عمران خان کی وزارت عظمی کے پہلے سو دن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عمران خان کی وزارت عظمی کے پہلے سو دنوں کا آغاز 18 اگست 2018ء کو ان کے بحیثیت بائیسویں وزیر اعظم پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھانے سے ہو چکا ہے۔ان کی جماعت نے انتخابات سے پہلے سو دنوں کے ایک لائحہ عمل کا اعلان کیا تھا اور اسی وجہ سے ان کی حکومت کے یہ اولین سو دن ایک علامتی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اور ان سو دنوں کو ان کی سرکار کی ابتدائی کامیابیوں کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

پس منظر[ترمیم]

انتخابات سے کچھ ہی دن پہلے ان کی جماعت نے اپنی مستقبل کی حکومت کے پہلے سو دنوں کے لائحہ عمل کا اعلان کیا تھا۔اس منصوبے میں جنوبی پنجاب کا نیا صوبہ بنانا، ناراض بلوچ سرداروں سے دوبارہ مذاکرات ، کراچی کی تعمیر و ترقی، غربت کے خاتمے اور معیشت کی مجموعی بحالی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ اس منصوبے میں فاٹا کی تعمیر و ترقی کے لیے جامع حکمت عملی شامل ہے جس کے مطابق تمام صوبے اپنے حصے سے تین فیصد اس مد میں عطیہ کریں گے۔ نو تخلیق شدہ صوبے جنوبی پنجاب کو مکمل خود مختاری دی جائیگی، اسے زرعی مرکز بنایا جائیگا، خصوصی مالی مراعات دی جائینگی اور صنعت خوراک کے قیام سے نوجوانوں کو روزگار مہیا کیا جائیگا۔ بلوچستان کے لیے ملازمتوں کےمخصوص کوٹے کےنفاذ کا وعدہ کیا گیا۔ وفاقی حکومت چھ نکاتی ایجنڈے کی تکمیل کے بعد کراچی کے لیے ایک ترقیاتی پیکج کا اعلان کرے گی جس میں قانون اور امن و امان کی بحالی، مقامی حکومت کو مضبوط بنانے اور چاءینا کٹنگ مافیا کے خلاف آپریشن، ہاؤسنگ کے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، عوامی نقل و حمل کے نظام کی ترتیب نو اور سیاسی جماعتوں کے عسکریت پسند بازووں کا خاتمہ شامل تھا۔ ملک کی مجموعی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ 10 ملین ملازمتیں پیدا کی جائیں گی، مینوفیکچرنگ شعبے کو دوبارہ بحال کیا جائے گا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بہ سرعت فعال کیا جائے گا اور نجی شعبے کو پانچ ملین گھروں کی تعمیر میں مدد ملے گی۔ ٹیکس انتظامیہ کی اصلاح، سیاحت میں اضافہ، ریاستی ملکیت کے اداروں کی ہیئت میں تبدیلی اور توانائی کے چیلنجوں پر قابو پانے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ زراعت کے شعبے کو بہتر بنانے کے منافع بخش منصوبوں اور کسانوں کے لیے مالی امداد تک رسائی کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ کسانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی مراعات ، مویشی بانی کے شعبے کی ترقی اور پیداوار کی مارکیٹوں کو رسائی کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گیا۔ قومی پانی و آبپاشی کی پالیسی بہتر اور مزید موثر جائے گی۔ اس منصوبے کےتحت ، یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ قومی سلامتی کو چار قومی سیکورٹیاداروں کی تخلیق کی ذریعے بحال کیا جائے گا۔[1][2][3]

سو دن کی کارکردگی[ترمیم]

پہلا ہفتہ[ترمیم]

  • پہلا دن (18 اگست 2018ء): انہوں نے وزارت عظمی کا حلف اٹھایا اور اپنی اکیس رکنی کابینہ اور ان کی وزارتوں کا اعلان کیا۔[4][5] انہوں نے محمد اعظم خان کو اپنا سیکریٹری مقرر کیا۔[6] اور اسی دن انہوں نے عارف علوی کو اگلا صدر پاکستان نامزد کیا۔[7]
  • دوسرا دن (19 اگست 2018ء): انہوں نے ٹیلی ویژن پر قوم سے رسمی خطاب کیا جسے روایتی افتتاحی خطاب کہا جاتا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے اپنی حکومت کے ایجنڈے اور ترجیحات کا ذکر کیا اور سادگی اپنانے کے کئی ایک اقدامات کا ذکر بھی کیا جن میں ایوان وزیر اعظم کے ملازمین اور گولی روک گاڑیوں میں کمی، ایوان وزیر اعظم کی جامعہ میں تبدیلی، ایوان ہائے گورنر کی مقامات مفاد عامہ میں تبدیلی کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے سابقہ وزرائے اعظم کے بیرون ملک دوروں اور ان پر اٹھنے والے اخراجات پر کڑی تنقید کی۔ (اس سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ وہ ان میں کمی کریں گے)۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ملک میں بچوں کی ایک بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے اور سابقہ حکمران قومی خزانہ اپنی عیاشیوں پر خرچ کرتے رہے۔[8] انہوں نے اعلان کیا کہ وہ سابق انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختون خواہ ناصر درانی کو پنجاب حکومت میں پولیس کے مشیر کی حیثیت سے تعینات کریں گے تاکہ وہ پنجاب پولیس میں بھی خیبر پختون خواہ پولیس جیسی اصلاحات کر سکیں۔[9]
  • تیسرا دن (20 اگست 2018ء): ان کی کابینہ نے حلف اٹھا لیا[10] اور ان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا کہ خان نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ بیرون ملک سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے اقدامات کریں۔اسد عمر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سٹیل اور پی آئی اے کے ملازمین کو نہیں نکالا جائے گا کیونکہ ان کا ان اداروں کے خسارے میں کوئی کردار نہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بانڈ فروخت کرے گی۔[11] خان نے نیب کے ایک سابق افسر مرزا شہزاد اکبر کو احتساب کے مواملات کے لیے اپنا خصوصی نائب مقرر کیا۔[12] عمران خان کی کابینہ کے وزیر شفقت محمود نے تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کے بارے میں مشاورت اور تجاویز کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ عمران خان نے احسان مانی کو نجم سیٹھی کی جگہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین تعینات کیا۔[13] انسداد بدعنوانی کے ضمن میں ان کی کابینہ نے نواز شریف اور مریم نواز کے نام فہرست نگرانی خروج (ECL) میں ڈالنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں۔ کابینہ نے اسحاق ڈار اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں حسین اور حسن کو بھی واپس لانے کی منظوری دی تاکہ وہ اپنے اوپر قائم شدہ مقدمات کا سامنا کریں اور انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ [14] کابینہ نے اسحاق ڈار اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں حسین اور حسن کو بھی واپس لانے کی منظوری دی تاکہ وہ اپنے اوپر قائم شدہ مقدمات کا سامنا کریں اور انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ کابینہ نے یہ بھی طے کیا کہ عمران خان کے افتتاحی خطاب میں اعلان کردہ اقدامات پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ملازمین کو وزیر اعظم ہاؤس سے نکال کر کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔
  • چوتھا دن (21 اگست 2018): کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی دس سالہ رپورٹ پڑھنے کے بعد اعلان کیا کہ وہ سی ڈی اے میں کرپشن کو ختم کریں گے انہوں نے پانی کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی احکامات جاری کیے۔
  • پانچواں دن (22 اگست 2018):وزیر اعظم عمران خان نے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بھارت کو امن مذاکرات کی پیشکش کی تاکہ خطے میں باہمی تجارت اور عمومی صورت حال کو بہتر بنایا جاسکے . انہوں نے مزید کہا، کہ آگے بڑھنے کا واحد ذریعہ بات ۔چیت ہی ہے
  • چھٹا دن (23 اگست 2018): خان نے کیرالا میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کی ہیشکش کی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو پنجاب پولیس کے طور طریقوں میں تبدیلی لانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عامر وسیم۔ "Imran unveils ambitious agenda for first 100 days of govt"۔ dawn.com۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 اگست 2018۔
  2. "PTI unveils 'first 100 days' action plan"۔ دی نیشن۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018۔
  3. "PTI unveils agenda for first 100 days in power – Daily Times"۔ ڈیلی ٹائم۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018۔
  4. "Imran Khan Takes Oath in Pakistan, a Nation Divided and in Debt"۔ nytimes.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018۔
  5. پی ٹی آئی۔ "Imran Khan announces 21-member cabinet"۔ www.khaleejtimes.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018۔
  6. "Azam Khan appointed secretary to PM"۔ دی نیشن۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اگست 2018۔
  7. "Arif Alvi nominated for president's post by PTI | The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اگست 2018۔
  8. "Complete text of Imran Khan's maiden speech"۔ thenews.com.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018۔
  9. جاوید عزیز خان۔ "Nasir Durrani agrees to reform Punjab Police"۔ Thenews.com.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-08-21۔
  10. ڈان۔ "16 ministers from PM Imran Khan's cabinet sworn in"۔ dawn.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018۔
  11. "PM Imran has ordered to bring back laundered money: Umar"۔ geo.tv۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018۔
  12. "Ex-NAB official appointed as PM's assistant on accountability"۔ thenews.com.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018۔
  13. "First 100 days: PM Khan chairs first meeting of federal cabinet – The Express Tribune"۔ tribune.com.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018۔
  14. "Nawaz Sharif, daughter cannot leave Pakistan: Imran Khan-led government decides"۔ دی اکنامک ٹائمز۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2018۔