عمران خان کی تقریب حلف برداری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمران خان کی تقریب حلف برداری
Imran Khan sworn in as Prime Minister.jpg
صدر مملکت ممنون حسین، عمران خان سے وزیر اعظم پاکستان کے عہدے کا حلف لے رہے ہیں۔
تاریخ اگست 18، 2018؛ 11 مہینہ قبل (2018-08-18)
مقام

ایوان صدر
اسلام آباد

33°43′56″N 73°05′54″E / 33.73222°N 73.09833°E / 33.73222; 73.09833متناسقات: 33°43′56″N 73°05′54″E / 33.73222°N 73.09833°E / 33.73222; 73.09833
شرکا وزیر اعظم پاکستان، عمران خان
حلف اٹھانے والے
صدر پاکستان، ممنون حسین
حلف لینے والے
عمران خان کو گارڈ آف آنر پیش کیا جا رہا ہے۔

18 اگست 2018ء کو پاکستان کے بائیس ویں وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری اسلام آباد کے ایوان صدر میں منعقد ہوئی۔[1] تقریب کے اختتام کے بعد عمران خان وزیر اعظم ہاؤس پہنچے جہاں انہیں فوجی سلامی دی گئی۔[2][3]

پس منظر[ترمیم]

25 جولائی 2018ء کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔ ان انتخابات میں اسے 116 نشستیں حاصل ہوئیں۔[1] نیز نو آزاد سیاست دان نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کر لیا اور خواتین و اقلیتوں کے لیے اٹھائیس مخصوص نشستیں بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہو گئیں۔ یوں عمران خان کو 342 نشستوں میں سے 158 نشستیں حاصل ہوئیں۔[4]

مزید برآں پاکستان مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سات، بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے چار، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے تین ارکان اور عوامی مسلم لیگ پاکستان اور جمہوری وطن پارٹی کے ایک ایک رکن کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔ ان سب کے بعد عمران خان کا وزیر اعظم بننا تقریباً طے تھا۔[5] 13 اگست کو اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام منتخب اراکین نے پارلیمانی حلف اٹھایا۔[6]

17 اگست 2018ء کو عمران خان 176 ووٹوں سے کامیابی پا کر پاکستان کے بائیس ویں وزیر اعظم قرار پائے، جبکہ حزب مخالف کے رہنما شہباز شریف کو 96 ووٹ ملے۔[7] یہ اجلاس دوپہر بعد ساڑھے تین بجے طلب کیا گیا تھا جس میں کھلی رائے شماری ہوئی اور اراکین اسمبلی نے وزیر اعظم کو منتخب کیا۔[5]

مذکورہ اجلاس سے قبل عمران خان کی قیام گاہ بنی گالا میں تحریک انصاف کی متعدد مشاورتیں بھی ہوتی رہیں جن کا مقصد کابینہ کے ليے انتہائی موزوں ارکان کا انتخاب تھا۔[1]

تقریب[ترمیم]

عمران خان اور بشریٰ خان تقریب حلف برداری میں

تقریب کا آغاز ایوان صدر، اسلام آباد میں پاکستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 30 منٹ پر ہوا مگر تھوڑی دیر بعد دس بجے شروع ہوئی۔[8] تقریب میں شرکت کے لیے عمران خان نے سیاہ رنگ کی سادہ شیروانی زیب تن کی تھی۔ ان کی زوجہ اور پاکستان کی موجودہ خاتون اول بشریٰ بی بی بھی اس تقریب میں شریک تھیں۔ اس دوران میں انہوں نے سفید عبایہ پہن رکھا تھا[9] اور حاضرین کی پہلی صف میں[10] قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے بغل میں براجمان رہیں۔[11]

حلف برداری کے بعد روایتی پکوانوں کی جگہ ہلکی پھلکی اشیا سے حاضرین کی ضیافت کی گئی جو عمران خان کی سادگی پسندی کا اثر معلوم ہوتی تھی۔ ضیافت کا یہ دور ایوان صدر کے بڑے ہال میں انجام پایا۔[12]

مہمان[ترمیم]

اس تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے بیرون ملک سے بھارتی کرکٹ کھلاڑی نوجوت سنگھ سدھو کو مدعو کیا گیا تھا جو واہگہ بارڈر کی راہ سے پاکستان پہنچے اور تقریب میں شرکت کی۔[1] سنہ 1992ء میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے متعدد اراکین بشمول رمیز راجہ، وسیم اکرم، مشتاق احمد، انضمام الحق بھی اس تقریب میں شریک تھے۔[13]

ستارے جنہوں نے تقریب میں شرکت کی ان میں اداکارہ جاوید شیخ اور گلوکاروں میں سلمان احمد اور ابرار الحق شامل تھے۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت "Elected Pakistan PM, Will Take Oath on 18 اگست"۔ دی قوینٹ۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018۔
  2. نادر گرامانی۔ "Prime Minister Imran Khan: PTI chairman sworn in as 22nd premier of Pakistan"۔ ڈان۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018۔
  3. "Imran sworn in as 22nd prime minister"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018۔
  4. "PTI's number of seats in NA rises to 158"۔ دی نیشن۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018۔
  5. ^ ا ب "PTI's victory a forgone conclusion"۔ ڈیلی ٹائمز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018۔
  6. سید علی شاہ؛ فہد چودھری؛ جاوید حسین؛ عارف حیات۔ "328 MNAs sworn in to 15th National Assembly"۔ ڈان۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018۔
  7. "PTI chief Imran Khan elected prime minister of Pakistan"۔ جیو نیوز۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اگست 2018۔
  8. ^ ا ب "Prime Minister Imran Khan: PTI chairman sworn in as 22nd premier of Pakistan"۔ ڈان۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. "More concerned than happy over Imran becoming PM: Bushra Bibi"۔ جیو نیوز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. "Bushra Imran steals the show at PM's oath-taking ceremony"۔ دی نیوز انٹرنیشنل۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. "Twitter swoons over PM Imran Khan's sherwani from oath-taking ceremony"۔ ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  12. "Imran Khan Takes Oath in Pakistan, a Nation Divided and in Debt"۔ دی نیویارک ٹائمز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  13. دانیال رسول۔ "Imran Khan sworn in as Pakistan prime minister"۔ ای ایس پی این کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔