علی پور سیداں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علی پور سیداں ضلع نارووال پنجاب کا ایک مشہور و معروف قصبہ ہے جس کی وجہ شہرت دو صاحب مزار ہستیاں ہیں۔
عالم اسلام میں علی پور سیداں شریف کو منفرد مقام حاصل ہے کیونکہ یہاں پر سادات خاندان کے دو عظیم روحانی بزرگ جو ہم نام بھی ہیں اور ہم عصر بھی ہیں۔ دونوں کا نام سید جماعت علی شاہ ہے دونوں آستانہ عالیہ چورہ شریف کے شہنشاہ باواجی فقیر محمدچوراہی سے فیض یافتہ ہیں اور عرصہ دراز تک اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مخلوق خدا کے دامن مراد کو مالا مال کرتے رہے ہیں۔ دنیا سے پردہ کرجانے کے بعد بھی ان کے آستانے مرجع خلائق ہیں۔ یہ دونوں عظیم ہستیاں خلق خدا کے قلوب میں ایسے نقوش چھوڑ گئے ہیں جو رہتی دنیا تک مٹ نہیں سکتے۔ ان میں ایک امیر ملت حضرت حافظ پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری جنہیں بانی پاکستان کہا جاتا ہے۔ آپ محدث علی پوری۔ ابو العرب اور امیر ملت کے القاب سے عرب و عجم میں معروف ہیں اور دوسرے بزرگ فقیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی کے نام سے عالم اسلام میں پہچانے جاتے ہیں ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان دونوں آستانوں سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ دیگر ممالک میں بھی یاران طریقت کی تعداد کم نہیں ۔[1]
حافظ پیر جماعت علی شاہؒ امیر ملت اور جماعت علی شاہ لاثانی دو الگ الگ شخصیات ہیں۔ دونوں نے ہم عصر ہونے کے علاوہ ایک ہی بزرگ بابا جی فقیر محمد چوراہی کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ ”جماعت علی شاہ صاحب“ لاثانی کی عرفیت سے مشہور ہوئے اور ان کا وصال 1939ء میں ہوا، جبکہ حافظ پیر جماعت علی شاہ صاحب کی ایک پہچان ”محدث علی پوری “قرار پائی اورخلق خدا نے ان کو ”امیر ملت“ کا لقب دیا اور ان کا انتقال 30 اگست 1951ء کو ہوا۔ لاثانی صاحب میدان ”خلوت“ کے شہسوار تھے تو امیر ملت ”جلوت“ کے شہسوار۔ گویالاثانی صاحب گوشہ نشینی کو پسند فرماتے تھے اور سیاست کے لیے تو روزِ روشن میں خلق خدا سے پالا پڑتا ہے۔ امیر ملت حسنی سید تھے ۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]