عمامہ سرپوش
عمامہ یا پگڑی ایک روایتی سرپوش ہے جو کپڑے کے ایک طویل ٹکڑے کو سر پر خاص انداز میں لپیٹ کر پہنا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی قدیم ترین پوشاکوں میں سے ایک ہے اور مختلف تہذیبوں، خاص طور پر اسلامی، سکھ اور ہندوستانی ثقافت میں اسے انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ عمامہ نہ صرف ایک لباس ہے بلکہ یہ وقار، حکمت اور مذہبی وابستگی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔[1] عمامہ مسلمانوں کے لیے علامتی طور پر اہم مانا جاتا ہے۔[2]
تاریخی پس منظر
[ترمیم]عمامہ کی تاریخ قدیم بین النہرین (Mesopotamia) اور قدیم مصر سے ملتی ہے۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ صحرائی علاقوں میں تپتی دھوپ اور ریت سے بچنے کے لیے کپڑے کو سر پر لپیٹنا ایک ضرورت تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک ثقافتی علامت بن گئی۔قرون وسطی میں یہ عالم اسلام اور ایشیا کے بیشتر حصوں میں اشرافیہ اور علما کا امتیازی نشان بن گیا۔
اسلامی ثقافت میں اہمیت
[ترمیم]اسلامی روایت میں عمامہ کو ایک خاص تقدس حاصل ہے۔ اسے سنتِ نبوی سمجھا جاتا ہے اور نماز و دیگر مذہبی عبادات کے دوران اسے پہننا مستحب قرار دیا گیا ہے۔ مختلف ادوار اور مسالک میں رنگوں کی الگ اہمیت رہی ہے مثلاً سیاہ عمامہ عموماً سادات (اہل بیت کی نسل) سے منسوب کیا جاتا ہے جبکہ سفید اور سبز رنگ بھی کثرت سے مستعمل ہیں۔ عمامہ کے کپڑے کا وہ حصہ جو سر سے نیچے لٹکتا ہے اسے شملہ کہا جاتا ہے جس کا لٹکانا سنت سے ثابت سمجھا جاتا ہے۔ عمامہ کا وہ حصہ جو ٹوپی کی طرح سر کو ڈھانپے رکھتا ہے طاقیہ کہلاتا ہے۔ [3]
علاقائی تغیرات
[ترمیم]برصغیر پاک و ہند میں اسے پگڑی، دستار یا صافہ کہا جاتا ہے۔ راجستھانی اور پنجابی پگڑیاں اپنے مخصوص انداز اور رنگوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ عرب ممالک میں عمامہ کے ساتھ غترہ اور عقال کا امتزاج بھی دیکھا جاتا ہے، یمن اور عمان جیسے علاقوں میں روایتی عمامہ آج بھی ثقافت کا حصہ ہے۔ ایران میں علما کے مخصوص عمامے ان کے علمی مرتبے کی پہچان ہیں۔ شمالی افریقہ کے توارقی لوگ نیلے رنگ کا ایک خاص عمامہ استعمال کرتے ہیں جسے ٹیگلمسٹ (Tagelmust) کہا جاتا ہے جو انھیں صحرا کی دھوپ اور ریت سے بچاتا ہے۔
ساخت اور کپڑا
[ترمیم]عمامہ کے لیے استعمال ہونے والا کپڑا عام طور پر ململ، لٹھا یا ریشم کا ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی کئی میٹر تک ہو سکتی ہے جو باندھنے والے کے انداز اور علاقائی ضرورت پر منحصر ہوتی ہے۔ اسے باندھنے کے پیچیدہ طریقے پیچ کہلاتے ہیں جو اسے ایک فنکارانہ شکل دیتے ہیں۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "Turban History, Types Significance"۔ Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-02-22
- ↑ "ʿAMĀMA – Encyclopaedia Iranica"۔ iranicaonline.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-12-09
- ↑ "عمامه طلبه ها نشانه چیست"۔ مشرق نیوز
