مندرجات کا رخ کریں

علی بن منصور الکرمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
شیخ   ویکی ڈیٹا پر  (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
علی بن منصور الکرمی
(عربی میں: علي بن منصور الكرمي)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (عربی میں: علي بن منصور بن محمد الكرمي)  ویکی ڈیٹا پر  (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 10 مئی 1815ء [1]  ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طولکرم [2]  ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 دسمبر 1897ء (82 سال)[3]  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طولکرم   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن طولکرم [3]  ویکی ڈیٹا پر  (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت عثمانیہ   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبائی علاقہ طولکرم   ویکی ڈیٹا پر  (P66) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بالوں کا رنگ سیاہ   ویکی ڈیٹا پر  (P1884) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام [2]  ویکی ڈیٹا پر  (P140) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن مسجد امیہ   ویکی ڈیٹا پر  (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد سعید بن علی کرمی [4]  ویکی ڈیٹا پر  (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی مسجد امیہ   ویکی ڈیٹا پر  (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخصص تعلیم شریعت   ویکی ڈیٹا پر  (P812) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ حسن بن عمر شطی   ویکی ڈیٹا پر  (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ عالم ،  فقیہ ،  منصف ،  مفتی   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر  (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل حنبلی ،  اصول فقہ ،  تفسیر قرآن   ویکی ڈیٹا پر  (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر مرعی کرمی ،  احمد بن یحیی کرمی ،  محمد بن احمد سفارینی ،  مصطفی بن یوسف کرمی   ویکی ڈیٹا پر  (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

علی بن منصور الکرمی (ولادت: 10 مئی 1815ء، طولکرم - وفات: 10 دسمبر 1897ء، طولکرم) فلسطینی سائنس دان،  فقیہ،  الٰہیات دان،  منصف،  مفتی تھے۔[5] آپ سعید بن علی کرمی کے والد تھے۔

تحصیل علم

[ترمیم]

علی بن منصور الکرمی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر طولکرم میں حاصل کی، جہاں اس دور میں محدود مگر معیاری دینی و عقلی علوم کا رواج تھا۔ کم عمری ہی سے ان میں علم کے حصول کا غیر معمولی شوق پایا جاتا تھا۔ انھوں نے قرآن حفظ کیا اور فقہ، حدیث، نحو اور منطق کی تعلیم مقامی علما سے حاصل کی۔ ان کی ذہانت اور غیر معمولی استعداد کے باعث ان کے اساتذہ انھیں ایک باصلاحیت اور مستقبل کے بلند پایہ عالم کے طور پر دیکھتے تھے۔ بعد ازاں وہ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے شام اور پھر مصر گئے جہاں انھوں نے اپنے وقت کے نامور اساتذہ سے مختلف علوم پڑھے جن میں علمِ کلام، اصول فقہ، فلکیات اور ریاضی بھی شامل تھے۔

درس و تدریس

[ترمیم]

تعلیم مکمل کرنے کے بعد علی بن منصور الکرمی طولکرم واپس آئے اور تدریس، افتاء اور قضا کے فرائض انجام دینے لگے۔ انھیں جلد ہی علمی وقار، فقہی بصیرت اور عدالتی فہم و فراست کے باعث شہر کے معزز ترین علما اور انتظامیہ میں شمار کیا جانے لگا۔ بطور مفتی انھوں نے بے شمار فتوے تحریر کیے جو بعد کے علمی حلقوں میں حوالہ اور دلیل کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔ انھوں نے مقامی عدالت میں جج کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور ان کے فیصلے عدل، دیانت اور شریعت کی گہری تفہیم کی بنیاد پر مشہور رہے۔

میدان علوم سے خاص لگاؤ

[ترمیم]

الکرمی سائنس اور فلسفے کے میدان میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے دور میں سائنسی علوم عرب دنیا میں ایک نئی فکری بیداری سے گذر رہے تھے اور انھوں نے ان مباحث کا نہ صرف مطالعہ کیا بلکہ ان پر علمی گفتگو اور تدریس بھی کی۔ ان کی تحریروں میں علم و دین کے تعلق، فقہی اصولوں کی معاصر تناظر میں تطبیق، علمِ فلکیات کے دینی مباحث کے ساتھ ربط اور مختلف علمی و اجتہادی سوالات کا تجزیہ نمایاں نظر آتا ہے۔

شاگردوں کا حلقہ

[ترمیم]

ان کے شاگرد فلسطین کے مختلف علاقوں میں علمی خدمات انجام دیتے رہے اور ان کے علمی اثرات بعد کی نسلوں تک منتقل ہوئے۔ آپ کے صاحبزادے سعید بن علی کرمی بھی اپنے وقت کے جید علما میں شمار ہوتے تھے اور انھوں نے اپنے والد کے علمی ورثے کو مزید فروغ دیا۔

مجموعی زندگی اور انتقال

[ترمیم]

علی بن منصور الکرمی نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تحریر، تدریس اور خدمتِ خلق میں گزارا۔ ان کے علمی مقام اور کردار کا اعتراف نہ صرف فلسطینی علمی روایت میں کیا گیا بلکہ شام و مصر کے علمی حلقوں میں بھی انھیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ 10 دسمبر 1897ء کو آپ کا انتقال ہوا اور آپ کو طولکرم ہی میں سپردِ خاک کیا گیا جہاں آج بھی ان کی یاد علمی روایت کا حصہ ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ الشيخ علي الكرمي — اخذ شدہ بتاریخ: 30 اپریل 2021 — سے آرکائیو اصل فی 26 اپریل 2021
  2. 1 2 علي منصور الكرمي — اخذ شدہ بتاریخ: 30 اپریل 2021 — سے آرکائیو اصل فی 28 اپریل 2021
  3. 1 2 علي منصور الكرمي — اخذ شدہ بتاریخ: 30 اپریل 2021 — سے آرکائیو اصل فی 30 اپریل 2021
  4. ↑ Sa‘id al-Karmi — اخذ شدہ بتاریخ: 30 اپریل 2021 — سے آرکائیو اصل فی 30 اپریل 2021
  5. ↑ الدباغ، مصطفى مراد (1965)۔ بلادنا فلسطين، المجلد 1 (الأولى ایڈیشن)۔ دمشق، سوريا: دار الطليعة للطباعة والنشر۔ 30 أبريل 2021 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 أبريل 2021 {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |تاریخ رسائی= و|آرکائیو تاریخ= (معاونت)