میر علی شیر قانع ٹھٹوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(علی شیر قانع ٹھٹوی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
میر علی شیر قانع ٹھٹوی
پیدائش سید علی شیر شیرازی
1728ء
ٹھٹہ (موجودہ ضلع ٹھٹہ، صوبہ سندھ، پاکستان)
وفات 1788ء ( 60 سال )
ٹھٹہ (موجودہ ضلع ٹھٹہ، صوبہ سندھ، پاکستان)
قلمی نام قانع
پیشہ مورخ، شاعر، تذکرہ نگار
زبان فارسی
نسل سندھی
اصناف تاریخ، شخصیات، مثنوی، غزل
نمایاں کام تحفۃ الکرام
بوستان بہار المعروف مکلی نامہ
دیوان علی شیر
مقالات الشعرا

میر سید علی شیر ٹھٹوی 'قانع' تخلص (پیدائش:1728ء – وفات:1788ء) سندھ کے اٹھارویں صدی کے نامور مؤرخ، شاعر اور تاریخ سندھ پر مشہور کتاب تحفۃ الکرام کے مصنف، کلہوڑا دربارسے وابستہ شاہی مؤرخ تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

پیدائش و خاندانی پس منظر[ترمیم]

علی شیر قانع ٹھٹوی 1728ء بمطابق 1140ھ میں ٹھٹہ، سندھ میں سید عزت اللہ شیرازی کے گھر پیدا ہوئے۔[1] علی شیر قانع ٹھٹوی کے اجداد میں سے سید شکراللہ شیرازی والیٔ سندھ مرزا شاہ بیگ ارغون کے دورِ حکمرانی میں ہرات سے قندھار اور پھر قندھار سے ٹھٹہ تشریف لائے۔ سید شکراللہ شیرازی کو والیٔ سندھ مرزا شاہ حسن ارغون نے قضا کے منصب پر فائز کیا۔ سید شکراللہ شیرازی ہی وہ بزرگ تھے جن کی نسل سے ٹھٹہ کے شکر اللہ سادات کا سلسلہ آگے بڑھا۔[2]

تعلیم[ترمیم]

میر علی شیر نے میاں نعمت اللہ، میاں محمد صادق جو اپنے دور کے جید عالم، دینی و دنیوی علوم میں کامل دسترس رکھتے تھے، کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ میاں نعمت اللہ سے میزان صرف سے شرح ملا تک تعلیم حاصل کی۔ ان اساتذہ کے علاوہ میر صاحب نے آخوند محمد شفیع (متوفی 1156ھ) سے بھی علم حاصل کیا۔ اس کے علاوہ مولوی مرزا جعفر شیرازی سیر و تفریح کے لیے جب ٹھٹہ میں تشریف لائے تو میر علی شیر نے ان سے بھی کچھ علم حاصل کیا۔[3] اس کے علاوہ آخوند ابوالحسن (بے تکلف) ٹھٹوی بھی فارسی میں میر صاحب کے استاد تھے۔[4]

سیر و سفر[ترمیم]

میر علی شیر کی تمام زندگی سراسر علمی تھے اسی تصور کیا جاتا ہے کہ آپ نے اپنا وقت دنیا کے دوسرے مشاغل میں ضائع نہیں کیا اور زیادہ تر وقت گھر میں رہ کر تصنیف و تالیف کرتے رہے۔ سواے ایک معمولی وقفہ میں جس میں میر علی شیر نے نامعلوم سبب سے سورت، جام ننگر اور بھوج کا سفر اختیار کیا۔ تحفۃالکرام اور مقالات الشعرا سے معلوم ہوتا ہے 1160ھ میں آپ سورت گئے جہاں آپ کی ملاقات سید سعداللہ شاہ سلونی قادری سورتی اور ان کے فرزند میر عبد الوالی عزلت سے ہوئی۔ تحفۃ الطاہرین کے مصنف شیخ محمد اعظم ٹھٹوی سے میر صاحب کی ملاقات سورت میں ہوئی۔ یہ بزرگ اُس زمانے میں سورت ہی میں مقیم تھے۔ جام ننگر عرف اسلام آباد بھی میر صاحب نے اسی سفر کے دوران دیکھا اور یہاں میر صاحب کی ملاقات محمد عاقل 'ابلہ' جوناگڑھی سے ہوئی جو شاعر اور ٹھٹہ کے میاں ابوالقاسم کے شاگرد تھے۔ غالباً اسی سفر میں جب میر صاحب بھوج ننگر گئے وہاں آپ کی ملاقات ایک ایرانی شاعر ہوشیار اصفہانی سے ہوئی جو بعد میں ٹھٹہ آئے اور یہاں سے ہندوستان چلے گئے۔[5]

میر صاحب کا معاش[ترمیم]

قدیم خاندانی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کا پورا خاندان شروع ایام سے میر صاحب کے زمانے تک خوشحال، فارغ البال تھا اور میر صاحب کے بعد بھی یہ خاندان جاگیریں، تنخواہیں، وظیفے، خلعتیں اور انعام واکرام حاصل کرتا رہا۔ میرسید شکر اللہ شیرازی 927ھ میں ٹھٹہ آمد کے ساتھ ارغون سلطنت کی طرف سے وظیفہ جاری ہوا۔ ہمایوں کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر صاحب کے خاندان کو ہمایوں کی طرف سے "'سیورغال'" وظیفہ اور ساکرو پرگنہ میں کچھ زمین بطورمددِ معاش ملی تھی۔ اسی طرح ترخانی دور کے دستاویزات بھی ملے ہیں جن پچھلے بادشاہوں کے عطا کیے ہوئے وظیفے اور جاگیروں کی تصدیق ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اپنی طرف سے وقت بہ وقت مزید اضافہ بھی کرتے رہے۔ مرزا جانی بیگ کے ایک فرمان (مرقومہ 1007ھ) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جون پرگنہ میں کئی گاؤں میر صاحب کے خاندان کو بطور مددِ معاش دئے گئے تھے۔ 1029ھ کے ایک فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ شہنشاہ جہانگیر نے سید ظہیر الدین ثانی خلف سید شکراللہ ثانی کے لیے دو سو خرار (چوبیس من کے برابر) دھان سالانہ بطور وظیفہ کے منظور کیے۔ 1138ھ کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر صاحب کا خاندان پچاس ہزار دام سالانہ تنخواہ وصول کرتا تھا۔ میاں نور محمد کلہوڑو کے ایک پروانہ کے مطابق میر صاحب کے والد سید عزت اللہ شیرازی کو جگت پور اور ککرالہ وغیرہ میں بھی کئی گاؤں بطور جاگیر ملے۔ کلہوڑوں کے بعد تالپروں نے بھی اسی طرح اس خاندان کو جاگیریں، تنخواہیں، وظیفے اور دوسرے انعام و اکرام جاری رکھے۔ میاں غلام شاہ کلہوڑو کے ایک فرمان کے مطابق (مرقومہ 1172ھ) سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں نور محمد کلہوڑو کے دور سے سید عزت اللہ شیرازی کا روزینہ جاری تھا جو غلام شاہ کلہوڑو کی تخت نشینی کے بعد میرعلی شیر قانع ٹھٹوی کے نام منتقل ہوا۔ 1197ھ میں میر فتح علی خان ٹالپر فاتح سندھ نے علی شیر قانع کے نام ایک پروانہ جاری کیا جس میں 42 روپیہ عنایت کرنے کا ذکر ہے۔ ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر صاحب کا تمام خاندان خوشحال اور فارغ البال تھا اور تمام بادشاہوں نے شیرازی خاندان کی عزت کی، انعام و اکرام، تنخواہیں اور جاگیریں عطا کیں۔[6]

ملازمت[ترمیم]

سندھ کے آزاد حکمران میاں نور محمد کلہوڑو 1167ھ میں وفات پا گئے اور بیٹا میاں مراد یاب تخت نشین ہوا۔ میاں نور محمد کلہوڑو کی وفات کے بعد تخت و تاج کی لالچ و ہوس نے کلہوڑا خاندان میں باہمی آویزش کی ابتدا کی۔ میاں مرادیاب کلہوڑو نے حکومت کے چار سال بھی مکمل نہیں کیے، معزول کرکے پابندِ سلاسل کردیے گئے اور دوسرا بھائی میاں غلام شاہ جو گلاں نامی طوائف کے بطن سے تھا، تخت نشین ہوا۔ میاں غلام شاہ بے حد دانا اور حکمرانی کے لیے ہر طرح سے موزوں و مناسب تھا۔ انہوں نے اپنے دور میں ملک میں نہ فقط امن و امان قائم کیا بلکہ بہت سے سرحدی علاقے بھی حاصل کرکے سندھ کی قلمرو میں شامل کیے۔ سبز کوٹ و اُچ، بہاولپور کے کے نواب سے واگزار کرائے، حیدرآباد کا شہر آباد کیا اور 1182ھ میں حیدرآباد کا قلعہ تعمیر کرایا۔ ان کے دور حکومت میں سندھ میں خوشحالی اور امن و امان تھا۔ اسی روشن دماغ بادشاہ نے علی شیر قانع ٹھٹوی کو اپنے خاندان کی تاریخ نویسی کے لیے ملازم رکھا اور میر علی شیر نے شاہ نامہ کی طرز پر فارسی نظم میں اور دوسری مفصل تاریخ نثر میں لکھنے کی ابتدا کی۔ میر علی شیر کا تقرر تارخ نویس کے عہدہ پر 1175ھ میں ہوا اور میر علی شیر ٹھٹہ سے خدا آباد چلے گئے۔ 1180ھ سے پہلے نا معلوم وجوہات کی بنا پر ملازمت سے فراغت حاصل کرکے ٹھٹہ واپس چلے آئے۔[7]

ادبی خدمات[ترمیم]

شعر و سخن کی مشق[ترمیم]

علی شیر قانع بارہ سال کی عمر یعنی 1152ھ میں جب آپ مدرسہ و مکتب میں سبق آموزی میں منہمک تھے، مشقِ سخن کی ابتدا کی۔ اسی عمر میں آٹھ ہزار شعرکا دیوان مرتب کیا، جس میں سبھی اصنافِ سخن شامل تھیں۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر تمام دیوان دریا برد کر دیا۔ تقریباً دو سالہ خاموشی کے بعد یعنی 1155ھ میر علی شیر کی میر حیدر ابو تراب "کامل" جیسے استاد کامل سے ملاقات ہوئی اور اسی بزرگ کی صحبت و فیض کی بدولت دوبارہ مشقِ سخن کا آغاز کیا اور ان کی شاگردی اختیار کی۔[8]

مطالعہ کا شوق[ترمیم]

میر علی شیر کا دور جس قدر سیاسی اور ملکی حالات کے سبب تاریک تھا، علمی و ثقافتی لحاظ سے روشن و تابناک تھا۔ ایک ہی وقت میں سینکڑوں مدرسے علم آموزی کے لیے آباد تھے۔ ہرخاندان اور ہر فرد علم کا مرکز و منبع تھا۔ ہر علم دوست کی بیٹھک و دیوان خانہ اکیڈمی کا کام دیتی تھی۔ علم پروروں کی ملاقاتیں، صحبتیں، مجلسیں اور مشاعرے صبح وشام ہوتے تھے۔ ایک ہی وقت میں مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی (متوفی 1174ھمخدوم محمد معین ٹھٹوی (متوفی 1161ھمخدوم ضیاء الدین ٹھٹوی، میاں نعمت اللہ، میاں محمد صادق، آخوند محمد شفیع، آخوند ابوالحسن جیسے یگانۂ روزگار عالم اور میر "محسن" (متوفی 1163ھ)، غلام علی "مداح" ٹھٹوی، بالچند "آزاد" اور میر ابو تراب "کامل" جیسے شاعر ٹھٹہ شہر میں موجود تھے جن میں سے ہر ایک اپنے وقت کا "'غزالی'"، '"سعدی'" اور '"انوری'" تھا۔ میر علی شیر کے مطالعہ کا شوق اور ٹھٹہ میں کتابوں کی فراوانی اور دستیابی کا اندازہ تب ہوتا ہے جب میر علی شیر اپنی تصانیف میں ایسی ایسی کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں جن میں سے بہت سی آج بھی نایاب اور نادرالوجود ہیں۔ تاریخ فرشتہ، طبقات اکبری، منتخب التواریخ، دہ سالہ عالمگیری، آئین اکبری، روضۃ الصفا، حبیب السیر، مراۃ احمدی، مراۃ سکندری، خزانۂ عامرہ، یدِ بیضا، تذکرۂ والہ داخستانی، ہفت اقلیم ابن رازی، کلمات الشعرا، مجالس المومنین وغیرہ تاریخ و تذکرہ، تصنیف و تالیف کرتے ہوئے میر صاحب کے پیشِ نظر تھیں۔ اسی طرح سندھ کے تقریباً تمام مصنفین کی تصانیف بھی میر صاحب کے پیشِ نظر تھیں۔ چچ نامہ، تاریخ معصومی، تاریخ طاہری، بیگلار نامہ، ترخان نامہ، تذکرۃ المراد، آداب المریدین، حدیقۃ الاولیا کے ساتھ ساتھ سندھی مصنفین کی تمام مذہبی تصانیف میر صاحب کے مطالعہ میں رہیں۔[9]

تصانیف[ترمیم]

دیوان علی شیر (1152ھ)[ترمیم]

بارہ سال کی عمر میں یہ دیوان مرتب کیا جسے نا معلوم سبب کے دریا برد کر دیا۔ آنے والے دو سالوں یعنی 54-1153ھ میں شعر و شاعری سے کنارہ کشی اختیار کی۔ دیوان میں نام ہی تخلص طور استعمال کرتے تھے۔[10]

مثنوی شمہء از قدر حق (1165ھ)[ترمیم]

مثنوی کا نام تاریخی ہے۔ سالَ تصنیف 1165ھ اس میں سے برآمد ہوتا ہے۔ اس مثنوی کا کوئی بھی نسخہ موجود نہیں۔ مقالات الشعرا میں نمونتاً کچھ اشعار دیے گئے ہیں۔[10]

مثنوی قضا و قدر (1167ھ)[ترمیم]

گل از بہار قضا سے سال تصنیف 1167ھ برآمد ہوتا ہے۔ اس مثنوی کا کوئی بھی نسخہ موجود نہیں۔[10]

نو آئین خیالات (1169ھ)[ترمیم]

نام سے سالِ تصنیف برآمد ہوتا ہے۔ یہ کتاب نثر میں ہے۔ اس کا کوئی بھی نسخہ موجود نہیں اسی لیے یہ معلوم نہیں کہ یہ کتاب کون سے موضوع پر ہے۔[11]

مثنوی قصۂ کامروپ (1169ھ)[ترمیم]

یہ مثنوی بھی گم ہے۔ مقالات الشعرا میں لکھتے ہیں کہ اس مثنوی میں تخمیناً تین ہزار اشعار ہیں اور 1169ھ میں تصنیف کی۔[11]

دیوان قال غم (1171ھ)[ترمیم]

اس دیوان میں غزل، قصیدہ، مخمس، ترجیع بد وغیرہ تمام اصنافِ سخن موجود ہیں۔ نو ہزار اشعار پر مبنی یہ مجموعہ بھی زمانے کی دستبرد نے تباہ کر دیا[12]

ساقی نامہ (1174ھ)[ترمیم]

ساقی نامہ شاعری پر مبنی مجموعہ ہے۔ اس کے کچھ اشعار یہ ہیں[12]؛

بیا ساقیا زان میٕٔ ناب دہ بلب تشنگان یکدمی آب دہ
کہ در آتشم از خمار شرابباتش ز آتش توان داد آب
شب و روز در فکر آنم کہ کی شود جان این مردہ دل باز جی

واقعات حضرت شاہ (1174ھ)[ترمیم]

اس کا ذکر بھی 'مقالات الشعرا' میں آیا ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ 1174ھ سے پہلے کی تصنیف ہوگی۔ اس مثنوی میں ایک ہزار اشعار ہیں۔ اس مثنوی کا کوئی بھی نسخہ زمانے کی دستبرد سے نہیں بچا۔ یہ مثنوی واقعہ کربلا کے موضوع پر ہے۔[13]

چہار منزلہ (1174ھ)[ترمیم]

میر صاحب نے اس مثنوی کا ذکر بھی مقالات الشعرا میں کیا ہے۔ اسی لیے 1174ھ یا اس سے پہلے کی تصنیف معلوم ہوتی ہے۔ اس مثنوی میں ایک ہزار اشعار ہیں۔ یہ مثنوی بھی گم ہو چکی ہے۔[13]

تزویج نامہ حسن و عشق (1174ھ)[ترمیم]

یہ کتاب بھی 1174ھ یا اس سے پہلے کی تصنیف ہے۔ اس کا نہ نسخہ دستیاب ہے نہ اقتباس جس سے اس کتاب کے مضامین کا اندازہ ہو سکے البتہ میر صاحب لکھتے ہیں کہ اس میں مقفیٰ اور مسجع نثر لکھی گئی ہے۔ عنوان سے ظاہر ہوتا ہے حسن و عشق کے میلاپ اور معملات پر ادبی طور سے خیال آرائی کی گئی ہوگی۔[14]

اشعار متفرقہ در صنایع و تاریخ (1174ھ)[ترمیم]

میر صاحب نے یہ مجموعہ 1174ھ تک مرتب کیا گیا جس میں تاریخی قطعہ اور صنایع کے اشعار ایک ہزار کی تعداد میں ہیں۔ یہ نسخہ بھی گم ہے۔[14]

بوستان بہار" معروف بہ "مکلی نامہ"(1174ھ)[ترمیم]

بوستان بہار تازۂ دل سے سالِ تاریخ برآمد ہوتا ہے۔ مکلی کے منظر اور مقبروں پر اس میں نظم و مقفیٰ نثر میں شاعرانہ خیال آرائی کی گئی ہے۔ اس کتاب کا نسخہ سندھی ادبی بورڈ جامشورو میں مصنف کے خط میں محفوظ ہے۔[14]

مقالات الشعرا (1174ھ)[ترمیم]

میر علی شیر کو 1169ھ میں جب وہ مثنوی کامروپ لکھ رہے تھے، اُس وقت آپ کو اس بیش بہا تذکرہ لکھنے کا خیال پیدا ہوا۔ اُسی سال لکھنا شروع کیا اور پانچ سال کی دیدہ ریزی اور محنت کے بعد 1174ھ میں مکمل کیا۔ نام سے اختتام کا سال برآمد ہوتا ہے۔ سندھ کے فارسی گو شعرا پر اس سے پہلے کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ یہ پہلی کتاب ہے جس سے سندھ کے فارسی ادب کی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔ میر صاحب نے اس کتاب میں سندھی کے علاوہ غیر سندھی فارسی شعرا کا تذکرہ بھی کیا ہے جو مختلف ممالک سے ہجرت کرکے سندھ میں سکونت پزیر ہو گئے۔ یہ کتاب لکھ کر میر صاحب نے سندھ اور سندھی ادب پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ مصنف کے ہاتھ کا لکھا ہوا سندھی ادبی بورڈ جامشورو میں موجود ہے اور ایک نسخہ برٹش میوزیم لندن میں محفوظ ہے۔[15]

تاریخ عباسیہ (1175ھ) نثر[ترمیم]

میاں غلام شاہ کلہوڑو نے 1175ھ میر علی شیر کو کلہوڑوں کی تاریخ لکھنے پر معمور کیا۔ معلوم نہیں میر علی شیر کس وجہ سے اسے مکمل نہ کرسکے لیکن ٹھٹہ کے کتب خانوں کی فہرست برٹش میوزیم لندن میں موجود ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کتاب کا زیادہ تر حصہ لکھا جا چکا تھا۔[16]

تاریخ عباسیہ (1175ھ) نظم[ترمیم]

اس کتاب کا نامکمل نسخہ میر علی شیر کے کتب خانہ میں موجود تھا اور اس میں بیس ہزار اشعار تھے۔ غالباً دستور مطابق مذکورہ تاریخ شاہنامہ کی طرز پر اسی بحر میں لکھی گئی ہوگی۔ افسوس ہے کہ ان دونوں کتابوں کے نسخہ تلف ہو گئے ورنہ اس دور پر یہ دونوں تاریخیں مستند ماخذ کا کام دیتیں۔[17]

تحفۃ الکرام (1181ھ)[ترمیم]

مقالات الشعرا کے بعد میر علی شیر نے تحفۃ الکرام نامی دوسری معرکہ آرا کتاب لکھ کر سندھ اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اہل علم لوگوں پر عظیم احسان کیا۔ کتاب تیں جلدوں میں تقسیم ہے۔

پہلی جلد انبیا، حکما، بادشاہ اور خلفائے اسلام کے حالات اورتاریخ میں کے بارے میں ہے۔ مطبوعہ نسخہ مین جو پہلی جلد ہے وہ حقیقت میں "تحفۃ الکرام" کی پہلی جلد نہیں ہے، بلکہ تاریخ "'مراۃ احمدی'" کی دوسری جلد کے 86 صفحات تحفۃ الکرام کے عنوان سے کسی نے چھپوا دیے ہیں۔ مراۃ احمدی 1357ھ میں مطبع فتح الکریم بمبئی میں چھپی، جس کے اسی چھاپے کے 86 صفحوں کو علاحدہ کرکے غالباً اسی مطبع خانہ نے ان پر تحفۃ الکرام کا نام لکھ کر بقایا دونوں جدوں کے ساتھ پیوست کر دیا ہے۔

دوسری جلد کو سات اقالیم میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ایک اقلیم کا تاریخی احوال دے کر، اس کے ہر شہر کو بیان کرنے کے بعد اسی شہر کے مشاہیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ مطبوعہ نسخہ کی دوسری جلد 1304ھ کو غالباً بمبئی سے شائع کیا گیا ہے۔

تیسری جلد حقیقت میں تحفۃالکرام کا نہایت قیمتی حصہ ہے اور سندھ کی تاریخ پر گویا دائرۃ المعارف کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس جلد کی ابتدا میں، سندھ کی تاریخ شروع سے کلہوڑا دور تک بیان کی گئی ہے اور اس کے بعد سندھ کے شہروں کا احوال اور ان میں رہنے والے مشاہر کا تذکرہ ہے۔ آخر میں ٹھٹہ اور ان کے مشاہیر کا مفصل ذکر کیا گیا ہے۔ میر علی شیر تاریخ کے سلسلے میں چچ نامہ، تاریخ معصومی، تاریخ طاہری، بیگلار نامہ اور ترخان نامہ کو ماخذ بنایا ہے۔ البتہ مشاہر کے تذکرہ اور سندھ کے قدیم شہروں کی تاریخ پرجو انہوں نے جو تحقیق کی ہے، وہ قابلِ داد اور بھلائی نہیں جا سکتی۔ اگر میر علی شیر آج سے تقریباً ڈھائی سو سال پہلے یہ مواد مرتب نہ کرتے تو آج مشاہیر کے تذکرے اور سندھ کے شہروں کی تاریخ کے بہت سے پہلو نظروں سے اوجھل ہوتے، بلکہ پوری ثقافتی اور علمی تاریخ گم ہوتی۔ مطبوعہ نسخہ کی تیسری جلد مطبع ناصری دہلی میں شائع ہوا اور اسی سال کا چھپا ہوا ہے جس سال دوسری جلد شائع ہوئی۔ میر صاحب نے 1181ھ میں تحفۃ الکرام کی تیسری جلد مکمل کی۔

مصنف کا دستخطی نسخہ لاہور کے خان بہادر مولوی محمد شفیع صاحب کے پاس موجود ہے اور برٹش میوزیم لندن میں دو نسخے مصنف کے خط میں موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے 1188ھ تک مذکورہ کتاب میں ترمیم واضافہ کیا۔[18]

اعلان غم (1192ھ)[ترمیم]

اس کتاب کا نام ایلیٹ والی فہرست اور لاہور والے تحفۃ الکرام کے سرِ ورق پر بھی میر صاحب کی تصانیف میں اس کا نام ملتا ہے۔ یہ مثنوی کی کتاب ہے اور 1192ھ میں لکھی گئے ہے۔ اس مثنوی میں انبیا کرام کی مصیبتوں اور شہیدان کربلا کی تکلیفوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا کوئی نسخہ نہیں ملا۔[19]

زبدۃ المناقب (1192ھ)[ترمیم]

شاعری کی اس کتاب میں خلفائے راشدین اور حضرات اثنا عشر کے مناقب ہیں۔[20]

مختار نامہ (1194ھ)[ترمیم]

میر علی شیر نے مثنوی کی اس کتاب میں مختار ثقفی کے حالات قلمبند کیے ہیں۔ اس کتاب کا ایک نسخہ سندھی ادبی بورڈ جامشورو میں موجود ہے۔[20]

نصاب البلغا (1198ھ)[ترمیم]

میر علی نے قاموس کی طرز پر یہ کتاب بڑی محنت سے لکھی ہے۔ اس کتاب کے چند عنوانات سے کتاب کے مواد کا اندازہ ہوتا ہے:

  • علم طب و متعلقات
  • اسمائے اعضا
  • اسباب غذا
  • ذکر لحوم
  • کعام
  • اقسام فواکہ
  • آرائش عروس
  • ادوات طبخ
  • لباس نفیس پشمینہ
  • آلات جولاہی
  • نغمات اہل ہند
  • سیاحت و سیر
  • اشجار و نباتات
  • عدد ایام سال فارسی
  • شعر و شاعری
  • آلات درزی و کشیدہ کاری
  • اقسام اچار
  • اقسام حلویات و مالیدہ
  • لوازم ترتیب شہر
  • لوازم شہریت
  • ضوابط علم نجوم
  • لوازم طفل
  • سال عربی
  • حیوانات
  • لوازمات سواری
  • اصطلاحات علوم
  • علم لغت

کتاب 185 صفحات پرباریک شکستہ خط میں ہے۔ کتاب کے عنوانات سے میر علی شیر کی ہمہ گیر معلومات و تحقیق و تجسس کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کتاب کا واحد نسخہ مولانا محمد ابراہیم گڑھی یاسین کے کتب خانہ میں موجود ہے۔[21]

مثنوی ختم السلوک (1199ھ)[ترمیم]

ختم السلوک سے سال تصنیف برآمد ہوتا ہے۔ کل 286 صفحات اورفی صفحہ 15 اشعار ہیں۔ اس مثنوی کا واحد نسخہ میر علی شیر کے اپنے خط میں سندھی ادبی بورڈ جامشورو کی ملکیت ہے۔ کتاب میں ایک مقدمہ، اکیس مقالات اور ایک تتمہ ہے۔[22]

طومار سلاسل گزیدہ (1202ھ)[ترمیم]

اس کتاب میں سندھ کے مشاہیر ِتصوف کے طریقت کے سلسلے بیان کیے گئے ہیں۔ سالِ تالیف مذکورہ نام سے برآمد ہوتا ہے۔ سندھ کے تصوف کی تاریخ کی حیثیت سے یہ صرف اسی کتاب سے معلوم ہو سکتا ہے کہ سندھ کے بزرگوں اور صوفیائے کرام کی طریقت و بعیت کے کیا سلسلے تھے۔ یہ کتاب میر علی شیر نے وفات سے ایک سال قبل لکھی۔ کتاب کا واحد نسخہ مصنف کے خط میں اور مہر کے ساتھ سندھی ادبی بورڈ جامشورو کے پاس موجود ہے۔[23]

شجرہ اطہر اہلبیت (1202ھ)[ترمیم]

نام سے سالِ تالیف برآمد ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا کتب کی طرح یہ کتاب لکھ کر بھی میر علی شیر نے سندھ پر بڑا احسان کیا ہے لیکن افسوس اس کے نسخے تلف ہو گئے اور کہیں بھی دستیاب نہیں۔[23]

معیارِ سالکانِ طریقت (1202ھ)[ترمیم]

میر علی شیر نے تحفۃ الکرام میں سندھ کے بزرگوں، مشاہیر اور صوفیائے کرام کا مجملاً ذکر کیا ہے جس میں مصنف نے اصحابِ تذکرہ کا سال ولادت و وفات یا زمانے کا تعین نہیں کیا ہے۔ اس کمی وکوتاہی کو مصنف نے بھی محسوس کیا اور وفات سے ایک سال قبل یہ تذکرہ (معیارِ سالکانِ طریقت) مرتب کیا جس میں سندھ اور بیرونِ سندھ پانچ سو (500) بزرگوں کے حالات بقیدِ سن و سال یا زمانہ قلمبند کرکے تحفۃ الکرام کی کوتاہیوں کا ازالہ کیا۔ جن بزرگوں کا سال اور زمانہ معلوم نہیں ہو سکا انہیں مصنف نے آخر میں بیان کیا ہے۔ خوش قسمتی سے اس قیمتی کتاب کا ایک نسخہ برٹش میوزیم لندن میں موجود ہے۔[24]

اس کتاب کو تصحیح و مقدمہ و تحشیہ و تعلیقات کے ساتھ ڈاکٹر خضر نوشاہی نے ادارۂ معارف نوشاہیہ سے 2000ء میں اور اردو ترجمہ بھی ڈاکٹر خضر نوشاہی نے کیا اور اسے محکمۂ ثقافت و سیاحت حکومت سندھ نے حال ہی میں شائع کیا ہے۔

بیاض محک الشعرا[ترمیم]

قدیم دستور کے مطابق میر علی شیر نے متقدمین سے لے کراپنے زمانے تک فارسی شعرا کی ہم طرح غزلوں کا انتخاب کیا ہے۔ سندھی ادبی بورڈ میں اس کتاب کے تین نامکمل نسخے خود میر صاحب کے رقم کردہ موجود ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس کتاب کی ضخامت کیا تھی۔[25]

انشائے قانع[ترمیم]

سندھی ادبی بورڈ کی تحویل میں میر عی شیر کی انشاء کا یک نامکمل مجموعہ موجود ہے جو مصنف کے اپنے خط میں ہے۔ مجموعے میں کل 32 صفحات ہیں۔[26]

ناقدین کی آراء[ترمیم]

افغان محقق عبد الحئی حبیبی، میر علی شیر قانع ٹھٹوی کے فن کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

میرقانع ایک توانا مصنف، دقیق مورخ اور فارسی و سندھی زبان کے اچھے شاعر تھے۔ ان کی منزلت اور ان کے علم کا اندازہ ان کی تالیف کردہ کتب اور ان کی کی تالیفات کے تنوع سے لگایا جا سکتا ہے۔ میر قانع فنِ تاریخ گوئی اور صنائع و بدائعِ ادبی میں خاص طور پر مہارت رکھتے تھے ان کے اکثر اشعار ان موارد پر ہیں۔ وہ شاہانِ عصر کے دربار میں اور محافلِ دانش مندان و علماء میں شمعِ فروزاں کے مانند تھے۔ زمانے کے سخنور ہمیشہ ان سے ملاقات کے لیے آتے تھے اور ٹھٹہ میں ان کی قیام گاہ مدتوں تک ادب و سخن سرائی کا مرکز تھی۔ قانع اپنے زمانے کے اکثر علوم و فنون سے آشنا تھے اور گوناگوں موضوعات پر انہوں نے قلم اٹھایا ہے۔ ان کی متنوع علوم میں معلومات ان کی کتابوں کے پڑھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ فنِ لغت، الفاظ کی شناسائی، اور مختلف زبانوں جیسے عربی، فارسی، ترکی، ہندی اور سندھی وغیرہ کی اصطلاحات کے متعلق یہ وسیع معلومات رکھتے تھے۔ ان کی کتاب نصاب البلغاء ایک بڑی لغت ہے جس میں اس طرح کے کئی الفاظ اور اداری، علمی، فنی اور پیشہ ورانہ اصطلاحات جمع کی گئی ہیں۔ مختصراً کہیں تو میر قانع جیسے بافضیلت اور ہنرمند رجال زمانے میں کم ہی زمانے میں نظر آتے ہیں[27]۔

وفات[ترمیم]

میر علی شیر قانع 63 سال کی عمر میں 1203ھ/ 1788ء میں ٹھٹہ میں انتقال کر گئے۔[28]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تحفۃ الکرام (سندھی)،میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 22
  2. تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی، ص 20-21
  3. تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 26-28
  4. تحفۃ الکرام (اردو)،میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 22
  5. تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 41-42
  6. تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 33-36
  7. تحفۃ الکرام (اردو)،میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 27-29
  8. تحفۃ الکرام (اردو)، میرعلی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میرعلی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 24-26
  9. تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 43-45
  10. ^ ا ب پ تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی، ص 46
  11. ^ ا ب تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات، از حسام الدین راشدی، ص 48
  12. ^ ا ب تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی، ص 51
  13. ^ ا ب تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی، ص 52
  14. ^ ا ب پ تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی، ص 53
  15. تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی، ص 53-54
  16. تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی، ص 54
  17. تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی، ص 55
  18. تحفۃ الکرام (سندھی)، میرعلی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی، ص 55-57
  19. تحفۃ الکرام (اردو)، میرعلی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میرعلی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 65
  20. ^ ا ب تحفۃ الکرام (اردو)، میرعلی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میرعلی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 66
  21. تحفۃ الکرام (اردو)، میرعلی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میرعلی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات" از حسام الدین راشدی ص 66-69
  22. تحفۃ الکرام (اردو)، میرعلی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میرعلی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 69
  23. ^ ا ب تحفۃ الکرام (اردو)، میرعلی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میرعلی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات" از حسام الدین راشدی ص 72
  24. تحفۃ الکرام (اردو)، میرعلی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میرعلی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 73-75
  25. تحفۃ الکرام (اردو)، میرعلی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میرعلی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 77
  26. تحفۃ الکرام (اردو)، میرعلی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 2006ء، مصنف میرعلی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی ص 78
  27. میر علی شیر قانع ٹھٹوی - سرزمینِ سندھ کے کثیرالتصانیف فارسی نویس ادیب، از عبدالحئی حبیبی (افغان محقق )، اردو محفل فورم پاکستان
  28. تحفۃ الکرام (سندھی)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1957ء، مصنف میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات از حسام الدین راشدی، ص 71