علی نیمو
| علی نیمو | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1983ء (عمر 42–43 سال) صومالیہ |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | جامعہ برسٹل |
| پیشہ | فعالیت پسند |
| اعزازات | |
| ویب سائٹ | |
| ویب سائٹ | باضابطہ ویب سائٹ |
| IMDB پر صفحہ | |
| درستی - ترمیم | |
نیمکو علی یا علی نیمو (صومالی: Nimco Cali ، عربی: علي نيمو) ایک صومالیہ سے تعلق رکھنے والی سماج کی فعالیت پسند خاتون ہے۔ وہ ایک آزاد تربیتی پروگراموں کی مشیر بھی ہے۔ وہ دختران حوا (ڈاٹرز آف ایو) نام کی غیر منفعتی تنظیم کی معاون بانی اور ڈائریکٹر ہے۔
شخصی زندگی
[ترمیم]نیمو کی پیدائش 1982ء اور 1983ء کے پیچ صومالیہ میں ہوئی۔ جب وہ چار سال کی عمر کو پہنچی، تب اس کا خاندان مانچسٹر، انگلستان منتقل ہو گیا جہاں اس کی پرورش ہوئی۔[2][3]
ثانوی سے آگے کی تعلیم کے لیے نیمو نے یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ، برسٹل میں داخلہ لیا۔[4]
کیریئر
[ترمیم]نیمو نے شروع شروع میں ایک سیول سروینٹ کا کام کیا۔ وہ کئی سال تک خواتین کے حقوق کے لیے ایک فعالیت پسند اور تربیتی مشیر کا بھی کام کیا۔[4]
2010ء میں نیمو نفسیاتی معالج لیلی حسین کے ساتھ مل کر دختران حوا (ڈاٹرس آف ایو) قائم کیا۔[2][5] اس غیر منعفت بخش ادارے کے قائم کرنے کا مقصد جواں سال خواتین اور لڑکیوں کی مدد کرنا، بالخصوص تعلیم فراہم کرنے میں اور خواتین کی ختنہ کے بارے میں بے داری لانے میں۔[6] نیمو خود ایک لرکیی ہونے کے باوجود سات سال کی عمر میں جیبوتی کے ایک اسپتال میں اس تکلیف دہ امر سے گذر چکی ہے جب وہ وہاں چھٹیوں میں اپنے خاندان کے ساتھ آئی تھی۔[2][7] اس کے بعد نیمو بگڑتی صحت کے مرحلہ سے گذری اور اسے بازتعمیری جراحی کا سہارا لینا پڑا۔[8] یہ تجربہ اور کئی لڑکیوں سے ملاقات جو خود مختونات تھیں نیمو کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس رسم مکمل برخاستگی کا مطالبہ کرے۔[2][3]
علاوہ ازیں، نیمو سماجی مہم اینڈ ایف جی ایم سی سوشیل چینج کیمپین کی نیٹ ورک کوآرڈی نیٹر ہے۔ وہ وسیع پیمانے پر جنس پر مبنی قومی حقوق پر لکھ چکی ہے۔[4]
18 اپریل 2015ء کو نیمو نے ایک نوتشکیل شدہ سیاسی جماعت ویمینز ایکوالیٹی پارٹی لے ابتدائی جلسے سے مخاطب ہوئی۔[9]
اعزازات
[ترمیم]2014ء میں نیمو کو برادری / خیرات کا ایوارڈ 2014ء ریڈ میگزین وومن آف دی یر ایوارڈ دختران حوا کے کام کے لیے دیا گیا۔[6]
اسے بااثر خواتین کی گھنٹا وار فہرست 2014ء(Woman's Hour Power List 2014) میں چھٹے مقام پر رکھا گیا۔[5]
سیاسی سرگرمی
[ترمیم]2017ء کے عام انتخابات میں نیمو نے ہارنسے اینڈ ووڈ گرین سے وہ شمالی لندن سے چناؤ لڑی۔ نیمو 551 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جو مجموعی ووٹوں کا 0.8% ہے۔ وہ آٹھ امیدواروں میں پانچویں مقام پر رہی۔ وہ یو کے انڈیپینڈینس پارٹی سے 120 ووٹوں سے آگے رہی۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ https://www.bbc.com/news/world-46225037
- 1 2 3 4 Jane Onyanga-Omara (29 جولائی 2011)۔ "Men 'must help stop female genital mutilation'"۔ بی بی سی۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-02
- 1 2 Linda Poon (5 اگست 2014)۔ "Fighting Genital Cutting Of British Girls: A Survivor Speaks Out"۔ این پی آر۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-02
- 1 2 3 "6. Leyla Hussein and Nimco Ali"۔ بی بی سی۔ 2013۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-02
- 1 2 British Association for Behavioural & Cognitive Psychotherapies (مئی 2014)۔ "Towards ending female genital mutilation" (PDF)۔ CBT Today۔ ج 42 شمارہ 2: 16–17۔ 2014-10-06 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-03
- 1 2 Emma Powell (4 ستمبر 2014)۔ "Lauren Laverne, Sadie Frost and Olivia Inge attend the Red Woman of the Year Awards"۔ لنڈن ایوننگ اسٹینڈرد۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-02
- ↑ Martin Bentham (18 فروری 2013)۔ "Met will prosecute parents who send their girls abroad to be 'cut'"۔ ایوننگ سٹینڈرڈ۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-02
- ↑ Lucy Banneman (13 جنوری 2014)۔ "'It's child abuse that has gone mainstream'"۔ دی ٹائمز۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-02
- ↑ .

