علی بدیش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علی بدیش
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1957 (عمر 61–62 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر

علی بابا بدیش (پیدائش کا سال 1957ء)[1] بحرین میں بدنام بھارتی جابر اور بھارتی زیر زمین دنیا کا ڈان تھا۔ اسی کی دہائی میں ممبئی بھارتی پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے کے خوف سے بدیش بحرین بھاگ گیا جہاں اس نے منامہ کے مرکزی شہر میں اپنی سرگرمیوں کے لیے نیا اڈا تشکیل دیا۔[2]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

بدیش کی ابتدائی زندگی اور اس کے پس منظر کے بارے میں تفصیلات نہیں ملتیں۔ بھارتی والدہ اور عرب والد کے گھر پیدا ہونے والے بدیش نے زیر زمین دنیا میں قدم رکھنے کا آغاز جیب تراشی اور چھوٹی موٹی غنڈہ گردی سے کیا۔ شہر کے شمال مشرقی مضافات میں واقع علاقے وکھرولی کی پولیس نے اس کے خلاف حملہ کرنے کا مقدمہ درج کیا۔[2] تاہم چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود کہا جاتا ہے کہ بدیش نے پونے کے قریب ایک بورڈنگ اسکول میں تعلیم بھی حاصل کی۔[3]

داؤد ابراہیم سے ملاقات[ترمیم]

پنکھیش بابا کے مقبرے کے قریب خستہ حال محلے میں رہائش کے دوران میں بدیش کی ملاقات داؤد ابراہیم گینگ کے چند افراد سے ہوئی جو پولیس کے خوف سے بھاگے ہوئے اور وکھرولی پارک سائٹ ایریا کے نواحی بستی کی بھول بھلیوں میں چھپنے کی جگہ تلاشتے پھر رہے تھے۔ بدیش نے ان افراد کو پناہ گاہ فراہم کی جس کا صلہ اسے جلد ہی دبئی جانے پر داؤد ابراہیم سے ملاقات کی صورت میں مل گیا جو ڈی کمپنی کا سربراہ اور بھارت کا سب سے مطلوب مفرور شخص تھا۔[2]

گینگ کا سربراہ[ترمیم]

بعد میں بدیش داؤد ابراہیم کی ڈی کمپنی سے الگ ہو گیا اور اس کے کاروبار کے مختلف شعبوں سے متعلق کاموں سے منسلک ہو گیا جیسے کچھ اسمگلروں کے ساتھ اس کے تعلقات استوار ہو گئے جن میں شعیب خان، عرفان ھوگا اور اعجاز پٹھان شامل ہیں۔ اس نے اپنا ایک علاحدہ گینگ بنایا جس کا ہیڈکوارٹر بحرین میں قائم کیا۔[4] وہ داؤد ابراہیم کے کچھ دشمنوں سے ملا اور انہیں اس کے خلاف اقدامات کرنے کے سلسلے میں رہنمائی کرتا رہا۔ یہ خوفزدہ گینگسٹر ورار-ورار سے سبھاش سنگھ ٹھاکر تھاجوکہ حال ہی میں نیو دہلی کی تہار سینٹرل جیل میں قید کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا ایک سابق ساتھی دلاور خان بھی بدیش کا دست راست بن گیا۔ اس طرح ان لوگوں کے اتحاد نے ابراہیم کے زوال پزیر راج کو بڑا نقصان پہنچایا اور ابرہیم کے لیے پریشانی کا سامان کیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]