علی بن عمر دارقطنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علی بن عمر دارقطنی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 918  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 995 (76–77 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
قابل ذکر طلبا الحاکم نیشاپوری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں سنن دار قطنی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

امام حافظ مجوِّد (306ھ385ھ \ 918ء995ء) اور شیخ الاسلام سنن دارقطنی کے مصنف اور بہت بڑے محدث تھے۔

نام[ترمیم]

ان کا نام علی بن عمر اور کنیت ابو الحسن ہے

نسب[ترمیم]

حسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن النعمان بن دینارعبد اللہ البغدادی ہے، ان کا تعلق بغداد کے محلہ دار قطن سے تھا جس کی وجہ سے انہیں الدارقطنی کہا جاتا ہے۔

اساتذہ[ترمیم]

بچپن سے ہی بڑے بڑے ائمہ کرام سے تعلیم حاصل کی جن میں ابی القاسم البغوی، یحیی بن محمد بن صاعد، ابی بکر بن ابی داود، ابی بکر النیسابوری، الحسین بن اسماعیل المحاملی، ابی العباس ابن عقدہ، اسماعیل الصفار اور دیگر شامل ہیں۔

ان کی تعریف میں بہت سے ائمہ کرام نے لکھا جن میں، الحافظ ابو عبد اللہ الحاکم، الحافظ عبد الغنی، تمام الرازی، ابو نعیم الاصبہانی، ابو بکر البرقانی، ابو عبد الرحمن السلمی، ابو حامد الاسفرایینی، قاضی ابو الطیب الطبری، حمزہ السہمی اور دیگر شامل ہیں۔

علمی سفر[ترمیم]

جوانی میں شام اور مصر گئے اور ابن حیویہ النیسابوری اور ابی الطاہر الذہلی اور دیگر سے درس لیا، وہ علل حدیث اور رجالِ حدیث کے عارف تھے، قراتیں اور ان کے انداز کے متقدمین میں سے تھے، فقہ، اختلاف اور مغازی اور ایام الناس پر بھی دسترس رکھتے تھے۔

حافظ عبد الغنی الازدی فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر سب سے بہتر دسترس رکھنے والے تین 3 ہیں: اپنے وقت میں ابن المدینی، اپنے وقت میں موسی بن ہارون اور اپنے وقت میں دارقطنی۔

تالیفات[ترمیم]

وہ کثیر التصنیف تھے، ان کی تصانیف 80 سے زائد ہیں، جن میں العلل والسنن ان کی مایہ ناز کتاب ہے، کچھ دیگر تصانیف یہ ہیں:

  • سنن دارقطنی
  • الافراد والغرائب
  • المؤتلف والمختلف فی اسماء الرجال
  • الضعفاء والمتروکون
  • الالزامات علی صحیحی البخاری ومسلم

وفات[ترمیم]

آپ 385ھ کو انتقال کر گئے اور بغداد کے قبرستان باب الدیر میں معروف الکرخی کی قبر کے نزدیک دفن ہوئے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بنام: ʻAlī ibn ʻUmar Dāraquṭnī — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/32755 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. سنن دارقطنی(فتوحات جہانگیری)جلد اول شبیر برادرزاردو بازار لاہور