علیم شکیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علیم شکیل مصطفے آباد ضلع قصور کی ایک خاص شخصیت تھے لیکن زندگی ایک عام آدمی کیطرح گزاری وہ پریس کلب مصطفے آباد کے صدر بھی تھے اور مختلف اخبارات کیلئے لکھتے بھی رہے، انکی پنجابی میں کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔وہ بابائے صحافت قصور کے نام سے مشہور ہیں۔

اسکے علاوہ علیم شکیل انڈیا میں بعض پنجابی مشاعروں میں شرکت کر چکے، پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں علیم شکیل کے قاری موجود تھے، وہ صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین دوست اور زبردست انسان تھے۔

علیم شکیل کچھ عرصہ سے علیل تھے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں زیر علاج رہنے کے بعد ان کو حالت بگڑنے پر جنرل ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ 16 جولائی 2020ء کو خالق حقیقی سے جا ملے، ان کی صحافتی خدمات نئے صحافیوں کے لئے مشعل راہ ہیں انہوں نے پنجابی زبان میں کئی مشاعرے کئے اور غزلوں و شعروں کے مجموعے پر کتب بھی شائع کیں، "جاگن ساڈے نین" ان کا پنجابی شعری مجموعہ ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]