علی بن جعد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علی بن جعد
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 750  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 845 (94–95 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

علی بن جَعد بن عبید، کنیت: ابو الحسن تھی، نسبت: بغدادی جوہری ہے، اپنے زمانہ میں حدیث کے امام اور حافظ تھے، حجت مانے جاتے تھے،[1] بغداد کے مسند (حدیث میں سند) شمار ہوتے تھے، بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام تھے، پیدائش سنہ 134ہجری میں ہوئی۔

ثقاہت ائمہ کی نظر میں[ترمیم]

  • علامہ ذہبی کہتے ہیں: «علی بن جعد بغدادی جوہری امام، حافظ ارد حجت تھے، بغداد میں سند تھے»[2].
  • محمد بن حماد کہتے ہیں: «ثقہ اور سچے راوی ہیں»[3]
  • نسائی کہتے ہیں: «سچے راوی ہیں»[4].
  • ابو حاتم کہتے ہیں: «حافظہ انتہائی کمال کا تھا، سچے راوی تھے، میں نے کسی محدث کو نہیں دیکھا کہ لفظ بلفظ حدیث کو یاد کر کے بنا کسی غلطی بیان کر دے سوائے علی بن جعد کے»[5].
  • ابن عدی کہتے ہیں: «میں ان سے بیان کردہ ثقہ راوی سے روایات میں کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی، امام بخاری اپنی سخت شرائط کے باوجود ان سے اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں»[6].

شیعیت[ترمیم]

ابن حجر کہتے ہیں: «ثقہ اور معتبر راوی ہیں، ان پر شیعیت کا الزام ہے»[7]۔ ابن قتیبہ نے شیعہ شمار کیا ہے،[8]۔ جوزجانی کہتے ہیں: «علی بن جعد بدعت کے علاوہ چیزوں کو لازم پکڑتے تھے، حق سے منحرف تھے»[9]۔

طبقہ اور روات[ترمیم]

ابن حجر نے نویں طبقہ کے صغار میں شمار کیا ہے۔[7]۔

مزی نے کہا ہے کہ مندرجہ ذیل حضرات سے روایات بیان کی ہے۔ ابراہیم بن سعد ، اسرائیل بن یونس ، اسماعیل بن عیاش ، ایوب بن عتبہ الیمامی ، بحر بن کنیز السقاء ، جریر بن حازم ، جسر بن الحسن ، حریز بن عثمان الرحبی ، حسن بن صالح بن حی ، حسین بن زید العلوی ، حماد بن زید ، حماد بن سلمہ ، ربیع بن صبیح ، زہیر بن معاویہ ، سفیان الثوری ، سفیان بن عیینہ ، سلیمان بن المغیرہ ، وسلام بن مسکین ، شریک بن عبد اللہ ، شعبہ بن الحجاج ، شیبان بن عبد الرحمن ، صخر بن جویریہ ، صدقہ بن موسى الدقیقی ، عاصم ابن محمد بن زید العمری ، ابو مسعود عبد الاعلى بن ابی المساور ، عبد الحمید ابن بہرام ، عبد الرحمن بن ابی بکر الملیکی ، عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان اور عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار۔

اساتذہ[ترمیم]

شعبہ ، ابن ابی ذئب ، حریز بن عثمان (صغار تابعین میں سے)، جریر بن حازم ، سفیان الثوری ، المسعودی ، فضیل بن مرزوق ، القاسم بن الفضل الحدانی ، عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان ، مبارک بن فضالہ ، یزید بن ابراہیم التستری ، معروف بن واصل ، ہمام بن یحیى ، بحر بن کنیز السقاء ، جسر بن الحسن، حسن بن صالح بن حی ، الحمادین ، ربیع بن صبیح ، سلیمان بن المغیرہ ، سلام بن مسکین ، شیبان النحوی ، صخر بن جویریہ ، عاصم بن محمد العمری ، عبد الحمید بن بہرام ، عبد العزیز بن الماجشون ، مالک بن انس ، علی بن علی الرفاعی ، قیس بن الربیع ، محمد بن راشد ، محمد بن طلحہ بن مصرف ، محمد بن مطرف ، ورقاء بن عمر ، ابو الاشہب العطاردی ، ابو عقیل یحیى بن المتوکل اور دوسرے محدثین علما سے سماعت کی۔

تلامذہ[ترمیم]

امام بخاری ، ابو داود ، یحیى بن معین ، خلف بن سالم، احمد بن حنبل ، احمد بن ابراہیم الدورقى ، الزعفرانی ، ابو حاتم ، ابو زرعہ ، ابراہیم الحربی ، ابو بكر الصاغانی ، ابن ابی الدنیا ، احمد بن علی بن سعید المروزی ، احمد بن محمد بن خالد البراثی ، موسى بن ہارون ، احمد بن یحیى الحلوانی ، صالح بن محمد جزرہ ، عمر بن اسماعیل بن ابی غیلان ، محمد بن عبدوس بن كامل ، محمد بن یحیى المروزی ، ابو یعلى الموصلی ، ابو القاسم البغوی ، احمد بن حسین بن اسحاق الصوفی اور دوسرے ائمہ و علما اور محدثین نے آپ سے علم و حدیث لیا۔

محمد بن عبد اللہ بن یوسف مہری کہتے ہیں: ہم سے ابو بکر بن ابو ایوب نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انھوں نے کہا کہ میں نے علی بن جعد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: میں نے اعمش کو دیکھا ہے لیکن ان سے کچھ لکھ نہیں سکا۔

موسی بن حسن صقلی کہتے ہیں: ہم علی بن جعد نے کہا: میں بصرہ سنہ 156 میں آیا اور سعید بن ابو عروبہ باحیات تھے۔

نفطویہ کہتے ہیں: علی بن جعد کی بغداد سے عمر میں دس سال بڑے ہیں اور ابو القاسم بغوی سامرا سے چھ سال بڑے ہیں۔

ابن ابی الدنیا کہتے ہیں: مجھے موسی بن داؤد کے واسطے سے خبر ہوئی ہے کہ انھوں نے فرمایا: میں نے علی بن جعد سے زیادہ ذہین اور یاد کرنے والا نہیں پایا، ہم لوگ ابن ابی الذئب کے پاس تھے انھوں نے ہم سے بیس حدیثیں بیان کی، انھوں نے (علی بن جعد) ان سب کو یاد کر لیا اور ہمیں املا کرایا۔

عبد الخالق بن منصور کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے علی بن جعد سے تیس سال سے زیادہ ان سے احادیث لکھا ہے۔ اس بات کو انھوں نے سنہ 225 میں کہا ہے۔

بغوی کہتے ہیں: میں نے علی بن جعد کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے سفیان ابن عینیہ سے سنہ 160 میں کوفہ میں املا کیا ہے، انھوں نے ایک صحیفہ سے ہمیں املا کرایا تھا۔

وفات[ترمیم]

علی بن جعد نے 26 رجب سنہ 230ہجری میں وفات پائی، وفات کے وقت ان کی عمر 96 سال تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. 1 ـ ظفر احمد عثمانی تھانوی کہتے ہیں: حجت جسے تین لاکھ احادیث یاد ہوں، بحوالہ: قواعد في علوم الحديث : 29.
  2. 2 ـ سير أعلام النبلاء : 10 / 459 الرقم 152.
  3. 3 ـ تاريخ بغداد : 11 / 365.
  4. 4 ـ تهذيب الكمال : 20 / 350.
  5. 5 ـ الجرح والتعديل : 6 / 178 الرقم 974.
  6. 6 ـ الكامل : 5 / 1857.
  7. ^ ا ب تقريب التهذيب : 2 / 33 الرقم 303.
  8. 2 ـ المعارف : 624.
  9. 3 ـ تهذيب الكمال : 20 / 346.یہ بات محل نظر ہے، ورنہ امام بخاری جیسا محدث ایسے شخص سے کیونکر بارہ حدیثیں بیان کرے گا تو حق سے منحرف ہوگا۔ واللہ اعلم۔