عمرانہ سے جنسی زیادتی کا واقعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عمرانہ جنسی زیادتی واقعہ ایک جنسی حملہ تھا جو 28-سالہ بھارتی مسلمان خاتون پر اس ہی کے سسر نے بتاریخ 6 جون 2005ء کو چرتھاول گاؤں، ضلع مظفرنگر اتر پردیش، بھارت (دہلی سے 70 کلو میٹر) میں کیا تھا۔ گاؤں کے بزرگوں اور بعد میں اسلامی شریعت کے مطابق عمومی نقطہ نظر کے حساب سے عمرانہ کا شوہر سے نکاح فاسد قرار پایا، جیسا کہ شریعت باپ اور بیٹے دونوں کے ساتھ جنسی تعلق پر قدغن لگاتی ہے۔ اس سے ملک بھر میں تنازع پیدا ہو گیا ناقدین نے اعتراض کیا کہ اس واقعے کو بطور زنا کے لیا گیا جب کہ یہ جنسی زیادتی تھی۔[1][2]

جنسی زیادتی اور اسلامی قوانین[ترمیم]

بتاریخ 6 جون 2005ء، عمرانہ، 28 سالہ خاتون اور 5 بچوں کی ماں، اس کو 69 سالہ خسر علی محمد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔[3][4][5][6]


جنسی زیادتی کے بعد جلد ہی، ایک مقامی مسلمان پنچایت (بزرگوں کا اجلاس) نے اس کے شوہر نور الہی کے متعلق فیصلہ دیا کہ اب خسر کی زناکاری کے بعد عمرانہ کی زوجیت بدل گئی اور وہ اپنے خسر کی بیوی ہو گئی۔۔[7] عمرانہ نے پنچایت کے فیصلے کی مخالفت کی اور اپنے شوہر کے ساتھ رہتی رہی۔

معروف اسلامی مدرسے دار العلوم دیوبند نے بھی ایک فتوی[8] یا رائے، جس میں قرآن کا حوالہ 4:23: وَلَا تَنۡكِحُوۡا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمۡ، “اور ان سے نکاح مت کرنا جن سے تمہارے باپ نے نکاح کیا” اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کی بیوی کے ساتھ زنا کیا اور گواہوں کی گواہی سے یہ فعل ثابت ہو جائے یا اس کا بیٹا اس کی تصدیق کرے یا خود وہ اقرار کرے تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔[9] پنچایت کے فیصلہ دینے کے بعد بھی عمرانہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگی اور اس فتوی کو رد کر دیا جو بطور اسلامی حکم کے اسے دیا گیا کہ وہ اب اپنے شوہر کی بیوی نہیں رہی۔ فتوی نے گاؤں کی پنچایت کی حمایت کی، جس میں اس بات کو یکسرنظر انداز کیا گیا جو سسر کی طرف سے بہو کے ساتھ زبردستی کا معاملہ تھا اور یوں اسلامی تعلیمات کے غیر معمولی امتیاز کو پیش نظر نہیں رکھا گیا، جو زنا اور جنسی زیادتی میں رکھا جانا چائیے۔[10]

یہ فتوی ابو حنیفہ کی فقہ (حنفی فقہ) کی بنیاد پر تھا، جس میں کس شخص کا کسی خاتون کے ساتھ جنسی تعلقات کی وجہ سے شادی کا حکم ہے۔ دیگر تین فقہی مکاتب فکر، فقہ مالکی، شافعی اور حنبلی، نے اس کو رد کیا۔[11][12] آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے عمومی فتوے کو نام لے کر عمرانہ کے واقعے سے جوڑ دیا اور اس کی حمایت کر دی،[13] لیکن حنفی اور شافعی آرا میں بٹ گئے،[11]یہ دو سنی فقہی مکاتب فکر ہیں جن پر بھارتی مسلمانوں کی اکثریت عمل کرتی ہے۔

بعد ازاں، مدرسہ دیوبند نے انکار کیا کہ اس نے ایسا کوئی فتوی جاری کیا۔

سسر کی گرفتاری[ترمیم]

پولیس محمد علی کو تعزیرات ہند کی دفعہ 376 (جنسی زیادتی/عصمت دری) اور دفعہ 506 (مجرمانہ دھمکیاں) کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے اس کے خلاف 30 جون 2005ء کو ایک مقدمہ طبی جانچ کے ساتھ دائر کیا اور مجسٹریٹ کے سامنے عمرانہ کا بیان قلمبند کیا گیا۔ عدالت نے 5 دسمبر 2005ء کو محمد علی کی درخواست ضمانت رد کر دی۔

خط زمانی[ترمیم]

عمرانہ کے ساتھ جنسی زیادتی واقعے کا خط زمانی:

  • 6 جون 2005: محمد علی نے اپنی بہو عمرانہ سے جنسی زیادتی کی۔
  • 13 جون 2005: مقامی مسلمان پنچایت نے عمرانہ کے نکاح کے باطل ہو جانے کا فیصلہ دیا کیوں کہ اس کے اپنے سسر کے ساتھ "جنسی تعلق" قائم ہوا اور اسے اپنے شوہر کو اپنے بیٹے کے طور پر برتاؤ کرنے کا کہا۔ یعنی وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رے گی۔
  • 13 جون 2005: محمد علی گرفتا ہوا۔
  • 16 جون 2005: محمد علی کو عدالتی تحویل میں دے دیا گیا۔
  • 30 جون 2005: پولیس نے محمد علی کی طبی جانچ کے ساتھ مقدمہ درج کر لیا۔ عمرانہ نے اپنا پہلا بیان مجسٹریٹ کو قلم بند کرایا۔
  • 5 دسمبر 2005: عدالت نے محمد علی کی درخواست ضمانت رد کر دی۔
  • 30 دسمبر 2005: محمد علی پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔
  • 19 اکتوبر 2006: عدالت نے محمد علی کو عمرانہ سے جنسی زیادتی پر 10 سال قید سنا دی۔ اس کو 3 سال کی سزا مجرمانہ دھمکیوں پر بھی سنائی گئی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Let's be fair to عمرانہ"۔ Expressindia.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-22۔
  2. "طاہر محمود، The legal fiction behind the controversy"۔ Tehelka.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "T.A. Rahamani, The Imrana case, published by the Milli Gazette"۔ Milligazette.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-22۔
  4. "Imrana on video - no rape"۔ Milligazette.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-22۔
  5. Press Trust of India (20 اکتوبر 2006)۔ "'No leniency could be shown in Imrana's case'"۔ Indian Express۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-09-29۔
  6. "DNA - India - Ali Mohammad found guilty of raping Imrana"۔ Daily News & Analysis۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-22۔
  7. "جو کچھ بھی ہوا۔۔۔ عمرانہ"۔ تہلکہ۔ 22 ستمبر 2007۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-09-29۔
  8. "عمرانہ کے سوال اور فتوے کا متن"۔ ملی گزٹ۔ 8 جولائی 2005۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-09-29۔
  9. راشٹریہ سہارا ،31 جولائی 2005ء
  10. "عمرانہ کے لیے لڑائی"۔ Hinduonnet.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-22۔
  11. ^ ا ب رشید قدوائی (29 جون 2005)۔ "عمرانہ جنسی زیادتی splits Muslim board"۔ دی ٹیلی گراف۔
  12. Sharique (19 اکتوبر 2006)۔ "عمرانہ case update"۔
  13. Aditi Bhaduri (2007-09-24)۔ "Muslim Women in India Seek Secular Justice"۔ womensnews.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]