مندرجات کا رخ کریں

علی بن محمد بن ولید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
علی بن محمد بن ولید
(عربی میں: علي بن محمد ابن الوليد ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1128ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 21 دسمبر 1215ء (86–87 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ داعی ،  فلسفی ،  شاعر ،  مصنف   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

علی بن محمد بن ولید قرشی جن کا لقب والدُ جمیع اور انف تھا (وفات: 612ھ / 1215ء) یمن کے مستعلوی اسماعیلی داعیوں میں پانچویں داعیِ مطلق تھے اور اسماعیلی تاویلی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ داعی الدعاہ ادریس عماد الدین قرشی کے جدِّ امجد بھی تھے۔

انھوں نے امام غزالی کی اس کتاب کے جواب میں جسے مستظہری کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس میں اسماعیلیہ پر تنقید کی گئی ہے—تقریباً بارہ سو صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب «دامغ الباطل وحتف المناضل» تصنیف کی۔ اس کے علاوہ ان کی ایک اور معروف تصنیف «ذخيرہ فی الحقيقہ» ہے، جو اسماعیلی کتب میں شمار ہوتی ہے۔ ان کی تصانیف کو ادب اور فلسفہ کے میدان میں بھی خاص اہمیت حاصل رہی ہے اور علی بن الولید اپنے عہد کے ممتاز شعرا میں بھی شمار ہوتے تھے۔[1][2]

سوانح حیات

[ترمیم]

علی بن محمد بن ولید کی پیدائش 522ھ / 1128ء میں ہوئی۔ ان کا تعلق یمن کے قریشی خاندان بنو ولید سے تھا۔ انھوں نے 584ھ / 1188ء سے داعیِ مطلق طيبی چہارم علی بن حاتم حامدی کے ماتحت ماذون کے طور پر خدمات انجام دیں، یہاں تک کہ 605ھ / 1209ء میں علی بن حاتم کے بعد وہ خود پانچویں داعیِ مطلق مقرر ہوئے اور وفات تک اسی منصب پر فائز رہے۔

انھوں نے صنعاء کو اپنا مرکز بنایا اور ہمدانی قبائل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھے، جو یمن میں مستعلوی طيبی دعوت کے حامی تھے۔ علی بن الولید نے متعدد کتابیں تصنیف کیں جو اسماعیلی عقائد کو سمجھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا انتقال 612ھ / 1215ء میں صنعاء میں ہوا۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً نوّے برس تھی۔ ان کے بعد طيبی اسماعیلیوں میں داعیِ مطلق کا منصب تقریباً تین صدیوں تک انہی کی نسل میں محدود رہا۔[3]

تصانیف

[ترمیم]
  • دفع الباطل یا دامغ الباطل: دو جلدوں پر مشتمل ایک مفصل تردیدی کتاب، جو امام ابو حامد محمد الغزالی کی اس جدلی تصنیف کے رد میں لکھی گئی جو اسماعیلیہ کے خلاف تھی (تقریباً 488ھ / 1095ء)۔ یہ کتاب یمن میں تصنیف کی گئی اور بعد میں مصطفیٰ غالب کی تحقیق کے ساتھ شائع ہوئی۔
  • الذخيرة في الحقيقة: اسماعیلیہ کے ہاں شمار ہونے والی باطنی/سری کتب میں سے۔
  • مختصر الأصول وزبدة المحصول
  • الرسالة المفيدة في إيضاح ملغز القصيدة
  • تاج العقائد ومعدن الفوائد
  • رسالة ملحقة الأذهان ومنبهة الوسنان [4]
  • تاج العقائد ومعدن الفوائد.[5]
  • رسالة ملحقة الأذهان ومنبهة الوسنان.[6]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. خير الدين الزركلي (2002)۔ الأعلام - ج 4۔ لبنان: دار العلم للملايين۔ ص 331
  2. جورج طرابيشي (2006)۔ معجم الفلاسفة (الثالثة ایڈیشن)۔ بيروت، لبنان: دار الطليعة۔ ص 36
  3. فرهاد دفتري (2016)۔ معجم التاريخ الإسماعيلي۔ ترجمہ از سيف الدين القصير (الأولى ایڈیشن)۔ بيروت، لبنان: دار الساقي۔ ص 74 و 114۔ 15 ديسمبر 2019 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  4. ʿAlī ibn Muḥammad (2019)۔ الرسالة المفيدة في إيضاح ملغز القصيدة : شرح قصيدة ابن سينا في النفس (بزبان عربی)۔ تموز للطباعة والنشر والتوزيع (دمشق)۔ ISBN:978-9933-616-64-9۔ 5 يناير 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  5. علي بن محمد بن (2010)۔ كتاب تاج العقائد ومعدن الفوائد (بزبان عربی)۔ Dār al-Ghadīr۔ 5 يناير 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  6. ʿAlī ibn Muḥammad۔ رسالة ملقحة الأذهان ومنبهة الوسنان (بزبان عربی)۔ 5 يناير 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)