علی خامنہ ای
یہ مضمون حال ہی میں وفات پانے والی شخصیت کے متعلق ہے۔ ویکیپیڈیا خبروں کا مجموعہ نہیں ہے۔ لہذا حالات و واقعات سے متعلق کچھ مزید معلومات دستیاب ہونے پر تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ . |
علی خامنہ ای | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| علی خامنهای | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
2026ء میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| دوسرے رہبر معظم ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| مدت 4 جون 1989ء[ا] – 28 فروری 2026ء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| صدر | فہرست دیکھیے
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| پیشرو | روح اللہ خمینی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| جانشین | علی رضا اعرافی (’عبوری‘)[1] | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| تیسرے صدر ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| مدت 9 اکتوبر 1981ء – 16 اگست 1989ء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| رہبر معظم |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| وزیر اعظم | میر حسین موسوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| پیشرو | محمد علی رجائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| جانشین | اکبر ہاشمی رفسنجانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ذاتی تفصیلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| پیدائش | علی حسینی خامنہ ای 19 اپریل 1939 مشہد، تہران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| وفات | فروری 28 2026ء (عمر 86 سال)[4][5] تہران، ایران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| سیاسی جماعت |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| شریک حیات | منصورہ خجستہ باقرزادہ (ش 1964ء) | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| اولاد | 6 جن میں مصطفٰی، مجتبی خامنہ ای اور مسعود شامل ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| باپ | جواد خامنہ ای | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| تعلیم |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| دستخط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ویب سائٹ | urdu | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| فوجی خدمات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| سروس/شاخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| سالہائے خدمات | 1979ء–1989ء[ب] | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| کماندز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| لڑائیاں/جنگیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| مذہب | اسلام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| فرقہ | اثنا عشری شیعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| فقہی مسلک | جعفری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| معتقدات | اصولی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| بنیادی دلچسپی | اصول فقہ، تفسیر قرآن[7] | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| قابل ذکر خیالات | جوہری ہتھیاروں کے خلاف فتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| مرتبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| استاذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
علی حسینی خامنہ ای[پ] (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے جو 1989ء سے 2026ء میں قتل ہونے تک سپریم لیڈرِ ایران کے منصب پر فائز رہے۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے والے دوسرے شخص تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدتِ اقتدار 36 سال پر محیط رہی، جس کے باعث وہ اپنی وفات کے وقت مشرق وسطیٰ کے طویل ترین عرصہ تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت اور شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد ایران کے طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے رہنما تھے۔
وہ خامنہ ای خاندان میں پیدا ہوئے اور اپنے آبائی شہر مشہد کے حوزہ میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں 1958ء میں قم منتقل ہوئے جہاں انھوں نے روح اللہ خمینی کے دروس میں شرکت کی۔ خامنہ ای ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کی مخالفت میں سرگرم ہوئے اور شاہی حکومت نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا، بعد ازاں تین برس کے لیے جلا وطن کر دیا۔ 1978ء–1979ء کے ایرانی انقلاب میں وہ ایک نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے اور انقلاب کی کامیابی کے بعد نو قائم شدہ اسلامی جمہوریہ ایران میں متعدد مناصب پر فائز رہے۔ انقلاب کے بعد وہ ایک قاتلانہ حملے کا نشانہ بھی بنے جس کے نتیجے میں ان کا دایاں بازو مفلوج ہو گیا۔ بعد کے برسوں میں بھی اسرائیل کی جانب سے ان کے خلاف قتل کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔ وہ ایران عراق جنگ کے دوران 1981ء سے 1989ء تک ایران کے تیسرے صدر رہے اور اسی عرصے میں ان کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ 1989ء میں خمینی کی وفات کے بعد مجلس خبرگان رہبری نے انھیں سپریم لیڈر منتخب کیا۔
بطور سپریم لیڈر خامنہ ای نے ایران کے جوہری پروگرام کی پر امن مقاصد کے لیے حمایت کی جبکہ فتویٰ جاری کر کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کو حرام قرار دیا۔ انھوں نے ایران میں صنعتوں کی نجکاری کی حمایت کی اور تیل و گیس کے وسائل کے ذریعے ایران کو ”توانائی کی سپر پاور“ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ان کی خارجہ پالیسی اخوانی شیعیت اور ایرانی انقلاب کو پھیلانے کے تصور کے گرد گھومتی رہی۔ خامنہ ای نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامیکی ترقی میں مرکزی کردار ادا کیا اور اسے داخلی کنٹرول اور علاقائی اثر و رسوخ کا بنیادی آلہ بنا دیا۔ ان کے دور میں ایران نے محورِ مزاحمت اتحاد کی شام کی خانہ جنگی، عراق کی جنگ، یمن کی خانہ جنگی اور غزہ جنگ میں حمایت کی نیز روس کی روس یوکرین جنگ میں بھی پشت پناہی کی۔ اسرائیل اور صہیونیت کے سخت ناقد کے طور پر انھوں نے فلسطینیوں کی اسرائیل فلسطین تنازع میں حمایت کی؛ ان کی تقاریر میں اسرائیل کی تباہی کے مطالبات اور بعض یہود مخالف نکات بھی شامل رہے۔ ان کے دور میں ایران اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ پراکسی تنازعات میں ملوث رہا؛ جبکہ 2025ء اور 2026ء میں اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ کے ساتھ کشیدگی بڑھ کر ایران اسرائیل جنگ (بارہ روزہ مسلح تنازع) اور جاری حملوں تک جا پہنچی۔
عملی سخت گیر رہنما کے طور پر پہچانے جانے والے خامنہ ای نے بائیں بازو کے دھڑوں، معتدل علما اور سیاسی مخالفین کو پس منظر میں دھکیل دیا اگرچہ بعض مواقع پر انھوں نے نظام کے استحکام یا جواز کو خطرہ لاحق ہونے پر پابندیوں میں نرمی بھی کی۔ ان کی قیادت ریاستی عسکریت پسندی کے پھیلاؤ اور دفترِ سپریم لیڈر میں اختیارات کے ارتکاز سے قریباً منسلک رہی۔ ان کے دور میں متعدد احتجاجی تحریکیں بھی ہوئیں، جن میں ایران طلبہ احتجاجات 1999ء، 2009ء کے ایرانی صدارتی انتخاب احتجاجات، 2011ء–2012ء کے ایرانی احتجاجات، 2017ء–2018ء ایرانی احتجاجات، 2018ء–2019ء کی ایرانی عام ہڑتالیں و احتجاجات، 2019ء–2020ء کے ایرانی احتجاجات، مہسا امینی کی موت پر مظاہرے اور 2025ء–2026ء کے ایرانی احتجاجات شامل ہیں۔ ایران میں صحافیوں، بلاگروں اور دیگر افراد پر سپریم لیڈر کی توہین کے الزامات میں مقدمات چلائے گئے، جو اکثر توہین مذہب کے مقدمات کے ساتھ ہوتے تھے۔ ان سزاؤں میں کوڑے اور قید شامل تھے جبکہ بعض افراد حراست میں ہلاک بھی ہوئے۔ وہ آیت اللہ کے لقب سے بھی معروف تھے اور دنیا کے نمایاں شیعہ مرجع میں شمار کیے جاتے تھے۔ ناقدین کے نزدیک وہ ایک جابر حکمراں تھے جو سیاسی جبر، اجتماعی قتل اور دیگر نا انصافیوں کے ذمہ دار تھے۔
28 فروری 2026ء کو ایران پر اسرائیل امریکا مشترکہ حملوں کے دوران ایک فضائی حملے میں وہ ہلاک ہو گئے۔[8]
ابتدائی زندگی اور تعلیم
[ترمیم]
سید علی حسینی خامنہ ای 19 اپریل 1939ء[9][10][11] کو جواد خامنہ ای کے ہاں پیدا ہوئے جو خود عالم دین اور مجتہد تھے اور نجف، عراق میں پیدا ہوئے تھے[7] جبکہ والدہ خدیجہ میردامادی، ہاشم میردامادی کی دختر تھیں، مشہد میں پیدا ہوئیں۔ وہ آٹھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔[12][13][14] ان کے دو بھائی بھی عالم دین ہیں؛ چھوٹے بھائی ہادی خامنہ ای مدیرِ اخبار اور عالم ہیں۔[15] بڑی بہن فاطمہ حسینی خامنہ ای 2015ء میں 89 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔[16] والد خامنہ کے آذری ترک نسلی پس منظر کے حامل تھے جبکہ والدہ فارسی نسل سے تھیں۔[17][18][19][20] ان کے کچھ آبا و اجداد تفرش کے رہائشی تھے جو آج کے صوبہ مرکزی میں واقع ہے اور بعد میں اپنے اصلی گھر تفرش سے نقل مکانی کر کے تبریز کے قریب خامنہ منتقل ہو گئے۔[21][22][23]
سید علی خامنہ ای کے آبا و اجداد میں سید حسین تفرشی شامل ہیں، جو ساداتِ افطسی سے تھے اور جن کا سلسلہ سلطان العلماء احمد المعروف سلطان سید، چوتھے شیعہ امام علی السجاد کے پوتے تک پہنچتا تھا۔[7] خامنہ ای کی تعلیم چار سال کی عمر میں مکتب میں قرآن حفظ سے شروع ہوئی۔[7] انھوں نے ابتدائی اور اعلیٰ سطح کی تعلیم مشہد کے حوزے میں حاصل کی جہاں انھوں نے شیخ ہاشم قزوینی اور آیت اللہ میلانی کے زیرِ نگرانی پڑھا۔[24]
مشہد میں وہ سیکولر دانشوروں کے حلقوں میں بھی شامل ہوتے اور نهضت خداپرستان سوسیالیست (خدا پرست سوشلسٹوں کی تحریک) کے اجلاس و تقریروں میں شریک رہتے، یہ سیاسی تنظیم اسلامی اشتراکیت کی حامی تھی اور اس پر کارل مارکس، چی گویرا، ٹیٹو اور علی شریعتی کے نظریات اثر انداز تھے؛ عباس میلانی کے مطابق یہ تجربات خامنہ ای کے بعد کے تھرڈ ورلڈ ازم نظریات پر اثر ڈالے۔[24] 1957ء میں وہ نجف گئے[25] مگر والد کی مخالفت کے سبب جلد واپس مشہد لوٹ آئے۔ 1958ء میں قم میں مقیم ہوئے جہاں انھوں نے حسین بروجردی اور روح اللہ خمینی کے دروس میں شرکت کی۔[7] اس وقت کے دوسرے سیاسی طور پر فعال علما کی طرح خامنہ ای مذہبی تعلیم کے ساتھ سیاست میں بھی بہت فعال رہے۔[26]
ابتدائی سیاسی دور (1960ء کی دہائی تا 1981ء)
[ترمیم]
ان کی سرکاری ویب گاہ کے مطابق خامنہ ای کو محمد رضا پہلوی کے دور حکومت میں چھ مرتبہ گرفتار کیا گیا اور تین سال کے لیے جلاوطن کیا گیا۔[27] وہ انقلاب ایران کے کلیدی رہنما اور روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھی تھے۔ اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد خامنہ ای نے متعدد سرکاری عہدے سنبھالے۔[12] وہ 14 اپریل 1979ء سے آستان قدس رضوی کے خادمین کے رئیس کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔[28]
محمد سہیمی کے مطابق ان کا سیاسی سفر انقلاب ایران کے بعد شروع ہوا اس وقت جب ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے انھیں خمینی کے قریبی حلقے میں شامل کیا۔ بعد میں حسن روحانی نے انھیں عبوری انقلابی حکومت میں نائب وزیر دفاع کے طور پر پہلا اہم عہدہ دلایا۔[29]
1980ء میں حسین علی منتظری کے استعفا کے بعد خمینی نے علی خامنہ ای کو تہران میں امامِ جمعہ مقرر کیا۔ خامنہ ای مختصر مدت کے لیے 1979ء کے جولائی کے آخر سے 6 نومبر تک نائب وزیر دفاع رہے[30] اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نگران بھی تھے۔ وہ ایرانی پارلیمان کی دفاعی کمیٹی کے نمائندے کے طور پر محاذ جنگ پر بھی موجود رہے۔[7]
1981ء میں قاتلانہ حملہ
[ترمیم]
خامنہ ای مجاہدین خلق کے ایک بم حملے میں بال بال بچ گئے، جب ایک ٹیپ ریکارڈر میں چھپایا ہوا بم ان کے قریب پھٹا۔[31] 27 جون 1981ء کو[32] جب خامنہ ای محاذ جنگ سے واپس آئے، وہ اپنی ہفتہ وار عادت کے مطابق ابو ذر مسجد گئے۔ پہلی نماز کے بعد انھوں نے نمازیوں کے سوالات کے جوابات دیے جو کاغذ پر لکھے گئے تھے۔[33]
اس دوران ایک نوجوان نے ٹیپ ریکارڈر اور کچھ کاغذات میز پر رکھ کر بٹن دبایا۔ ایک منٹ بعد ریکارڈر سے سیٹی کی آواز آئی اور پھر اچانک دھماکا ہوا۔[33] ٹیپ ریکارڈر کے اندر لکھا تھا: ”اسلامی جمہوریہ کے لیے فرقان گروپ کا تحفہ“۔[34][35]
خامنہ ای کا علاج کئی ماہ جاری رہا اور ان کا بازو، آواز کی ڈوریاں اور پھیپھڑے شدید زخمی ہوئے۔[36] وہ مستقل طور پر زخمی ہوئے اور اپنے دائیں بازو کا استعمال کھو دیا۔[31][37]
عہدِ صدارت (1981ء–1989ء)
[ترمیم]
1981ء میں محمد علی رجائی کے قتل کے بعد خامنہ ای کو صدرِ ایران منتخب کیا گیا۔ اکتوبر 1981ء کے صدارتی انتخاب میں انھیں بھاری اکثریت (97 فیصد) سے کامیابی ملی، جس میں صرف چار امیدواروں کو شورائے نگہبان نے منظوری دی تھی۔ خامنہ ای اس منصب پر فائز ہونے والے پہلے عالم دین بنے۔ ابتدا میں روح اللہ خمینی علما کو صدارت سے دور رکھنا چاہتے تھے مگر بعد میں انھوں نے اپنا موقف بدل لیا۔ 1985ء کے صدارتی انتخاب میں جہاں صرف تین امیدواروں کو شورائے نگہبان نے منظور کیا، علی خامنہ ای دوبارہ صدرِ ایران منتخب ہوئے اور انھوں نے 87 فیصد ووٹ حاصل کیے۔[حوالہ درکار]
اپنے حلفِ صدارت کی تقریر میں خامنہ ای نے ”انحراف، لبرل ازم اور امریکی اثر یافتہ بائیں بازو“ کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا۔[39] ایران چیمبر کے مطابق حکومت کے خلاف سخت مزاحمت (جس میں پُر امن و پُر تشدد احتجاج، ٹارگٹ کلنگ، گوریلا سرگرمیاں اور بغاوتیں شامل تھیں) کا جواب 1980ء کی دہائی کے اوائل میں ریاستی جبر اور دہشت کے ذریعے دیا گیا، جو خامنہ ای کی صدارت سے پہلے اور اس کے دوران جاری رہا۔ باغی گروہوں کے ہزاروں کارکن اکثر انقلابی عدالتوں کے ذریعے ہلاک کیے گئے۔ 1982ء تک حکومت نے اعلان کیا کہ عدالتوں کو محدود کیا جائے گا تاہم 1980ء کی دہائی کے پہلے نصف میں مختلف سیاسی گروہوں کے خلاف حکومتی کارروائیاں جاری رہیں۔[40]
ایران عراق جنگ میں
[ترمیم]
خامنہ ای 1980ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران ایران کے اہم رہنماؤں میں شامل تھے اور انھوں نے طاقتور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے۔ سپاہِ پاسداران کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپوزیشن کو دبانے کے لیے تعینات کیا گیا۔[41][42] صدر کے طور پر ان کی شہرت ایسے رہنما کی تھی جو عسکری، بجٹ اور انتظامی تفصیلات میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔[31]
1982ء میں جب عراقی فوج کو ایران سے نکال دیا گیا تو خامنہ ای ان نمایاں مخالفین میں شامل تھے جنھوں نے عراق کے اندر جوابی حملہ جاری رکھنے کے فیصلے کی مخالفت کی۔ اس معاملے میں ان کی رائے وزیر اعظم میر حسین موسوی سے ملتی تھی، جن سے بعد میں 2009ء کے صدارتی انتخاب کے احتجاج کے دوران ان کا اختلاف ہوا۔[43]
بعد از جنگ
[ترمیم]
10 اپریل 1997ء کو میکونوس ریستوران قتل سے متعلق اپنے فیصلے میں جرمن عدالت نے ایرانی انٹیلیجنس وزیر علی فلاحیان کے خلاف بین الاقوامی پروانۂ گرفتاری جاری کیا،[44] کیونکہ عدالت کے مطابق یہ قتل ان کے حکم پر خامنہ ای اور رفسنجانی کے علم میں ہونے کے باوجود کیا گیا تھا۔[45] ایرانی حکام نے اس میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی۔ اس وقت کے ایرانی اسپیکرِ پارلیمان علی اکبر ناطق نوری نے اس فیصلے کو سیاسی، غلط اور بے بنیاد قرار دیا۔ یہ فیصلہ ایران اور کئی یورپی ممالک کے درمیان سفارتی بحران کا سبب بنا، جو نومبر 1997ء تک جاری رہا۔[46] نامزد قاتلوں کاظم دارابی اور عباس راحیل کو 10 دسمبر 2007ء کو جیل سے رہا کر کے ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا۔[47][48]
سپریم لیڈر (1989ء تا 2026ء)
[ترمیم]سپریم لیڈر کے طور پر انتخاب
[ترمیم]1989 میں خمینی نے منتظری کو اپنے سیاسی جانشین کے طور پر برطرف کیا اور یہ عہدہ خامنہ ای کو دیا۔ چونکہ خامنہ ای نہ تو مرجع تقلید تھے اور نہ آیت اللہ، اس لیے مجلس خبرگان رہبری کو آئین میں ترمیم کرنی پڑی تاکہ انھیں ایران کے نئے سپریم لیڈر کا عہدہ دیا جا سکے، جس کی بعض بزرگ آیت اللہ نے مخالفت کی۔[49] خمینی کی وفات کے بعد خامنہ ای نے رسمی طور پر 4 جون 1989 کو مجلس خبرگان رہبری کے ذریعے نئے سپریم لیڈر کے طور پر انتخاب حاصل کیا.[50][51][52][53]
قتل
[ترمیم]28 فروری 2026ء کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کے سلسلے کے دوران (جو آپریشن ایپک فیوری کا حصہ تھے) ایک نامعلوم اسرائیلی عہدے دار نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای کی لاش مل گئی ہے۔[54] اس سے چند گھنٹے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان ”جہاں تک میرے علم میں ہے“ حیات ہیں۔[55] اسی روز بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر لکھا کہ خامنہ ای مارا گیا ہے۔[56] بعد ازاں ایرانی سرکاری ٹی وی نے ٹرمپ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ایران وقت کے مطابق تقریباً صبح 5 بجے ان کی وفات کی تصدیق کر دی اور بتایا کہ ان کی بیٹی، داماد اور نواسا بھی ہلاک ہوئے۔[57][58] رپورٹ کے مطابق ہلاکت کے دوران خامنہ ای اپنے دفتر میں موجود تھے۔[59] خامنہ ای کی موت کے بعد حکومت نے 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا۔[60][61]
نجی زندگی
[ترمیم]خاندان
[ترمیم]خامنہ ای کی شادی منصورہ خجستہ باقر زادہ سے ہوئی جن سے ان کے چھ بچے ہیں: چار بیٹے (مصطفیٰ، مجتبیٰ، مسعود اور میثم) اور دو بیٹیاں (بشریٰ اور ہدیٰ)۔[62] ان کے ایک بیٹے مجتبیٰ کی شادی غلام علی حداد عادل کی بیٹی سے ہوئی ہے۔[63] ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ کی شادی عزیز اللہ خوشوقت کی بیٹی سے ہوئی ہے۔[64] ایک اور بیٹے مسعود کی شادی محسن خرازی کی بیٹی سے ہوئی ہے۔[65][66]
ان کے تین بھائی ہیں جن میں محمد خامنہ ای اور ہادی خامنہ ای شامل ہیں۔ ان کی چار بہنوں میں سے ایک بدری حسینی خامنہ ای (علی تہرانی کی اہلیہ) 1980ء کی دہائی میں جلاوطنی اختیار کر گئیں۔[67] بدری علی خامنہ ای کی ناقد ہیں۔
گھر
[ترمیم]بطور سپریم لیڈر خامنہ ای وسطی تہران کی فلسطین اسٹریٹ پر ایک گھر میں منتقل ہوئے۔ اس کے گرد ایک کمپاؤنڈ قائم کیا گیا جو اب تقریباً پچاس عمارتوں پر مشتمل ہے۔ ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق اس ’بیت رہبری کمپاؤنڈ‘ میں تقریباً 500 افراد ملازم ہیں، جن میں سے بہت سے فوج اور سیکیورٹی اداروں سے وابستہ ہیں۔[68][69][70]
طرز زندگی
[ترمیم]واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے ایران کے ماہر مہدی خلجی کے مطابق خامنہ ای کی زندگی ’بغیر کسی عیش و عشرت کے‘ ہے۔[71] ’دی ڈیلی ٹیلی گراف‘ کے رابرٹ ٹیٹ نے بھی لکھا کہ وہ سادہ طرز زندگی کے لیے معروف ہیں۔[68] ڈیکسر فلکنز نے انھیں ’زاہد‘ قرار دیا ہے جو سادہ لباس پہنتے اور سادہ کھانا کھاتے ہیں۔[72] خواتین کے ایک میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ان کی اہلیہ نے کہا کہ ’ہمارے پاس روایتی معنوں میں سجاوٹ نہیں ہے۔ برسوں پہلے ہم نے ان چیزوں سے خود کو الگ کر لیا تھا۔‘[72]
دوسری جانب مدر نیچر نیٹ ورک نے 2016ء میں دعویٰ کیا کہ انھیں ایک بی ایم ڈبلیو کار میں دیکھا گیا اور اس سے اترتے ہوئے ان کی تصویر بھی شائع کی گئی۔[73]
صحت
[ترمیم]خامنہ ای کی صحت سے متعلق وقتاً فوقتاً قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ جنوری 2007ء میں ان کی بیماری یا وفات کی افواہیں اس وقت پھیلیں جب وہ چند ہفتوں تک عوامی سطح پر نظر نہیں آئے اور عید الاضحیٰ کی تقریبات میں شرکت نہیں کی۔ انھوں نے بیان جاری کیا کہ ’اسلامی نظام کے دشمنوں نے ایرانی قوم کو مایوس کرنے کے لیے موت اور صحت سے متعلق افواہیں پھیلائیں‘ تاہم ہومان مجد کے مطابق وہ جاری کردہ تصاویر میں کمزور دکھائی دے رہے تھے۔[74]
9 ستمبر 2014ء کو انھوں نے پروسٹیٹ کا آپریشن کروایا جسے سرکاری ذرائع نے’معمول کا آپریشن‘ قرار دیا۔[75][76] ’لی فیگارو‘ کی ایک رپورٹ میں مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ انھیں پروسٹیٹ کینسر ہے۔[77][78] ستمبر 2022ء میں اطلاع ملی کہ انھوں نے آنتوں کی رکاوٹ کے باعث سرجری کروائی اور کئی ملاقاتیں منسوخ کیں۔[79]
ادب اور فنون
[ترمیم]فارسی زبان اور شاعری
[ترمیم]1988ء میں (جب خامنہ ای ایران کے صدر تھے) انھوں نے ’فارسی زبان کی آن بان اور اس کے تحفظ کی ضرورت‘ کے عنوان سے ایک خطاب کیا جس میں انھوں نے فارسی زبان کو قومی ثقافتی شناخت کا بنیادی اور فیصلہ کن عنصر قرار دیا۔ انھوں نے فارسی کو "حقیقی انقلابی اسلام کی زبان" کہا اور اس کا موازنہ عربی زبان سے کرتے ہوئے فارسی کے اظہار کی وسعت پر زور دیا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ چودھویں صدی کے شاعر حافظ شیرازی کی شاعری کو عربی میں کس حد تک مکمل طور پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔[80] مشہد میں وہ ادبی انجمنوں میں معروف شعرا کے ساتھ شریک ہوتے اور کلام پر تنقید بھی کرتے تھے؛[7] انھوں نے خود بھی امینؔ کے تخلص سے شاعری کی۔[7] انھوں نے فارسی میں غیر ملکی الفاظ کی بجائے نئے الفاظ رائج کرنے کی حمایت کی مثلاً سائبر اسپیس کے لیے ’رایاسپهر‘، ریڈیو کے لیے ’رادیان‘ اور ٹیلی وژن کے لیے ’’تلویزان‘‘ جیسے الفاظ تجویز کیے۔[81][82][83]
خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ”شاعری کو انقلابِ اسلامی کے قافلے کا ہراول دستہ ہونا چاہیے... فنون اور ادب کے ذریعے انقلاب کو زیادہ آسانی اور خلوص کے ساتھ برآمد کیا جا سکتا ہے۔“[84] بعض مبصرین کے مطابق یہی نقطۂ نظر کتابوں پر پابندی، اخبارات کی بندش اور بعض فنکاروں کی گرفتاری میں ان کی دلچسپی کی وضاحت کرتا ہے۔[72]
ناول
[ترمیم]خامنہ ای کو بچپن سے ہی ناول اور کہانیاں پڑھنے کا شوق تھا اور انھوں نے دنیا کے مختلف ناولوں کا مطالعہ کیا۔ جوانی میں وہ ژاں پال سارتر اور برٹرینڈ رسل سے متاثر رہے۔[85] انھوں نے میخائل شولوخوف، الکسی نکولائیوچ ٹالسٹائی، اونورے د بالزاک اور میشل زیواکو کی تحریروں کی تعریف کی۔[86] ان کے مطابق وکٹر ہیوگو کا ناول بد نصیب ”تاریخ میں لکھا جانے والا بہترین ناول“ ہے، ان کے بقول:
میں نے ڈیوائن کامیڈی پڑھی ہے۔ میں نے امیر ارسلان بھی پڑھی ہے۔ میں نے الف لیلہ و لیلہ بھی پڑھی ہے... لیکن بد نصیب ناول نگاری کی دنیا میں ایک معجزہ ہے... میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ بد نصیب کو ایک بار ضرور پڑھیں۔ یہ سماجیات، تاریخ، تنقید، الٰہیاتی پہلو، محبت اور احساس کی کتاب ہے۔[87]
انھوں نے مصنفین اور فنکاروں کو قہر کے انگور پڑھنے کی تجویز دی اور اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کو انکل ٹامز کیبن پڑھنے کا مشورہ دیا کیونکہ ان کے خیال میں یہ امریکا کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔[87]
تراجم
[ترمیم]خامنہ ای اپنی مادری زبانوں فارسی اور آذربائیجانی زبان کے علاوہ عربی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔[88] انھوں نے عربی سے فارسی میں متعدد کتابوں کا ترجمہ کیا جن میں مصری مفکر سید قطب کی تصانیف بھی شامل ہیں۔[89][90]
موسیقی
[ترمیم]1996ء کے آخر میں ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ موسیقی کی تعلیم کم عمر بچوں کے ذہنوں کو متاثر کرتی ہے اور اسے اسلام کے منافی قرار دیا گیا۔ اس کے بعد کئی موسیقی کے اسکول بند کر دیے گئے اور 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سرکاری اداروں میں موسیقی کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی گئی، اگرچہ نجی تعلیم جاری رہی۔[91][92] تاہم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خامنہ ای خوش آواز تھے اور وہ ایرانی ساز تار (ساز) بجانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔[93][94]
تاریخی فتوے
[ترمیم]- قمہ زنی کی رسم جو شاید پرانی رسم ہے اور اس پر کئی علما و مجتہدین تنقید کرتے ہیں۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے قمہ زنی کو حرام قرار دیا۔ کیونکہ ان کی نظر میں اس عمل سے مذہب اہل بیت بدنام ہوتا ہے۔[95]
- اتحاد بین المسلمین کی خاطر آپ نے یہ فتوی دیا کہ امہات المومنین و صحابہ کرام کی توہین کرنا حرام ہے۔[96]

حواشی
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "Senior Iranian cleric Ayatollah Alireza Arafi named as country's interim Supreme Leader after killing of Ayatollah Ali Khamenei in joint US". DD News On Air (بزبان انگریزی).
- ↑ "چه کسی در نخستین انتخابات خبرگان اول شد؟ +جدول ("Who came first in the first election of the Experts?" )"۔ mashreghnews.ir (بزبان فارسی)۔ 7 جنوری 2014۔ 2017-10-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "نمایندگان" (بزبان فارسی)۔ مجلس ایران۔ 2014-07-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-28
- ↑ "اطلاعیه شهادت حضرت آیتالله العظمی سیدعلی حسینی خامنهای رهبر انقلاب اسلامی" [رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کی اعلان]۔ اعلیٰ قومی سلامتی کونسل (Press release) (بزبان فارسی)۔ 1 مارچ 2026۔ 2026-03-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-03-01 – بذریعہ KHAMENEI.ir
- ↑ "Live: Iran confirms supreme leader Khamenei is dead after US, Israeli attacks". Reuters (بزبان انگریزی). Retrieved 2026-03-01.
- ↑ سجاد راعی (سرما 2008)۔ حسین اردستانی (مدیر)۔ نقش آیتالله خامنهای در دفاع مقدس: سال اول جنگ [دفاع مقدس میں آیت اللہ خامنہ ای کا کردار ۔ پہلے سال کے دوران] (PDF)۔ نگینِ ایران - ایران عراق جنگ کے مطالعات کا سہ ماہی جریدہ (بزبان فارسی)۔ ج 7 شمارہ 26: 9–24۔ 28 اپریل 2016 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 جنوری 2018
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(معاونت) - ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح علیاکبر ولایتی۔ "آیتالله علی خامنهای"۔ دائرةالمعارف بزرگ اسلامی (بزبان فارسی)۔ 2017-02-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-04-03
- ↑ "Iran's Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei is dead, state media says". BBC News (بزبان برطانوی انگریزی). 1 Mar 2026. Retrieved 2026-03-01.
- ↑ "علی خامنهای"۔ cgie.org.ir (بزبان فارسی)
- ↑ "taking look at the biography of Ali Khamenei". farsi.khamenei.ir (بزبان انگریزی). 21 Mar 2014. Retrieved 2014-03-21.
- ↑ "A photo of Identity document of Ayatollah Khamenei". farsi.khamenei.ir (بزبان انگریزی). 1 Feb 2010. Archived from the original on 2017-08-14. Retrieved 2018-01-14.
- ^ ا ب "The Office of the Leader, Seyyed Ali Khamenei". leader.ir (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2009-06-18. Retrieved 2009-06-19.
- ↑ اکبر هاشمی رفسنجانی۔ پیام تسلیت هاشمی به آیتالله خامنهای/ اعلام برنامه وزرای کشاورزی و نیرو به هاشمی (بزبان فارسی)۔ 2016-01-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-07-23
- ↑ Eternal Iran, in 1721; Patrick Clawson, 2005, ISBN 1-4039-6276-6, p. 5.
- ↑ Robin Wright, The Last Great Revolution - Turmoil and Transformation in Iran, Alfred A. Knopf, 2000
- ↑ "بیوگرافی خواهر متوفی رهبر انقلاب"۔ baharnews.ir (بزبان فارسی)۔ بهار۔ 23 مارچ 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-11-19
- ↑ Encyclopedia of the Peoples of Africa and the Middle East – Facts on File, Incorporated, 2009, p. 79
- ↑ "Iran and the Caucasus - The Triumph of Pragmatism over Ideology – Centre for World Dialogue". worlddialogue.org (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2013-09-27. Retrieved 2014-01-01.
- ↑ "Azeris unhappy at being the butt of national jokes". irinnews.org (بزبان انگریزی). UN Office for the Coordination of Humanitarian Affairs. 25 May 2006. Archived from the original on 2007-08-14. Retrieved 2009-06-19.
- ↑ Hooman Majd (19 Feb 2009). "Change Comes to Iran" (بزبان انگریزی). The Daily Beast. Archived from the original on 2010-01-16. Retrieved 2009-02-20.
Ali Khamenei [...] while ethnically Turkic is also half Yazdi
- ↑ آناج نیوز (1394)۔ 6 مرداد، سالروزسفر تاریخی رهبر معظم انقلاب به رشت (بزبان فارسی)۔ 2015-07-29 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "(broken)"۔ 2012-08-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "ShiaOnline.ir – شیعه آنلاین – نگاهی اجمالی به شجره نامه آیت الله خامنه ای"۔ shia-online.ir (بزبان فارسی)۔ 2014-01-02 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ^ ا ب Abbas Milani (3 Oct 2025). "Khamenei, Don Quixote, and Culture Wars". Hoover Institution (بزبان انگریزی). Retrieved 2026-02-26.
- ↑ "Historic Personalities of Iran - Seyed Ali Khamenei" (بزبان انگریزی). Iran Chamber. Archived from the original on 2009-06-11. Retrieved 2009-06-19.
- ↑ Ali Rahnema (2000). Ali Rahnemaré, An Islamic Utopian - A Political Biography of Ali Shariati, 1998, p. 368 (بزبان انگریزی). I.B. Tauris. ISBN:978-1-86064-552-5. Retrieved 2009-06-19.
- ↑ "Khamenei.ir" (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2013-11-12.
- ↑ "انتصاب آیتالله خامنهای به عنوان رئیس خدمهی آستان قدس رضوی"۔ farsi.khamenei.ir (بزبان فارسی)۔ Ali Khamenei۔ 14 اپریل 1979۔ 2017-08-19 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-08-19
- ↑ Muhammad Sahimi (8 May 2016). "Iran's Incredible Shrinking Ayatollah" (بزبان انگریزی). The National Interest. Archived from the original on 2016-06-23. Retrieved 2016-07-01.
- ↑ Nikola B. Schahgaldian, Gina Barkhordarian (Mar 1987), The Iranian Military Under the Islamic Republic (PDF) (بزبان انگریزی), RAND Corporation, ISBN:978-0-8330-0777-3, Archived (PDF) from the original on 2017-02-03, Retrieved 2017-01-15
- ^ ا ب پ Vali Nasr (9 Dec 2007). "Meet "The Decider" of Tehran - It's Not the Hothead You Expect". The Washington Post (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2008-10-07. Retrieved 2007-12-09.
- ↑ Suzanne Maloney (2015). Iran's Political Economy since the Revolution (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. p. 152. ISBN:978-0-521-73814-9. Archived from the original on 2017-11-14.
- ^ ا ب Reza Kahlili (2013). A Time to Betray - A Gripping True Spy Story of Betrayal, Fear, and Courage (بزبان انگریزی). Threshold Editions. p. 155. ISBN:978-1-4391-8968-9.
- ↑ Mostafa Qaffari. "Report about assassination attempt on adventure of 27 June 1981". farsi.khamenei.ir (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2016-12-08.
- ↑ "Terror of Tehran's popular Friday prayer by Munafiqs" (بزبان انگریزی). Political Studies and Research Institute. Archived from the original on 2017-04-20. Retrieved 2017-04-19.
- ↑ John Murphy (2007). Ali Khamenei (بزبان انگریزی). Chelsea House Publications. p. 93. ISBN:978-0-7910-9517-1.
- ↑ Maziar Bahari (6 Apr 2007). "How Khamenei Keeps Control" (بزبان انگریزی). Newsweek. Archived from the original on 2010-10-25. Retrieved 2010-09-29.
- ↑ "Castro to Ayatollah Khamenei - "Why did you shake with your left hand instead of right?"". khabaronline.ir (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2017-04-16. Retrieved 2017-04-15.
- ↑ Karim Sadjadpour (2009). Reading Khamenei - The World View of Iran's Most Powerful Leader (PDF) (بزبان انگریزی). Carnegie Endowment for International Peace. Archived (PDF) from the original on 2011-05-06.
- ↑ "History of Iran - Iran after the victory of 1979's Revolution" (بزبان انگریزی). Iran Chamber. Archived from the original on 2009-04-09. Retrieved 2009-06-19.
- ↑ "Khamenei Will Be Iran's Last Supreme Leader" (بزبان انگریزی). Newsweek. 17 Nov 2009. Archived from the original on 2017-09-16.
referring to the enormous power Khamenei has given Iran's Islamic Revolutionary Guards Corps, which, under Khamenei's direct control, has brutally repressed demonstrators, human rights activists, and opposition journalists
- ↑ Jamsheed K. Choksy. "Tehran Politics - Are the Mullahs Losing Their Grip?" (بزبان انگریزی). World Affairs.
Khamenei has strengthened alliances with militant commanders, especially within the Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC), in the hope that all opposition to his authority will continue to be suppressed — as it was during the protests of 2009
- ↑ Efraim Karsh (2002). The Iran-Iraq War 1980–1988 (بزبان انگریزی). Osprey Publishing. p. 41. ISBN:1-84176-371-3.
- ↑ Yossi Melman (11 Oct 2007). "Israel fails to prevent Germany freeing Iranian" (بزبان انگریزی). Haaretz. Archived from the original on 2009-04-01.
- ↑ Roya Hakakian (4 Oct 2007). "The End of the Dispensable Iranian". Der Spiegel (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2008-08-27. Retrieved 2009-01-31.
- ↑ "German court implicates Iran leaders in '92 killings" (بزبان انگریزی). CNN. 10 Apr 1997. Archived from the original on 2013-11-26. Retrieved 2013-01-26.
- ↑ "Germany Deports Iranian jailed for 1992 murders" (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2012-03-06.
- ↑ "Iran - Terrorist Freed in Germany Is Welcomed By Tehran" (بزبان انگریزی). Eurasianet. 14 Dec 2007. Archived from the original on 2014-04-04. Retrieved 2013-06-21.
- ↑ Thomas R. Mattair (2015). Global Security Watch - Iran: A Reference Handbook (بزبان انگریزی). Praeger. p. 156. ISBN:978-0275994839.
- ↑ Mahboubi Mohammad (7 Jun 2015). "Witnesses narrate the attempt of Rafsanjani to pass the suggestion of "leadership council"" (بزبان انگریزی). Rajanews. Archived from the original on 2016-12-28. Retrieved 2017-05-01.
- ↑ "Ali Khamenei", (2024) [2001], Encyclopædia Britannica.
- ↑ "Iran". 2009-2017.state.gov (بزبان انگریزی). 23 Jul 2010. Retrieved 2010-08-21.
The government monitored meetings, movements, and communications of its citizens and often charged persons with crimes against national security and insulting the regime based on letters, e-mails, and other public and private communications.
- ↑ "Profile - Ayatollah Seyed Ali Khamenei" (بزبان انگریزی). BBC News. 17 Jun 2009. Archived from the original on 2009-03-26. Retrieved 2009-07-28.
- ↑ Phil Stewart; Parisa Hafezi; Emily Rose; Andrew Mills (28 Feb 2026). "Iranian leader Khamenei killed in strikes, Israel says". Reuters (بزبان انگریزی). Retrieved 2026-02-28.
- ↑ Rema Rahman (28 Feb 2026). "Iranian president, supreme leader believed to be alive after US attack". The Hill (بزبان انگریزی).
- ↑ "Trump says Iran's Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei is dead after US-Israeli strikes". BBC (بزبان انگریزی). 28 Feb 2026.
- ↑ "Iran's Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei is dead, state media says". BBC (بزبان برطانوی انگریزی). 28 Feb 2026. Retrieved 2026-02-28.
- ↑ "Iranian state media say country's supreme leader is dead". AP News (بزبان انگریزی). 28 Feb 2026. Retrieved 2026-03-01.
- ↑ Kyla Guilfoil (28 Feb 2026). "Ayatollah Ali Khamenei is dead, Iranian media confirms" (بزبان انگریزی). NBC News. Retrieved 2026-03-01.
- ↑ "Iran Confirms Khamenei Killed In US-Israel Strikes, Announces 40-Day Mourning" (بزبان انگریزی). News18. 1 Mar 2026. Retrieved 2026-03-01.
- ↑ "Ayatollah Ali Khamenei: Supreme leader dead, Iran TV confirms as 40-day mourning declared" (بزبان انگریزی). Gulf News. 1 Mar 2026. Retrieved 2026-03-01.
- ↑ "آشنایی با فرزندان مقام معظم رهبری"۔ Seratnews۔ 2015-01-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-01-27
- ↑ Mehrzad Boroujerdi؛ Kourosh Rahimkhani (11 اکتوبر 2010)۔ "Iran's Political Elite"۔ United States Institute of Peace۔ 2013-08-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-07-30
- ↑ Knowing the sons of Iran's supreme leader mashreghnews.ir Retrieved 18 November 2019
- ↑ Seyyed Masoud Khamenei, beside his father-in-law (Seyyed Mohsen Kharazi) – Portrait aghigh.ir Retrieved 23 November 2019
- ↑ Seyyed Masoud Khamenei, with his father-in-law --Seyyed Mohasen Kharazi[مردہ ربط] tebyan.net Retrieved 9 December 2019
- ↑ "Niece of Iran's supreme leader calls on other countries to cut ties with regime". the Guardian (بزبان انگریزی). 27 Nov 2022. Retrieved 2022-11-30.
- ^ ا ب
- ↑ Julian Borger۔ "Mojtaba Khamenei: gatekeeper to Iran's supreme leader"۔ The Guardian۔ 2013-09-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ Ebrahim Yazdi؛ Mir Hossein Mousavi؛ Dr. Zahra Rahnavard؛ Fatemeh Karroubi؛ Mehdi Karroubi۔ "Yazdi Released; Mousavi, Karroubi Children Write Letter to Nation"۔ PBS Frontline – Tehran Bureau۔ 2017-09-13 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "The Frugality of Iran's Supreme Leader"۔ Payvand.com۔ 2014-02-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-21
- ^ ا ب پ
- ↑ "Iran's car market is opening up"۔ MNN – Mother Nature Network۔ 2016-03-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ Majd, Hooman, The Ayatollah Begs to Differ: The Paradox of Modern Iran, Doubleday, 2008, p. 61
- ↑ Iran's Top Leader Undergoes Prostate Surgery آرکائیو شدہ 24 جولائی 2016 بذریعہ وے بیک مشین. The New York Times. 8 September 2014.
- ↑ "Iran's supreme leader Ayatollah Ali Khamenei has prostate surgery"۔ The Guardian۔ 8 ستمبر 2014۔ 2017-02-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "Iran : Guerre de succession en vue au sommet de l'État"۔ 27 فروری 2015۔ 2015-08-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-07-27
- ↑ Sohrab Ahmari (23 مارچ 2015)۔ "Iran's Coming Leadership Crisis"۔ وال اسٹریٹ جرنل: A13۔ 2017-04-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ Farnaz Fassihi (16 ستمبر 2022)۔ "Iran's Supreme Leader Cancels Public Appearances After Falling Ill"۔ The New York Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-09-28
- ↑ Azadeh Kian (2023). Rethinking Gender, Ethnicity and Religion in Iran: An Intersectional Approach to National Identity. Sex, Family and Culture in the Middle East (بزبان انگریزی). London: I.B. Tauris. pp. 60–61. ISBN:978-0-7556-5025-5.
- ↑ "بیانات در دیدار جمعی از شاعران و اهالی فرهنگ و ادب" [Statements in the meeting of a group of poets and people of culture and literature]۔ farsi.khamenei.ir (بزبان فارسی)۔ 2 مارچ 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-11-04
- ↑ "بیانات در دیدار شاعران" [Statements in the meeting of poets]۔ farsi.khamenei.ir (بزبان فارسی)۔ 23 اکتوبر 1982۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-11-04
- ↑ نیوشا بقراطی (24 مئی 2019)۔ "از رادیان و تلویزان تا هار و فزرتی؛ کلام "او"۔ radiofarda.com
- ↑ REUEL MARC GERECHT (12 Dec 2014). "Iran's Supreme Censor" (بزبان انگریزی). Foundation for Defense of Democracies. Retrieved 2020-06-08.
- ↑ Akbar Ganji (1 Nov 2013). "Ayatollah Khamenei and the Destruction of Israel" (بزبان انگریزی). Boston Review. Archived from the original on 2016-12-29.
- ↑ Alison Flood (27 Feb 2015). "Ayatollah Khamenei reveals himself as an "#AvidReader" of fiction". The Guardian (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2017-06-23. Retrieved 2017-04-19.
- ^ ا ب Akbar Ganji (2013). "Who Is Ali Khamenei? The Worldview of Iran's Supreme Leader". Foreign Affairs (بزبان انگریزی). 92 (5): 24–48. JSTOR:23527515.
- ↑ "Khamenei sermon in Arabic"۔ irannegah.com۔ 2009-06-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-06-19
- ↑ "Khamenei speaking Azeri about poetry"۔ irannegah.com۔ 2009-07-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-06-19
- ↑ Khamenei, Ali; "The History of Palestine and Its Occupation", Tehran Friday prayer sermons, 18 December 1999, published 4 March 2008, Khamenei.ir – the Supreme Leader Seyed Ali Khamenei's official website, retrieved 6 April 2009
- ↑
- ↑
- ↑ Neil MacFarquhar (15 Jun 2009). "In Iran, an Iron Cleric, Now Blinking". The New York Times (بزبان انگریزی). Retrieved 2018-02-10.
- ↑ Alex Altman (17 Jun 2009). "Ayatullah Ali Khamenei: Iran's Supreme Leader". Time (بزبان انگریزی). Retrieved 2026-02-09.
- ↑ "Tatbir is a wrongful and fabricated tradition: Imam Khamenei". Khamenei.ir (بزبان انگریزی). 7 Oct 2016. Retrieved 2019-05-10.
- ↑ https://english.khamenei.ir/news/3905/Ayatollah-Khamenei-s-fatwa-Insulting-the-Mother-of-the-Faithful
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر علی خامنہ ای سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- 1939ء کی پیدائشیں
- 19 اپریل کی پیدائشیں
- اکیسویں صدی کے مسلمان
- امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیوں کے تابع ایرانی شخصیات
- ایران عراق جنگ کی ایرانی شخصیات
- ایرانی آیت اللہ العظمیٰ
- ایرانی اسلام پسند
- ایرانی اسلامی انقلاب کی شخصیات
- ایرانی انقلابی
- ایرانی صدور
- ایرانی مرگ انبوہ کے منکرین
- پہلی مجلس شورای اسلامی کے ارکان
- حوزہ علمیہ قم کے فضلا
- علی خامنہ ای
- مشہد کی شخصیات
- نسائیت کے نقاد
- نسائیت کے نقاد مرد
- 2026ء کی وفیات
- وفیات بسبب فضائی حملہ
- غزہ جنگ کی شخصیات