علی سلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علی سلیم
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1980 (عمر 38–39 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ٹیلی ویژن میزبان،  اشرافیہ،  منظر نویس،  اداکار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
علی سلیم

پاکستانی اداکار۔ مشہور ٹی وی پروگرام بیگم نوازش علی شو کے میزبان۔ 1980 کو پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں خاتون بننے کی خواہش ان کے اندر جاگی۔ اور گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے ساتھ ساتھ کامیاب خواتین جیسا بننے کی آرزو کی۔ ان کی زندگی کا سب سے تلخ لمحہ 1995ء میں ان کے والدین کی علیحدگی تھی۔

ٹی وی میں آمد[ترمیم]

انہی مایوسی بھرے دنوں میں ان کی ملاقات ٹی وی اداکارہ مرحومہ یاسمین اسماعیل سے ہوئی۔ یاسمین نے انہیں امید کی کرن دکھائی اور آج ان کی شہرت میں یاسمین کا بڑا کردار ہے مئی انیس سو اٹھانوے میں آرٹ یا آٹا نامی ایک سٹیج شو میں بے نظیر بھٹو کی نقل اتاری۔ اپنی اداکاری کی وجہ سے انہیں بہت داد ملی اور شو بہت مقبول ہوا۔ اس کے بعد جیو ٹی کے پروگرام ہم سب امید سے ہیں میں بھی انہوں نے بے نظیر بھٹو کی خوبصورت پیروڈی کی یہ پروگرام ان کی مزید مقبولیت کا سبب بنا۔

بیگم نوازش علی[ترمیم]

علی سلیم بیگم نوازش علی کے روپ میں

دو ہزار چار میں لاہور میں دوستوں کی ایک محفل میں بیٹھے ہوئے بیگم نوازش علی شو کا آئیڈیا ان کے ذہن میں آیا۔ ایک ایسا ٹاک شو جس میں علی کو ایک طلاق یافتہ وسط عمر کی ایسی خاتون کے طور پر میزبانی کرنی تھی جو ہر کسی کو جانتی ہیں۔

شروع میں انہوں نے ’جیو‘ ٹی وی سے شو کے بارے میں بات کی۔ وہاں سے انکار کے بعد جب وہ ’آج‘ ٹی وی کے پاس اپنا آئیڈیا لے کر پہنچے تو وہاں ان کے آئیڈیا کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ پہلی قسط سے ہی اس شو کو بہت پسند کیا گیا۔ اب تک اس شو میں سیاست دانوں سے لے کر فلمی اداکاروں اور کھلاڑیوں تک ہر طرح کے لوگ آ چکے ہیں۔ 2007 میں مختلف وجوہات کی بنا پر سلیم نے بیگم نوازش علی شو کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ ان وجوہات میں اس شو میں ایک فرضی کرنل کا کاردار شامل ہے۔ علی سلیم کے مطابق افواجِ پاکستان کی عوامی رابطہ کے ادارے نے سخت دباؤ ڈالا جو اس پروگرام کے بند کرنے کی ایک اہم وجہ ہے۔۔ مگر اس بات کی تصدیق افواج پاکستان کے عوامی رابطہ کے ادارے نے نہیں کی۔

بیرونی روابط[ترمیم]