ نہ کریں اور ان میں بہت بڑی خونریزی ہو گی، دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا (یعنی اسلام)۔ ‘‘
مومن تو ہوتا ہی وہ ہے جو یومنون بالغیب غیب پر ایمان لائے کہ اﷲ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو غیب کی باتیں بیان فرمائیں ان پر یقین کرے جو کہے کہ نبی کو غیب کا علم اﷲ نے دیا ہی نہیں ہے وہ فرشتوں، قبر، قیامت، ذات باری تعالیٰ، جنت، جہنم، منکر نکیر، حور و غلمان وغیرہ پر یقین کیسے کرے گا؟ یہ حقائق تو صرف نبی نے بتائے، ماننے والے مسلمان اور شک کرنے والے یا انکار کرنے والے غیر مسلم کہلائے۔ نبی کا مفہوم ہی غیب بتانے والا ہے۔ عربی لغت کی کوئی دیکھ لیں کتاب قرآن و سنت میں یہ حقیقت واضح کر دی گئی۔ اﷲ سب کو ہدایت دے۔

اللہ تعالیٰ کے علم اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم میں فرق[ترمیم]

کوئی بھی علم غیب کو فی نفسہ خاصہ مصطفےٰ نہیں بلکہ عطاء خدا سمجھتا ہےجیسا کہ مختلف علماء کی کتابوں سے واضح ہوتا ہے۔
مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی 1396 ھ لکھتے ہیں:
خلاصہ یہ ہے کہ علم کے متعلق دو چیزیں حق تعالیٰ کی خصوصیت میں سے ہیں جن میں کوئی فرشتہ یارسول یا کوئی دوسری مخلوق شریک نہیں۔ ایک علم غیب‘ دوسرے موجودات کا علم محیط جس سے کوئی ذرہ مخفی نہیں۔[38] نیز مفتی محمد شفیع دوسری جگہ لکھتے ہیں:
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء علیہم السلام کو اور بالخصوص حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب کی ہزاروں لاکھوں چیزوں کا علم عطا فرمایا ہے اور سب فرشتوں اور انبیاء علیہم سے زیادہ عطا فرمایا ہے‘ لیکن یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے برابر کسی کا علم نہیں‘ نہ ہوسکتا ہے۔ ورنہ پھر یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم کا وہ غلو ہوگا جو عیسائیوں نے اختیار کی کہ رسول کو خدا کے برابر ٹھہرا دیا۔ اسی کا نام شرک ہے۔ نعوذ باللہ منہ۔[39] اب واضح ہوگیا کہ صرف غلو اور برابری سے بچنے کیلئے پہلا مؤقف تھاجبکہاہلسنت نزدیک بھی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم میں مساوات کا قول کرنا شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم قدیم اور غیر متناہی ہے‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاعلم حادث اور متناہی ہے‘ اللہ تعالیٰ کا علم از خود اور بے تعلیم ہے‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کی تعلیم سے ہے۔ ایک قطرہ کو جو نسبت سمندر سے ہے‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کو اللہ کے علم سے وہ نسبت بھی نہیں ہے‘ کیونکہ قطرہ اور سمندر میں متناہی کی نسبت متناہی کی طرف ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم اور اللہ کے علم میں متناہی کی غیر متناہی کی طرف نسبت ہے‘ بلکہ ایک ذرہ کے متعلق بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم‘ اللہ کے علم کی مثل نہیں ہے‘ کیونکہ آپ کو ایک ذرہ کا علم متناہی وجوہ سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ایک ذرہ کا علم بھی غیر متناہی وجوہ سے ہوتا ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی 1340ھ لکھتے ہیں:
کسی علم کی حضرت عزوجل سے تخصیص اور اس کی ذات پاک میں حصر اور اس کے غیر سے مطلقا نفی چند وجہ پر ہے:

  • اول : علم کا ذاتی ہونا کہ بذات خود بے عطاء غیر ہو۔
  • دوم : علم کا غنا کہ کسی آلہ جارحہ وتدبیر ونظر والتفات وانفعال کا اصلا محتاج نہ ہو۔
  • سوم : علم کا سرمدی ہونا کہ ازلاً ابداًہو۔
  • چہارم : علم کا وجوب کہ کسی طرح اس کا سلب ممکن نہ ہو۔
  • پنجم : علم کا اقصی غایت کمال پر ہونا کہ معلوم کی ذات‘ ذاتیات‘ اعراض‘ احوال لازمہ‘ مفارقہ‘ ذاتیہ‘ اضافیہ‘ ماضیہ‘ آتیہ (مستقبلہ) موجودہ‘ ممکنہ سے کوئی ذرہ کسی وجہ سے مخفی نہ ہوسکے۔

ان پانچ وجہ پر مطلق علم حضرت احدیت جل وعلا سے خاص اور اس کے غیر سے مطلقا منفی‘ یعنی کسی کو کسی ذرہ کا ایسا علم جو ان پانچ وجوہ سے ایک وجہ بھی رکھتا ہو‘ حاصل ہونا ممکن نہیں ہے جو کسی غیر الہی کے لیے عقول مفارقہ ہوں خواہ نفوس ناطقہ ایک ذرہ کا ایسا علم ثابت کرے‘ یقینا اجماعاً کافر مشرک ہے۔ [40]
اب معلوم ہوگیا کہ مطلق علم غیب کوئی بھی نہیں مانتا اور نہ کوئی غلو اور برابری کے طور پر تسلیم کرتا ہےجیسا کہ امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں:
میں نے اپنی کتابوں میں تصریح کردی ہے کہ اگر تمام اولین وآخرین کا علم جمع کیا جائے تو اس علم کو علم الہی سے وہ نسبت ہرگز نہیں ہو سکتی جو ایک قطرہ کے کروڑویں حصہ کو سمندر سے ہے‘ کیونکہ یہ نسبت متناہی کی متناہی کے ساتھ ہے اور وہ غیر متناہی کی متناہی ہے۔ [41] [42]
اب رہی یہ بات کہ علم جزوی یا علم عطائی تو اس سے کسی کو بھی انکار نہیں جیسا کہ مفتی شفیع صاحب لکھتے ہیں :
اکوان غیبیہ، ان کا علم کلی تو حق تعالیٰ کسی کو عطا نہیں فرماتے وہ بالکل ذات حق کے ساتھ مخصوص ہے، مگر علم جزئی خاص خاص واقعات کا جب چاہتا ہے جس قدر چاہتا ہے عطا فرما دیتا ہے۔ اس طرح اصل علم غیب تو سب کا سب حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے، پھر وہ اپنے علم غیب میں سے احکام غیب کا علم تو عادتاً انبیاء علیہم السلام کو بذریعہ وحی بتلاتے ہی ہیں، اور یہی علم ان کی بعثت کا مقصد ہے۔[43] امور غیببہ کا علم مجھے صرف وحی کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔۔۔۔امور غیب کے متعلق میں جو کچھ کہتا ہوں وہ سب وحی الٰہی سے کہتا ہوں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ وسلم) کو بے شمار علوم امور غیبیہ کے متعلق عطا فرماتے ہیں۔۔۔۔ امور غیب کے علم محیط سب خدا تعالیٰ کی طرح نہیں اور ان کے علم میں خود مختار نہیں بلکہ مجھے بواسطہ وحی خداوندی جو کچھ بتلا دیا جاتا ہے وہ میں ذکر کردیتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کے متعلق تقاضائے ادب : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کے متعلق تقاضائے ادب یہ ہے کہ یوں نہ کہا جائے کہ آپ غیب نہیں جانتے تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امور غیب کا بہت بڑا علم دیا تھا جو انبیاء میں سے کسی دوسرے کو نہیں ملا۔[44]

علم غیب اور مفسرین[ترمیم]

امام قرطبی سورۃ الانعام کی آیت : 59 عندہ مفاتیح الغیب لا یعلمہا الا ہو کے تحت لکھتے ہیں : فَاللَّهُ تَعَالَى عِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ، وَبِيَدِهِ الطُّرُقُ الْمُوَصِّلَةُ إِلَيْهِ، لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا هُوَ، فَمَنْ شَاءَ إِطْلَاعَهُ عَلَيْهَا أَطْلَعَهُ، وَمَنْ شَاءَ حَجْبَهُ عَنْهَا حَجَبَهُ. وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ مِنْ إِفَاضَتِهِ إِلَّا عَلَى رُسُلِهِ، بِدَلِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَى:" وَما كانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشاءُ" وَقَالَ:" عالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُول[45] ’’سو اﷲ کے پاس غیب کا علم ہے (یعنی جو مخلوق سے پوشیدہ ہے اسے اﷲ جانتا ہے) اور اسی کے ہاتھ میں غیب تک پہنچانے والے راستے ہیں۔ وہی ان کا مالک ہے سو جس کو ان پر اطلاع دینا چاہے اطلاع دیتا ہے اور جن سے پردے میں رکھنا چاہے پردے میں رکھتا ہے اور اس کی فیضان صرف رسول پر ہوتا ہے۔ ‘‘ امام فخر الدین رازی سورۃ التوبہ کی آیت : 82 کے تحت لکھتے ہیں :
واللَّه تَعَالَى كَانَ يُطْلِعُ الرَّسُولَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى تِلْكَ الْأَحْوَالِ حَالًا فَحَالًا وَيُخْبِرُهُ عَنْهَا عَلَى سَبِيلِ التَّفْصِيلِ، وَمَا كَانُوا يَجِدُونَ فِي كُلِّ ذَلِكَ إِلَّا الصِّدْقَ، فَقِيلَ لَهُمْ: إِنَّ ذَلِكَ لَوْ لَمْ يَحْصُلْ بِإِخْبَارِ اللَّه تَعَالَى وَإِلَّا لَمَا اطَّرَدَ الصِّدْقُ فِيهِ، وَلَظَهَرَ فِي قَوْلِ مُحَمَّدٍ أَنْوَاعُ الِاخْتِلَافِ وَالتَّفَاوُتِ، فَلَمَّا لَمْ يَظْهَرْ ذَلِكَ عَلِمْنَا أَنَّ ذَلِكَ لَيْسَ إِلَّا بِإِعْلَامِ اللَّه تَعَالَى[46] ’’اﷲ تعالیٰ منافقین کے تمام احوال پر نبی ں کو اطلاع دیتا رہا اور تفصیل بتاتا رہا اور وہ ان خبروں کو ہمیشہ سچ ہی پاتے۔ سو ان سے کہا گیا کہ اگر یہ خبریں اﷲ کے بتانے سے نہ ہوتیں تو اس میں سچائی کس طرح جمع ہو جاتی۔ محمد کی اپنی بات ہوتی تو اس میں اختلاف وتفاوت واضح ہوتا ہے۔ جب ایسا کبھی ظاہر نہیں ہوا تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ یہ سب کچھ محض اﷲ کے بتانے سے ہے۔ ‘‘ سورہ البقرہ کی آیت 255کے تحت لکھتے ہیں لَا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ إِلَّا عِنْدَ إِطْلَاعِ اللَّهِ بَعْضَ أَنْبِيَائِهِ عَلَى بَعْضِ الْغَيْبِ، كما قَالَ: عالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُولٍ.[47] ’’یعنی لوگوں کو غیب کا علم نہیں مگر ہاں جب کسی نبی کو اس نے کسی غیب کی اطلاع کر دی تو اس کو علم غیب حاصل ہو جاتا ہے جیسے فرمایا : وہ عالم غیب ہے اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا مگر جس نبی کو اس کے لئے چن لے۔ ‘‘ علامہ آلوسی حنفی (رح) لکھتے ہیں : حق کی آنکھ سے کل کا مشاہدہ کرنا غیب ہے‘ کبھی قرب نوافل کی وجہ سے بندہ پر کرم ہوتا ہے اور حق سبحانہ اس کی آنکھ ہوجاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے کان ہوجاتا ہے جس سے سنتا ہے اور قرب فرائض کے بعد اور ترقی کرتا ہے پھر وہاں ایسا نور ہوجاتا ہے کہ اس کے لیے غیب شہود ہوجاتا ہے اور جو چیزیں ہمارے سامنے سے غائب ہوں وہ اس کے سامنے حاضر ہوجاتی ہیں‘ اس کے باوجود جو شخص اس مقام پر واصل ہو‘ میں اس کے حق میں کہنا جائز نہیں قرار دیتا کہ اس کو غیب کا علم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فرما دیجئے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی (بہ ذات خود) غیب کو نہیں جانتا۔ [48] نیز علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں : حق یہ ہے کہ جس علم کی اللہ تعالیٰ کے غیر سے نفی ہے یہ وہ علم ہے جو بہ ذاتہ ہو اور بلاواسطہ ہو اور جو علم خواص کو حاصل ہے‘ وہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے افاضہ کرنے کی وجہ سے ہے‘ اس لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ انہوں نے بہ ذاتہ اور بلاواسطہ غیب کو جان لیا‘ بلکہ یہ کفر ہے‘ اس لیے یہ کہا جائے گا کہ ان پر غیب ظاہر کیا گیا ہے یا وہ غیب پر مطلع کئے گئے‘ ہر چند کہ عقلا یہ کہنا جائز ہے کہ انہیں غیب کاعلم دیا گیا سوا نہیں غیب کاعلم ہے یا وہ غیب جانتے ہیں لیکن اس کا استعمال شرعا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی ظاہر آیات سے تصادم اور تعارض ہے۔اور اس میں سوء ادب بھی ہے۔ [49] خلاصہ بحث : اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو علی حسب المراتب غیب کی خبروں پر مطلع فرمایا ہے لیکن غیب مطلق (یعنی تمام معلومات کا احاطہ کاملہ) یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اسی کو غیب مطلق کا علم ہے‘ اور غیب کی جن خبروں پر اللہ نے اپنے خواص کو مطلع فرمایا ہے ان کے اعتبار سے ان بندوں کو غیب کا علم ہے‘ لیکن اس کو علم الغیب کہنا درست نہیں ہے کیونکہ ان کو ایسی صفت حاصل نہیں ہے جس سے ان پر ہر غیب منکشف ہو‘ یہ علامہ شامی کی بیان کردہ توجہیہ ہے‘ اور علامہ آلوسی کی توجیہ یہ ہے کہ اگرچہ ان کو بعض غیوبات پر مطلع کیا گیا لیکن ظاہر آیات سے تعارض کی بناء پر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ان کو غیب کا علم ہے‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کو غیب پر مطلع کیا گیا ہے یا ان پر غیب ظاہر کیا گیا ہے‘ اور امام احمد رضا قادری (رح) کی تحقیق ہے کہ مطلقا علم غیب بولا جائے تو اس سے علم ذاتی مراد ہوتا ہے‘ اس لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص کو علم غیب ہے‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بعض غیوب کو ظاہر فرمایا‘ آپ کو بعض غیوب پر مطلع کیا گیا یا آپ کو غیب کی خبریں دی گئیں اور جن علماء اور فقہاء کی عبارات میں مخلوق کی طرف علم غیب کا اسناد کیا گیا ہے‘ وہاں چونکہ غیب سے مراد غیب مطلق نہیں ہے اس لیے وہ عبارات عقلا جائز ہیں اور کفر وشرک نہیں ہیں لیکن ایسا کہنا شرعا مستحسن نہیں ہے۔[50] عام لوگوں کو جن بعض غیوب کا علم ہوتا ہے (جیسے جنت‘ دوزخ وغیرہ) یہ بعض قلیل ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جن بعض غیوب کا علم ہے وہ بعض کثیر ہے‘ آپ کے علم کے سامنے تمام مخلوق کاعلم ایسا ہے جیسے قطرہ سمندر کے سامنے ہو اور اللہ کے مقابلہ میں آپ کے علم کی وہ نسبت بھی نہیں جو قطرہ اور سمندر میں ہے کیونکہ قطرہ اور سمندر میں محدود کی نسبت محدود کی طرف ہے اور آپ کے اور اللہ کے علم میں محدود کی نسبت لا محدود کی طرف ہے اور بعض قلیل کی بناء پر وصف کا اطلاق نہیں ہوتا اور بعض کثیر کی بناء پر وصف کا اطلاق ہوتا ہے‘ مثلا ہر مسلمان کو دین کے بعض مسائل کا علم ہے‘ لیکن اس کو عالم نہیں کہتے اور عالم دین کو عالم کہتے ہیں‘ حالانکہ اسے بھی کل مسائل کا علم نہیں ہوتا‘ بعض مسائل ہی کا علم ہوتا ہے لیکن اس کو چونکہ بعض کثیر کا علم ہوتا ہے اس لئے اس کو عالم کہتے ہیں باقی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عالم الغیب کا اطلاق کرنا ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے‘ ہر چند کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطاء الہی سے غیب کا علم ہے‘ لیکن چونکہ عرف اور شرع میں عالم الغیب کا لفظ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے آپ کو عالم الغیب کہنا جائز نہیں ہے‘ جیسا کہ آپ میں برکت اور بلندی کا معنی پایا جاتا ہے اس کے باوجود محمد تبارک وتعالیٰ کہنا جائز نہیں ہے کیونکہ عرف اور شرع میں تبارک وتعالیٰ اللہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ [51] اسی طرح کسی رسول و نبی کو بذریعہ وحی یا کسی ولی کو بذریعہ کشف و الہام جو غیب کی کچھ چیزوں کا علم دے دیا گیا تو وہ غیب کی حدود سے نکل گیا، اس کو قرآن میں غیب کی بجائے انباء الغیب کہا گیا ہے۔ جیسا کہ متعدد آیات میں مذکور ہے : (آیت) تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک، اس لئے آیت مذکورہ میں لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ، یعنی غیب کے خزانوں کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، اس میں کسی شبہ یا استثناء کی گنجائش نہیں۔[52] شارحین کتب حدیث نے اور مفسرین نے لکھا ہے کہ اور علم غیب کی باتیں اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذر یعہ وحی کے اور اولیا۔ کو بذریعہ الہام یا خواب کے ظاہر فرما دیتا ہے چنانچہ انبیاء نے عذاب قبر عذاب حشر کا احوال دوزخ و جنت کا حال جو علم غیب میں سے ہے صراحب سے بیان کیا ہے حضرت عیسیٰ لوگوں کی گھر کی رکھی ہوئی چیزیں بغیر دیکھے اور لوگوں کا کھایا پیا بتلا دیا کرتے تھے اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے ایک قیدی کا رہا جا ہونا اور دوسرے کا سولی پر چڑھایا جانا بتلا دیا تھا اور بعض اولیاء بھی بعضی آئندہ کی باتوں کو کرامت کے طور پر بیان کردیتے ہیں فرق اسی قدر ہے کہ نبی کو جو غیب کا حال معلوم ہوتا ہے وہ وحی سے معلوم ہوتا ہے جو یقینی علم ہے اور اولیاء کو جو کچھ غیب کا حال معلوم ہوتا ہے وہ الہام یا خواب کے ذریعہ سے معلوم ہوتا ہے جس میں مجتہد کے اجتہاد کی طرح غلطی کا احتمال ہے کس لیے کہ نبی کی وحی میں اس بات کی حفاظت کے لیے کہ اس میں شیطان کا کچھ تصرف نہ ہونے پاوے خدا کی طرف سے فرشتے ہمیشہ خبرداری کیا کرتے ہیں[53]


علم غیب اور محدثین[ترمیم]

علامہ ابن حجر مکی متوفی 911 ھ تحریر فرماتے ہیں:
وما ذکرناہ فی الایۃ صرح بہ النووی رحمہ اللہ تعالیٰ فتاواہ فقال معناھا لایعلم ذالک استقلالا وعلم احاطۃ بکل المعلومات للہ تعالیٰ‎:
یعنی ہم نے جو آیات کی تفسیر کی، امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فتاوی میں اس کی تصریح کی فرماتے ہیں آیت کا معنی یہ ہے کہ غیب کا ایسا علم صرف خدا کو ہے جو بذات خود اور جمیع معلومات الہیہ کو محیط ہو۔ [54]
علامہ ابن حجر مکی نے علامہ نووی کی جس عبارت کا حوالہ دیا ہے وہ حسب ذیل ہے:
معناہ لا یعلم ذالک استقلالا وعلم احاطۃ بکل المعلومات الا اللہ واما المعجزات والکرامات فحصلت باعلام اللہ تعالیٰ للانبیاء والاولیاء لا استقلالا‎:
جن آیات میں اللہ تعالیٰ کے غیر سے علم غیب کی نفی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی استقلالاً علم غیب کو نہیں جانتا یا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کل معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتا اور معجزات اور کرامات میں اللہ کے خبر دینے سے علم حاصل ہوتا ہے استقلالًا نہیں ہوتا۔ [55]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ http://www.urduencyclopedia.org/urdudictionary/index.php?title=
  2. ^ صراط الجنان جلد اول صفحہ 64
  3. ^ المفردات في غريب القرآن المؤلف: أبو القاسم الحسين بن محمد المعروف بالراغب الأصفهانى
  4. ^ گلدستہ تفسیر، عبد القیوم مہاجر مدنی، سورہ الملک ،آیت 23،صفحہ 274،ادارہ تعلیمات اشرفیہ ملتان
  5. ^ http://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2917
  6. ^ (کتاب الشفاء، باب الرابع)
  7. ^ (المواہب اللدنیۃ،المقصد الثانی
  8. ^ تفسیرخازن، سورۃ التکویر تحت الاٰیۃ 24،ج4،ص357
  9. ^ المنجد، 784
  10. ^ لسان العرب لابن منظور، افریقی، 14 : 9
  11. ^ تفسیر صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 3، 1/26، ملخصاً۔بحوالہ صراط الجنان جلد اول صفحہ 64
  12. ^ شرح عقائد مع النبراس : 572
  13. ^ سیرت مصطفےٰﷺص740،741
  14. ^ النمل:65
  15. ^ صراط الجنان جلد اول صفحہ 64
  16. ^ آل عمران:175
  17. ^ الجن :26
  18. ^ التکویر:24
  19. ^ یوسف:96
  20. ^ البقرہ:3
  21. ^ فتاویٰ رضویہ جلد 29
  22. ^ البقرہ، : 85
  23. ^ جنتی زیورص176،177
  24. ^ الدولۃ المکیۃ احمد رضا خان النظر الاول مطبعہ اہلسنت بریلی
  25. ^ فتاویٰ رضویہ ،احمد رضا خان،جلد 29صفحہ 444
  26. ^ (علم القرآن مفتی احمد یار خان نعیمی ص 154)
  27. ^ معارف القرآن ج 3ص348‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی‘ 1397ھ
  28. ^ معارف القرآن ج 3ص 348‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی‘ 1397 ھ
  29. ^ حفظ الایمان‘ ص 11‘ مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ دیوبندیوپی
  30. ^ توضیح البیان فی حفظ الایمان‘ ص 5‘ مطبوعہ لاہور
  31. ^ توضیح البیان فی حفظ الایمان‘ ص 10‘ مطبوعہ لاہور
  32. ^ توضیح البیان فی حفظ الایمان‘ ص 13‘ مطبوعہ لاہور
  33. ^ حفظ الایمان‘ ص 14‘ مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ دیوبند
  34. ^ ترمذی، کتاب التفسیر القرآن، باب سورۃ ص، الرقم : 32352۔ احمد، امام بخاری نے صحیح کہا
  35. ^ مسلم، الصحیح، کتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ، بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ،حدیث2891
  36. ^ ابوداؤد، السنن، كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ، بَابُ ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلَائِلِهَا، الرقم : 4252
  37. ^ بخاری، الصحیح، کتاب الفتن، باب خروج النار، الرقم : 7121
  38. ^ معارف القرآن ج 3ص 348‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی‘ 1397 ھ
  39. ^ (معارف القرآن ج 3ص 350‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی‘ 1397 ھ
  40. ^ (الصمصام‘ ص 7۔ 6‘ مطبوعہ الایمان پریس لاہور‘ 1412 ھ
  41. ^ (الملفوظ‘ ج 1 ص46‘ مطبوعہ نوری کتب خانہ‘ لاہور
  42. ^ تبیان القرآن غلام رسول سعیدی الانعام59صفحہ 499 تا 501 فرید بک سٹال لاہور
  43. ^ معارف القرآن مفتی محمد شفیع جلد ہفتم صفحہ 54 سورۃ لقمان آیت 34 مکتبہ معارف القرآن کراچی
  44. ^ معارف القرآن مفتی محمد شفیع جلد ہفتم صفحہ 796 سورۃ الاحقاف آیت 10 مکتبہ معارف القرآن کراچی
  45. ^ الجامع لأحكام القرآن۔تفسير القرطبي المؤلف: أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فرح الأنصاري الخزرجي شمس الدين القرطبي، 7
  46. ^ الكتاب: مفاتيح الغيب التفسير الكبير المؤلف: أبو عبد الله محمد بن عمر بن الحسن بن الحسين التيمي الرازي الملقب بفخر الدين الرازي خطيب الري
  47. ^ الكتاب: مفاتيح الغيب التفسير الكبير المؤلف: أبو عبد الله محمد بن عمر بن الحسن بن الحسين التيمي الرازي الملقب بفخر الدين الرازي خطيب الري
  48. ^ النمل : 65روح المعانی ج 1ص 114‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی‘ بیروت
  49. ^ روح المعانی ج 1 ص 20‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی‘ بیروت
  50. ^ تبیان القرآن،غلام رسول سعیدی سورہ البقرہ آیت 4
  51. ^ تبیان القرآن ،غلام رسول سعیدی،سورہ البقرہ آیت154
  52. ^ تفسیرمعارف القرآن مفتی شفیع سورہ الانعام59
  53. ^ تفسیر احسن التفاسیر ۔ حافظ محمد سید احمد حسن الانعام59
  54. ^ فتاوی حدیثیہ ص 268، مطبوعہ مطبعہ مصطفی البابی واولادہ بمصر، 1356 ھ
  55. ^ فتاوی الامام النووی ص 173، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت