عمار خان ناصر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عمار خان ناصر10 دسمبر 1975ء کو گوجرانوالہ کے قصبہ گکھڑ میں ملک کے ایک معروف دینی و علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا مولانا محمد سرفراز خان صفدر کو دیوبندی مسلک کا علمی ترجمان سمجھا جاتا ہے جبکہ ان کے والد مولانا زاہد الراشدی ایک نہایت متوازن رویہ رکھنے والے مذہبی اسکالر اور دانش ور کے طور پر معروف ہیں۔ عمار خان ناصر نے ابتدائی مذہبی تعلیم مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں حاصل کی اور 1994ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے روایتی دینی علوم سے باقاعدہ فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد عصری تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور 2001ء میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ 1989ء سے 2000ء تک الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے مجلہ ماہنامہ الشریعہ کے معاون مدیر رہے اور اب اس کے باقاعدہ مدیر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ 1996ء میں امام ابوحنیفہ اور عمل بالحدیث کے نام سے ایک علمی کتاب تصنیف کی۔ ان کے متعدد علمی و تحقیقی مضامین ماہنامہ اشراق لاہور، ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ اور ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حق کے حوالے سے ان کی ایک غیر معمولی علمی تحقیق بھی سامنے آ چکی ہے۔ عمار

خان ناصر، جاوید احمد غامدی سے 1990ء میں متعارف ہوئے اور غیر رسمی استفادے کا سلسلہ 2003ء تک جاری رہا۔ جنوری 2004ء سے المورد سے باقاعدہ وابستہ ہو چکے ہیں اور فکر فراہی کے مختلف علمی پہلووں پر تحقیقی و تصنیفی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اہم مضامین و مقالات حسب ذیل ہیں۔

  • مسجد اقصیٰ ، یہود اور امت مسلمہ
  • ارض فلسطین پر یہود کا حق
  • مسجد اقصی، یہود اور امت مسلمہ ______ تنقیدی آراء کا جائزہ
  • جہاد ______جاوید احمد غامدی کے نقطہء نظر کا تقابلی مطالعہ


حوالہ جات[ترمیم]