عمران خان کی کابینہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمران خان کی وزارت
Flag of Pakistan.svg
پاکستان کی کابینہ
2018-موجود
Imran Khan Official Portrait.jpg
عمران خان کی بطور وزیر اعظم باضابطہ تصویر (2018ء)
تاریخ تشکیل 20 اگست 2018ء
افراد اور تنظیمیں
سربراہ حکومت عمران خان
صدر ریاست عارف علوی (2018ء - تاحال)
ممنون حسین (2013ء - 2018ء)
رکن جماعت پاکستان تحریک انصاف
اتحادی جماعتیں:
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان
بلوچستان عوامی پارٹی
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس
عوامی مسلم لیگ پاکستان
بلوچستان نیشنل پارٹی
پاکستان مسلم لیگ
جمہوری وطن پارٹی
آزاد
مقننہ میں کثیر الجماعتی اتحاد
حزب اختلاف پاکستان مسلم لیگ
قائد حزب اختلاف شہباز شریف
تاریخ
انتخابات 2018ء
مقننہ کی مدت پندرہوں مجلس شوریٰ پاکستان
پیشرو ناصر الملک کی نگراں وزارت

عمران خان کی کابینہ عمران خان کی حکومت ہے جو ان کے وزیر اعظم پاکستان منتخب ہونے کے بعد بنی۔ 20 اگست 2018ء کو عمران خان کی ابتدائی 16 رکنی کابینہ نے حلف اٹھایا تھا جبکہ اسی دن 5 مشیروں کے بھی اعلان نامے جاری کیے گئی، جس کے بعد یہ تعداد 21 ہو گئی تھی۔[1] بعد ازاں شہریار خان آفریدی کو شامل کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ کا قلمدان سونپا گیا۔[2] اور 6 نئے وزرا اور وزرائے مملکت کے بعد وفاقی کابینہ کی کُل تعداد 28 ہو گئی ہے۔

کابینہ[ترمیم]

وفاقی وزرا
نام جماعت عہدہ قلمدان سنبھالا
عمران خان پاکستان تحریک انصاف وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر مواصلات 18 اگست 2018
خسرو بختیار پاکستان تحریک انصاف وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات 20 اگست 2018
فروغ نسیم متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) وزیر قانون و انصاف 20 اگست 2018
شفقت محمود پاکستان تحریک انصاف وزیر تعلیم اور قومی ورثہ 20 اگست 2018
طارق بشیر چیمہ پاکستان مسلم لیگ (ق) وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس 6 ستمبر 2018
خالد مقبول صدیقی متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات 20 اگست 2018
نور الحق قادری پاکستان تحریک انصاف وزارت مذہبی امور 20 اگست 2018
فہمیدہ مرزا گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس وزیر بین الصوبائی رابطہ 20 اگست 2018
شریں مزاری پاکستان تحریک انصاف وزیر انسانی حقوق 20 اگست 2018
شیخ رشید احمد عوامی مسلم لیگ وزیر ریلوے 20 اگست 2018
غلام سرور خان پاکستان تحریک انصاف وزیر پیٹرولیم 20 اگست 2018
اسد عمر پاکستان تحریک انصاف وزیر خزانہ 20 اگست 2018
زبیدہ جلال بلوچستان عوامی پارٹی وزیر دفاعی پیداوار 20 اگست 2018
پرویز خٹک پاکستان تحریک انصاف وزیر دفاع 20 اگست 2018
فواد چودھری پاکستان تحریک انصاف وزیر اطلاعات و نشریات 20 اگست 2018
شاہ محمود قریشی پاکستان تحریک انصاف وزیر خارجہ 20 اگست 2018
عامر محمود کیانی پاکستان تحریک انصاف وزیر صحت 20 اگست 2018
علی زیدی پاکستان تحریک انصاف وزیر ساحلی امور 11 ستمبر 2018
عمر ایوب خان پاکستان تحریک انصاف وزیر پاور 11 ستمبر 2018
علی محمد مہر پاکستان تحریک انصاف اعلان ہوگا 11 ستمبر 2018
وزرائے مملکت
نام جماعت عہدہ قلمدان سنبھالا
شہریار خان آفریدی پاکستان تحریک انصاف داخلہ 28 اگست 2018
حماد اظہر پاکستان تحریک انصاف محصولات 11 ستمبر 2018
مراد سعید پاکستان تحریک انصاف ریاستی و سرحدی امور 11 ستمبر 2018
محمد شبیر علی پاکستان تحریک انصاف اعلان ہوگا 11 ستمبر 2018
وزیر اعظم کے مشیران
نام الحاق عہدہ مدت
محمد شہزاد ارباب پاکستان تحریک انصاف، ٹیکنوکریٹ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن 20 اگست 2018
عبد الرزاق داؤد ٹیکنوکریٹ تجارت، ٹیکسٹائل، صنعتی پیداوار 20 اگست 2018
ملک امین اسلم پاکستان تحریک انصاف، ٹیکنوکریٹ ماحولیاتی تبدیلی 20 اگست 2018
عشرت حسین ٹیکنوکریٹ ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری 20 اگست 2018
بابر اعوان پاکستان تحریک انصاف پارلیمانی امور 20 اگست 2018 - 4 ستمبر 2018
عمران خان کی کابینہ کا مجموعہ
جماعت نمبر شمار
پاکستان تحریک انصاف
18
متحدہ قومی موومنٹ
2
بلوچستان عوامی پارٹی
1
پاکستان مسلم لیگ
1
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس
1
عوامی مسلم لیگ
1
مشیر
4

تجزیہ[ترمیم]

عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی کابینہ کا اعلان کیا، انہوں نے داخلہ اور توانائی کی وزارتیں خود رکھیں۔ وزرا کے چناؤ کے معاملے میں عمران خان پر تنقید کی گئی کہ انہوں نے انتخابات تبدیلی اور نئے پاکستان کے نعروں سے جیتا مگر ان کے منتخب کیے گئے بیشتر وزرا پرویز مشرف اور کچھ پاکستان پیپلز پارٹی (جو مشرف کے بعد حکومت میں آئی تھی) کے دورِ حکومت میں بھی وزیر تھے۔[3][4] مختصر یہ کہ انہوں نے تبدیلی اور نئے پاکستان کے نعرے لگائے مگر وزرا پرانے ہی رکھے، سوائے چند ایک کے۔

کابینہ کا سب سے اہم وزارت خزانہ کا قلمدان پاکستان تحریک انصاف کے نظریاتی رکن اسد عمر کو سونپا گیا۔ دوسرا اہم وزارت خارجہ کا قلمدان عمران خان نے شاہ محمود قریشی کو سونپا، اس سے قبل وہ مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں بھی وزیر خارجہ کے طور پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ وزارت دفاع کا قلمدان خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے حصے میں آیا۔ وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان فواد چودھری کو سونپا گیا۔ انصاف و قانون کی اہم وزارت متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر فروغ نسیم کو سونپی گئی، ان کا تعلق کراچی سے ہے۔ شیخ رشید احمد کو ریلوے کی وزارت ملی، وہ مشرف دور میں بھی وزیر ریلوے کے طور پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ زبیدہ جلال خان کو عمران خان نے دفاعی پیداوار کی وزارت سونپی، ان کا تعلق بلوچستان کے علاقے چاغی سے ہے۔ فہمیدہ مرزا کو بین الصوبائی رابطے کی وزارت ملی، وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی وزارت شیریں مزاری کو ملی۔ شفقت محمود کو عمران خان نے تعلیم اور قومی ورثے کی وزارت سونپی۔ خالد مقبول صدیقی کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات کی وزارت ملی، ان کا تعلق کراچی سے ہے۔ عامر محمود کیانی کو وزارت صحت قلمدان سونپا گیا۔ طارق بشیر چیمہ کو ریاستی و سرحدی امور کی وزارت دی گئی، وہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں بھی ایک وزیر رہے۔ وزارت مذہبی امور کا قلمدان نور الحق قادری کے حصہ میں آیا، وہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں وفاقی وزیر برائے زکوۃ و عشر تھے۔ غلام سرور خان کو پیٹرولیم کی وزارت ملی، وہ مشرف دور میں بھی ایک وزیر رہ چکے ہیں۔ خسرو بختیار کو آبی وسائل کی وزارت ملی، وہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے دورِ حکومت میں وزیر خارجہ امور بھی رہ چکے ہیں۔[5] بابر اعوان بھی پی پی پی حکومت میں وزیر قانون و انصاف تھے۔[6] مشرف کی حکومت میں ملک امین اسلم اسی عہدے پر فائز تھے۔[7] عبد الرزاق داؤد بھی مشرف دور میں وزیر تجارت تھے۔[8] مشرف نے اپنے عہد میں عشرت حسین کو گورنر بینک دولت پاکستان مقرر کیا تھا۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "پاکستان کی نئی وفاقی کابینہ کے 16 وزیروں نے حلف اٹھا لیا"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "شہریار آفریدی نے وزیر مملکت برائے داخلہ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا"۔ جیو نیوز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "PM Imran Khan's first cabinet anything but 'Naya Pakistan' - Pakistan Today"۔ www.pakistantoday.com.pk۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  4. ڈان۔ "PM Imran Khan finalises names of 21-member cabinet"۔ dawn.com۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018۔
  5. فراز ہاشمی۔ "عمران کی کابینہ میں تبدیلی کا عنصر ناپید"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "ڈاکٹر بابر اعوان"۔ پاکستان ہیرالڈ۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2013۔
  7. "PTI fields Pervez Musharraf's loyalists of the past"۔ www.thenews.com.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018۔
  8. "Dawood calls for lasting solution to debt problem"۔ ڈان (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2017۔
  9. "Reformer-in-chief: In conversation with Dr Ishrat Husain"۔ ہیرالڈ میگزین۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-01-04۔