علی بن مدینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علی بن مدینی
Ali ibn al-Madini.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 778[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بصرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 848 (69–70 سال) اور سنہ 849 (70–71 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سامراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
عملی زندگی
استاذ حماد بن زید،  وسفیان بن عیینہ،  ويحيىٰ القطان،  وعبد الرحمن بن مہدی،  وابوداؤد طیالسی،  وابن علیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص محمد بن اسماعیل بخاری،  واحمد بن حنبل،  وابو داؤد،  وابو حاتم رازی،  وابویعلیٰ الموصلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث،  وفقیہ،  ومؤرخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل علم حدیث،  وفقہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابو الحسن علی بن عبد اللہ بن جعفر بن نجیح بن بکر بن سعد (پیدائش: 778ء— وفات: جون 849ء) کا شمار زمرہ تبع تابعین کے محدثین میں ہوتا ہے، انہیں جرح و تعدیل کا امام سمجھا جاتا ہے۔ گویا وہ عمر میں چھوٹے تھے مگر علم و فضل کے وجہ سے ان کا شمار اکابر محدثین میں ہوتا تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ابو الحسن کنیت اور علی نام تھا۔ ان کا خانوادہ بنو سعد کے ایک شخص عطیۃ السعد کا غلام تھا۔ آبائی وطن مدینہ المنورہ تھا۔ اس نسبت سے مدینی مشہور ہیں۔ بعد میں خاندان بصرہ میں آباد ہو گیا تھا۔ یہیں 161ھ میں ان کی ولادت ہوئی اور وہیں ان کی نشو و نما اور ابتدائی تعلیم کا آغاز ہوا۔ ان کے والد اور دادا دونوں صاحب علم و فضل تھے۔ ان کے والد کے بارے میں تو خطیب بغدادی نے لکھا ہے کہ وہ مشہور محدث تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم تو انہی کی آغوش تربیت میں ہوئی۔ بعض واقعات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اختتام تعلیم سے پہلے ہی ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔ چنانچہ جب انہوں نے سماع حدیث کے لیے یمن کا سفر کیا تو اس وقت ان کے اخراجات کی ساری ذمہ داری ان کی والدہ کے سر تھی۔

طلب علم[ترمیم]

انہوں نے طلبِ علم کے شوق میں دور دور کی خاک چھانی تھی۔ مکہ، مدینہ، بغداد، کوفہ، عرض ممالک اسلامیہ کے ہر مشہور مقام تک طلب علم کے لیے گئے۔ خصوصیت سے یمن میں وہ تین سال تک مقیم رہے۔ علم حدیث میں ان کو فطری لگاؤ بھی تھا اور وراثتاً بھی یہ علم ان کے حصہ میں آ گیا۔ اس لیے ان کے علم کا سارا جوہر اس فن میں کھلا۔ سماع حدیث کے لیے جس وقت انہوں نے یمن کا سفر کیا تھا، اس وقت یہ مبتدی تھے، بلکہ اپنے حفظ و سماع سے حدیث کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ پاس جمع کر چکے تھے۔ خود بیان کرتے ہیں کہ میں نے سلسلہ سفر کے اعتبار سے ایک سند جمع کی تھی۔ میں جب یمن جانے لگا تو اس کو بحفاظت ایک صندوق میں بند کرتا گیا، لیکن تین برس کے بعد واپس ہوا تو یہ سارا ذخیرہ مٹی کا ڈھیر ہو چکا تھا۔ مجھ پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ پھر دوبارہ اس کے جمع کرنے کی ہمت نہ کر سکا۔[2] والد کے انتقال کے بعد گھر کا کوئی نگران نہیں تھا۔ صرف ان کی والدہ تنہا تھیں۔ ان کے قیام یمن کے زمانہ میں ان کو نہ جانے کتنی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ہوگا، مگر ان کی والدہ نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان تکالیف کی اطلاع دے کر اپنے بیٹے کے سمندِ شوق کی راہ میں روڑہ ڈالیں، بلکہ جن لوگوں نے اس کا مشہور دیا ان کو ان کی والدہ نے اپنے لڑکے کا دشمن سمجھا۔[3] ان کے علمی شغف کا یہ حال تھا کہ رات کو سوتے سوتے کوئی حدیث یاد آ گئی یا کوئی شبہ ہوا تو فوراً لونڈی سے کہتے کہ چراغ جلا۔ چراغ چل جاتا اور جب وہ اپنی تسکین کر لیتے تب جا کر پھر ان کو نیند آتی تھی۔[3]

اساتذہ[ترمیم]

جن اساتذہ سے انہوں نے کسب فیض کیا تھا، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ چند مشاہیر کے نام یہ ہیں۔ ان کے والد عبد اللہ بن جعفر مدینی، حماد بن زید، سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید القطان، عبد الرحمن بن مہدی، ابو داؤد طیالسی، ابن علیہ، سعید بن عامر الضبعی وغیرہ۔

علم و فضل[ترمیم]

ان کے علم و فضل کا ہر کہ دمہ کو اعتراف تھا۔ یحییٰ بن سعید القطان ان کے اساتذہ میں تھے، مگر وہ کہا کرتے تھے کہ علی بن المدینی جتنا مجھ سے استفادہ کیا وہ اس سے کہیں زیادہ میں نے ان سے استفادہ کیا۔[4] اسی طرح مشہور محدث اور ان کے شیخ ابن مہدی کہا کرتے تھے کہ میں نے احادیث نبوی کا اتنا جاننے والا نہیں دیکھا۔[4] سفیان بن عیینہ کے یہ خاص اور محبوب تلامذہ میں تھے۔ بعض لوگوں کو ابن المدینی کے ساتھ ان کی نسبت و محبت ناگوار گزرتی تھی۔ ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے لوگ علی کی محبت پر ملامت کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! انہوں نے مجھ سے جتنا کسب فیض کیا ہے، اس سے کچھ زیادہ میں نے ان سے استفادہ کیا ہے۔[5] سفیان بن عیینہ ان کو حدیث کا مرجع و ماویٰ کہتے تھے۔ کہتے تھے کہ اگر ابن المدینی نہ ہوتے تو میں درس بند کر دیتا۔ احمد بن حنبل ان کا اتنا احترام کرتے تھے کہ ادب سے ان کا نام نہیں لیتے تھے، بلکہ ہمیشہ ان کی کنیت ہی سے ان کو مخاطب کرتے تھے۔[5] محمد بن اسماعیل بخاری ان کے تلامذہ میں ہیں۔ ان کا قول ہے کہ علی بن المدینی کے علاوہ کسی کے سامنے اپنے کو حقیر نہیں سمجھا۔[6] ان کے انتقال کے بعد کسی نے امام بخاری سے پوچھا کہ آپ کے دل میں کوئی خواہش باقی ہے؟ ایک خواہش ہے، وہ یہ ہے کہ ابن المدینی زندہ ہوتے اور عراق جا کر ان کی صحبت میں بیٹھتا۔[4] ابن ماجہ اور نسائی نے ان سے بالواسطہ روایتیں کی ہیں۔ امام نسائی کہتے تھے کہ اللہ نے ان کو علم حدیث ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔[4]

تصانیف[ترمیم]

وہ ان ائمہ تبع تابعین میں ہیں، جنہوں نے اپنی تحریری یادگاریں بھی چھوڑی ہیں۔ یحییٰ بن شرف نووی نے لکھا ہے کہ حدیث میں دو سو ایسی تصنیفیں چھوڑی ہیں، جس کی مثال ان سے پہلے نہیں ملتی۔ مگر ان میں بیشتر ضائع ہو گئیں۔ ابن حجر عسقلانی نے صرف اتنا لکھا کہ وہ صاحب تصانیف ہیں۔ ابن ندیم نے ان کی چند تصانیف کے نام گنائے ہیں: کتاب المسند بعللہ، کتاب المدلسلین، کتاب الضعفاء، کتاب العلل، کتاب الاسماء و الکنی، کتاب الاشربہ، کتاب النزیل۔[7]

وفات[ترمیم]

ابن المدینی سنہ وفات اور مقام اور وفات دونوں میں اختلاف ہے۔ سنہ وفات کسی نے 232ھ لکھا، کسی نے 235ھ اور کسی نے 238ھ لکھا ہے۔ مگر خطیب بغدادی نے 234ھ کو صحیح قرار دیا ہے۔ بعض اہل تذکرہ نے لکھا ہے کہ ان کا انتقال بصرہ ہی میں ہوا مگر خطیب بغدادی اور ابن ندیم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا انتقال سامراء میں ہوا اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/280703 — بنام: ʻAlī ibn ʻAbd Allāh Ibn al-Madīnī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. تہذیب التہذیب از ابن حجر عسقلانی ج 7
  3. ^ ا ب تاریخ بغداد از خطیب بغدادی، ج 11، ص 463
  4. ^ ا ب پ ت تہذیب التہذیب از ابن حجر عسقلانی، ج 7، ص 351
  5. ^ ا ب تہذیب التہذیب از ابن حجر عسقلانی، ج 7، ص 359
  6. تہذیب التہذیب از ابن حجر عسقلانی، ج 7، ص 352
  7. کتاب الفہرست از ابن ندیم ص 322
  8. تاریخ بغداد از خطیب بغدادی، ج 11، ص 272 – 273

ماخذ[ترمیم]

  • سیر الصحابہ از مجیب اللہ ندوی، تبع تابعین (حصہ اول) جلد 8، صفحات 245 – 354، دار الاشاعت، اردو بازار ایم اے جناح روڈ کراچی پاکستان۔